مقتدر قوتوں کا سیاسی کھیل اور شہباز شریف کا اعتراف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہبازشریف کے اعتراف پر بات کرنے سے پہلے شیخ رشید کے ایک عامیانہ بیان کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ کورونا وائرس کی وبا ایک عالمی آفت ہے مگر ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اسے عمران خان کے لئے اللہ کی طرف سے غیبی امداد قرار دے رہے ہیں۔ کورونا جیسے سنگین مرض سے ترقی یافتہ ممالک بھی پریشان مگر دریوزہ گری کے شوقین حکمران اس قدر مردہ دل ہو چکے ہیں کہ ابتلا کے اس دور میں بھی انہیں عوام کی فکر کی بجائے انہیں ڈالرز نظر آ رہے ہیں۔ سندھ حکومت کے اقدامات سے خائف وفاقی حکومت نے پہلے لاک ڈاؤن نہ کرنے پر غلط توجیحات پیش کیں اور پھر ان بے بنیاد ترجیحات کے لئے سندھ حکومت پر ایسے الزامات گھڑے گئے کہ اپنی نا اہلی کی پردہ پوشی بھی مشکل ہو گئی۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ اس بحرانی دور میں مراد علی شاہ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ہر طبقۂ فکر کو حیران کیا ہے۔

اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس نے اس بدحال قوم کی دعائیں قبول کر لیں۔ خوش قسمتی سے اندیشوں اور وسوسوں کے برعکس پاکستان اس وبا سے اس قدر متاثر نہیں ہو سکا جتنا اس کے پھیلاؤ کا خدشہ تھا۔ اسی وجہ سے عوام بھی قدرے غیر محتاط ہو گئے ہیں اور لاک ڈاؤن اتنا موثر نہیں لگ رہا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ ابھی وبا کا خطرہ ٹلا نہیں اس لیے احتیاطی تدابیر سے پہلو تہی نہ برتی جائے۔ خدانخواستہ مرض بہت زیادہ پھیل گیا تو ہماری استعداد بہت محدود ہے۔ محاذآرائی کی شوقین حکومت پہلے ہی تہیہ کیے بیٹھی ہے کہ اتفاق رائے سے کوئی مربوط حکمت عملی اختیار نہیں کرنی۔ اگر عوام نے بھی ایسا ہی کیا تو نتائج خوفناک حد تک بھیانک نکل سکتے ہیں۔ اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ حکومتی ہدایات پر بھی مکمل عمل کریں تاکہ ہم نارمل زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔

چند دن پہلے محترم سلیم صافی صاحب کا کالم ’قومی حکومت کیوں اور کیسے‘ پڑھا جس میں قومی حکومت کی اہمیت اور اس کے امکانات پر بات کی گئی تھی۔ تحریک انصاف نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے کبھی صدارتی نظام کی بات کی جاتی ہے اور کبھی قومی حکومت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ صدارتی نظام کے لئے تو آئین تبدیل کرنا پڑے گا اور اس کے دور دور تلک کوئی امکانات نہیں ہیں۔ البتہ قومی حکومت کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں کہ کیا پاکستان کے معروضی حالات میں ایسا ممکن بھی ہے یا نہیں۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی باہمی چپقلش دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائی کرنا مشکل نہیں کہ بصد مجبوری اقتدار میں شمولیت کے باوجود یہ جماعتیں سیاسی رسہ کشی سے باز نہیں رہتیں۔ بظاہر سیاسی حمایت کا اعادہ کرنے کے باوجود ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ قومی حکومت کا قیام اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں اس لیے جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہ منصوبہ روبہ عمل ہو گا یا صرف سیاسی شعبدہ بازی ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا واضح موقف ہے کہ وہ نئے الیکشن چاہتے ہیں۔ وہ کسی بھی عارضی سیٹ اپ کی حمایت صرف الیکشن اصلاحات کے لئے کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے بغیر کسی بھی قومی حکومت کا تصور ہی عبث ہے۔ بھلے مقتدر قوتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہو مگر ایسے کسی بھی سیٹ اپ کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے۔

شہبازشریف نے سہیل وڑائچ صاحب کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ الیکشن سے ایک ماہ پہلے تک مقتدر حلقوں کے ساتھ ملاقاتوں میں ان کے روابط اس حد تک اُستوار ہو چکے تھے کہ ان کی کابینہ کے نام بھی فائنل کر لئے گئے تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی واپسی اور بیانیے کی وجہ سے انھیں اقتدار نہیں مل سکا۔

شہبازشریف کا یہ اعتراف جہاں مقتدر حلقوں کی سیاست میں مداخلت کے خلاف واضح ثبوت ہے وہیں پر اس بات کی جانب بھی اشارہ ہے کہ ایک بار پھر ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ اس اعتراف کے بعد قومی حکومت کا تصور ہی خوش گمانی محسوس ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن پر اپنے بدلتے بیانیہ کی وجہ سے پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں قومی حکومت میں شمولیت اختیار کرنے کا عمل حامیوں کی نظر میں ان کی ساکھ مجروح کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مئی جون میں الیکشن کا وعدہ بھی کیا گیا تھا مگر پاور بروکرز شاید اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ’وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے‘ اس لیے شہبازشریف کے ساتھ الیکشن کے بعد ایک بار پھر ہاتھ ہو گیا اور اب وہ گلے شکوے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کچھ دن پہلے اپنے کالم میں باخبر دوست کے حوالے سے لکھا تھا کہ عمران خان کو بتا دیا گیا ہے کہ اب ان کی مرضی نہیں چلے گی اور اب ان کا موقف تبدیل ہوتا نظر آئے گا۔ حالیہ دنوں میں عمران خان کا بدلتا لہجہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنا محدود کردار قبول کر چکے ہیں اور اسی وجہ سے وہ گم شدہ صفحہ جس پر سب ایک تھے ایک بار پھر اپنی جگہ پر واپس آ چکا ہے۔ اب راوی تحریک انصاف کے لئے چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

باخبر دوست کا کہنا ہے کہ پچیس اپریل کو شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد جہانگیر ترین کی گرفتاری کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں اس گرفتاری سے چینی کی قیمت پر پڑنے والے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عثمان بزدار کے لئے بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ کیا عمران خان اس بار بھی اپنے ”وسیم اکرم پلس“ کو بچا پائیں گے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں مگر عثمان بزدار کے لئے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

صدارتی نظام ہو یا قومی حکومت، ان ہاؤس تبدیلی ہو یا قبل ازوقت الیکشن، یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی جیب میں پڑے وہ مستقل کارڈز ہیں جنہیں وہ بوقت ضرورت بار بار استعمال کرتے ہیں اور ہر دور میں کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہو ہی جاتی ہے۔ طاقت کے اس کھیل سے تین سالہ یا چھ سالہ مدت بھرپور انداز میں پوری ہو جاتی ہے مگر پاکستان کا نظام کمزور ہو رہا ہے۔ دولخت ہوئے آدھے پاکستان پر بھی دشمن نظریں گاڑے بیٹھا ہے مگر مقتدر قوتوں کو سیاسی نظام کی مضبوطی گوارا نہیں۔ عوام میں بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کے باوجود وہ سیاسی کھیل میں اپنا کردار بدلنے کو تیار نہیں۔

اپنے عہدے یا ادارے سے عہدوفا کرنے والی مقتدر قوتوں کو جلد یا بدیر یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ عہدوفا صرف آئین سے ہونا چاہیے۔ انھیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان کی بقا صرف اسی میں ہے کہ وہ آئین میں متعین کردہ اپنے کردار پر اکتفا کرتے ہوئے سیاسی کھیل سے دور رہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *