ہم سب کے بوڑھے بابا مدیر سے معذرت


گزشتہ مضمون میں پچاس ساٹھ سال کی عمر کے لئے ”بوڑھا بابا“ کہنے پر ہم سب کے محترم مدیر کی جانب سے میری اصلاح کی گئی کہ پچاس ساٹھ سال کی عمر میں بوڑھا بابا کی بجائے ادھیڑ عمر کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا۔ محترم مدیر کی جانب سے جنبش قلم سے جہنم واصل کرنے کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی۔

جناب عالی۔ سب سے پہلے تو اس گستاخی پر معذرت قبول فرمائیں۔ آپ کو ناگوار گزرنا لازم تھا کیونکہ پچاس ساٹھ سال میں بوڑھا ہوجانا یا کہلایا جانا واقعی قابل اعتراض ہے۔

گاؤں سے تعلق ہونے کی بناء پر ایسے کئی بزرگ دیکھے جنہوں نے زندگی کے سو سال مکمل کیے ۔ میرے اپنے دادا جی (اللہ پاک ان کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائیں ) سو سے زائد بہاریں دیکھنے کے بعد جہان فانی سے رخصت ہوئے۔

مگر حالیہ ایک تحقیق کے مطابق جنوبی ایشاء بالخصوص پاکستان بھارت اور دیگر ممالک میں اوسط عمر بتدریج کم ہورہی ہے۔ اس وقت ہمارے ہاں اوسط عمر ساٹھ سے ستر سال ہے۔ اس لحاظ سے تو پچاس ساٹھ سال میں آدمی بوڑھا بابا ہی کہلاتا ہے۔

آرام پرستی، سستی، کھیلوں اور ورزش سے دوری، نا مناسب خوراک، جنک فوڈ کا استعمال، موبائل فون اور ٹی وی کمپیوٹر کو ہی زندگی کا معمول بنالینے سے ہمارے ہاں اوسط عمریں کم ہوئی ہیں۔ جو انتہائی خطرناک ہے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے آنے والی نسلوں کے لئے بھی۔

رہی سہی کسر سگریٹ اور منشیات کے استعمال نے پوری کردی۔ ہم ہزارہا کوششوں کے باوجوس منشیات کا استعمال روک نہیں پائے۔ سگریٹ نقصان دہ ہے یہ جاننے کے باوجود ہم دھڑلے سے اپنے پیسوں اور اپنی صحت کو دھوئیں میں اڑا رہے ہیں۔

اپنے ارد گرد دیکھیں ہم میں سے کتنے فیصد ایسے لوگ ہیں جو روزانہ صبح کے وقت جاگنگ اور ایکسرسائز کرنے نکلتے ہیں۔ یا شام کی سیر کو اپنا معمول بنائے ہوئے ہیں۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کو اپنے بڑھتے وزن کی فکر ہے۔ جلدی بوڑھا ہوجانے کے پیچھے سب سے بڑی سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آپ خود سے مطمئن ہوگئے اور پھر آرام دہ زندگی کی جانب بڑھنے لگے۔

مختلف شہروں میں نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ترقی کا سفر طے کرتے کرتے ہم کھیلوں کے میدان سے بہت دور نکل گئے۔ ہمارے منصوبہ جات میں کھیل کی میدان ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ سڑکیں کشادہ ہوئیں تو کھیل کے میدان بھی سڑکوں کا حصہ بن کر رہ گئے۔ بچے اب انہی سڑکوں پر ہی کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ جب کھیل کے میدان آباد نہیں ہوں گے تو ہسپتالوں پر اضافی بجٹ لگانا پڑے گا۔

نظر دوڑائیں اور دیکھیں کتنے فیصد لوگ سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔ بلکہ سائیکل کو اب غریب کی سواری کا نام دے دیا گیا ہے۔ جس پر سفر کرنا امراء میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ چاہے وہ نوکرئی سے ریٹائرمنٹ کی ہو یا پھر صحت سے ریٹائرمنٹ کی۔ اگر آپ صحت مند نہیں تو پیسہ کس کام کا، یہ ترقی کس کام کی، لمبی اور صحت مند زندگی جینی ہے اور خود کو بوڑھا بابا نہیں کہلوانا تو اس کے لئے ہمیں اپنے طور طریقے اور رہن سہن کا انداز بدلنا ہوگا۔ سہل پرستی سے جان چھڑوانی ہوگی۔ کمفرٹ زون comfort zone سے نکلنا ہوگا۔

(ارے واہ بھائی یاسر مجید، یونہی ہنسی مذاق میں بات ہو رہی تھی۔ آپ تو سنجیدہ ہو گئے۔ چلئے، مان لیا کہ ہم سب کا مدیر بوڑھا بابا ہو گیا۔ اب خوش؟ )

Facebook Comments HS