کرونا کی وبا ’سپر پاور‘ امریکہ کی ترقی بے نقاب کرتی ہے


مجھے یاد ہے کہ جب سوشل ورک میں ایم ایس پروگرام کی ایک کلاس میں پروفیسر نے کلاس کے اختتام پہ پوچھا کہ آخر اس کورس نے ہم طلبا کو کیا دیا تو میرا جواب تھا۔ ”مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری آنکھوں کی سرجری ہوئی ہے اور میں پٹی اترنے کے بعد ہر شے واضح طور پہ دیکھنے کے لائق ہوئی ہوں۔ محض سفید اور سیاہ نہیں بلکہ ہر شے کو اس کے اصل رنگ میں“۔

آج میں اپنے کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میں نے بہترین استادوں کی مدد سے سوشل ورک کی وہ تعلیم حاصل کی کہ جس نے مجھے بینا کر کے واضح طور پہ “سپر پاورامریکہ“ کی تصویر کا وہ رخ دکھایا جو امریکہ میں ہوتے ہوئے بھی خود مجھ سے کئی سال پوشیدہ رہا۔ محدود اور مخصوص علاقوں میں واقع عالیشان دفاتر کی عمارتیں، پرائیوٹ ہسپتال، خوبصورت اسکولز، چمکتے دمکتے شاپنگ مال، بہترین مساجد وغیرہ دیکھتے ہوئے میں اپنی کابک میں مقید تھی۔ غالباَ امریکہ کی ان ہی تصاویر کو دیکھ کر میری ایک معصوم پاکستانی دوست نے مجھ سے کہا۔ ”امریکہ تو ایک بڑا گلیمرس ملک ہے۔“ کیونکہ اس کی نظر سے یہاں کے گھٹیا ترین اسکول، گندے رہائشی محلے اور غربت اور جرائم کی گود میں میں پلنے والے نسل در نسل انسان نہیں گزرے تھے کہ جن پہ میں نے اپنی تعلیم کے دوران تحقیق کی۔ اُس کی طرح شاید اور بہت سوں کی نظر میں آج بھی امریکہ”گلیمرس ترقی یافتہ اور دنیاکا عظیم ترین طاقتور ملک“ ہی رہتا مگر بھلا ہو کرونا کووڈ 19 کی عالمگیر وبا اور اس میں امریکہ میں تیزی سے مرنے والوں کی تعداد اور اس پر قابو میں روک تھام میں ناکامی کہ جس نے ملکی دولت کی ناقابل یقین حد تک غیر منصفانہ تقسیم اور سماجی بہبود کے اہم نظاموں کی مکمل ناکامی کی تمام دنیا کے سامنے قلعی کھول دی اور بتا دیا کہ امریکہ میں عوام کے فلاحی بہبود سے متعلق تمام بنیادی نظاموں کا ڈھانچہ کس قدر ناقص و ناکارہ اور شرمناک حد تک کرپٹ ہے۔ آخر کب تک ایک ننگے بادشاہ کو اس کے بہترین لباس کی داد ملتی رہتی؟ بالآخر ایک حقیر سے جرثومے کرونا وائرس کی وبا نے معاملے کی پرتوں کو کھولا اور حقیقت سے پردہ اٹھا کر کہا ”بادشاہ تو ننگا ہے“۔

آج کی تاریخ 19 اپریل تک کو رونا وائرس سے دنیا میں ہونے والی اموات ایک لاکھ اکسٹھ ہزار سے بڑھ گئی ہیں جبکہ متاثرین افراد کی تعداد 23 لاکھ 45 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد چھ لاکھ چار ہزار ہے۔ سپر پاور امریکہ اس وقت دنیا میں ہونے والی اموات میں صفِ اوّل ہے۔ اور یہاں اموات کی تعداد 39,158 جبکہ متاثرین کی تعداد 740,746 ہے۔ مشی گن ریاست میں، جہاں میں رہتی ہوں، گو اموات کی تعداد میں نیویارک اور نیو جرسی کے طرح سرفہرست نہیں مگر یہاں مرنے والوں تعداد 2,308 ہے۔ مجھے حساب کتاب سے کوئی دلچسپی نہیں مگر یہ معاملہ پیسوں کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ہے لہٰذا مرنے والوں کے اعدادو شمار کو نظر انداز کرنا حقیقت سے صریحاً چشم پوشی بلکہ جرم کے زمرے میں شمار ہوگا۔

اس وبا سے سب سے زیادہ کون متاثر ہوا؟

ویسے تو کرونا وائرس نے مخصوص افراد کو چن کے حملہ کرنے کا منصوبہ نہیں کیا ہوگا مگر مرنے والوں میں ان افراد کی تعداد زیادہ ہے جو پہلے ہی صحت عامہ کے ناکارہ ترین نظام، منظم ادارہ جاتی نسل پرستی اور وسائل کے حصول میں حق تلفی کا شکار ہیں۔ ان میں ایفرو امریکی، لاطینی، میکسیکن مہاجرین، نیٹیو امریکن، غیر قانونی افراد کے علاوہ معاشرے کا نظر انداز کیا ہوا طبقہ مثلاَ بے گھر مرد اورعورتیں اور نرسنگ ہوم میں رہنے والے افراد شامل ہیں۔ ان افراد کو سالہا سال کے غیر منصفانہ رویہ نے صحت کی بنیادی سہولت، معیشت، اعلی تعلیم اور مناسب ملازمت کے حصول سے محروم رکھا ہوا ہے۔

اب ایفرو امریکن سے متعلق چند اعداد و شمار ملاحظہ ہوں۔ ساؤتھ کیرولینا میں ایفرو امریکن کی اموات 57 فی صد ہے جب کہ ریاست میں ان کی آبادی کا تناسب 27 فیصد، النائیز میں اموات 42 فی صد جبکہ آبادی کا تناسب 15فیصد۔ اسی طرح لوزیانا میں اموات 59 فیصد جبکہ آبادی کا تناسب 33 فیصد اسی طرح محض نیویارک کے نرسنگ ہومز میں 2700 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بحثیت مجموعی ایفرو امریکن کی اموات کا تناسب لاطینیوں کے مقابلے میں تین گنا اور سفید فام کے مقابلے میں تین اعشاریہ چھ گنا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ کرونا کی وبا ساری دنیا کے لیئے ایک المناک حادثہ ہے مگر جب ہم امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کی صورتحال دیکھتے ہیں کہ جسکا شمار دنیا کے ان سات ممالک (کینڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، اور یو کے)کے گروپ میں ہے جن کی معیشیت دنیا میں سب سے ترقی یافتہ شمار کی جاتی ہے تو امریکہ کی ترقی ایک بھیانک مذاق لگتی ہے۔ کیونکہ اس ملک میں بقول مشہور ماہر معاشیات رابرٹ رائش Robert Reich ۔ ”اسوقت بات دایئں اور بایئں بازو کی نہیں امریکہ میں آج بھی سترہویں صدی کاOligarchy  سماجی نظام مروج ہے کہ جب دولت اور طاقت محض بادشاہ کے ہاتھ میں ہوتی تھی“۔

یہ بات درست ہے کہ اس وقت امریکہ کی حکومت ایک شدید نرگسیت کے مارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہے جس کی اپنی رائے کو حتمی جاننے کی خو اور کئی غلط فیصلوں کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوا۔ تاہم میں اس پوری ناکام صورتحال میں صدر کو چالیس سے پچاس فی صد ہی ذمہ دار قرار دوں گی کیونکہ اس ملک میں عوام کی فلاح و بہبود کے مکمل اور منظم نظام پہ عمل گزشتہ کئی دھاﺅں سے نہیں ہوا۔ یہاں وقت کے ساتھ دولت کا فرق اپنی شرمناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ اس وقت عوامی صحت عامہ کا کوئی نظام سرے سے ہے ہی نہیں۔ بے شک نجی یا پرائیویٹ صحت سے وہ پوری طرح مستفید ہو رہے ہیں جو دولت مند ہیں یا ان کی ایسی ملازمت ہے کہ جس میں ہیلتھ انشورنس ہے۔ یہاں عوامی صحت اور عوامی تعلیم اور عوامی مراعات کا صحیح معنوں میں کوئی تصور نہیں۔ ٹیکس کٹ میں بھی چھوٹ ان کو ملتی ہے جو سالانہ ملین ڈالرز سے بھی زیادہ کماتے ہیں۔ تیس فیصد سے زیادہ امریکی شہریوں کے پاس کوئی صحت کی انشورنس نہیں۔

گو یہ بات بار بار سنائی دے رہی ہے کہ مرنے کی وجوہات میں عمر کے علاوہ پہلے سے صحت کے مسائل جیسے دل، شگر، اور پھیپھڑے کی بیماریاں بالخصوص ایفرو امریکن میں موت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب رہائشی مکانات، تعلیمی اداروں کے معیار، ماحولیاتی مسائل، ہوا اور پانی کے معیار میں بھی تفریقی اور غیر منصفانہ رویہ رکھا جائے گا تو ایسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ میں اپنے کتنے کلائنٹس کو جانتی ہوں جنہوں نے برسوں سے کسی قسم کے ڈاکٹر کی شکل نہیں دیکھی۔ ایمر جنسی ڈاکٹر ہی ان کا پرائمری ڈاکٹر ہوتا ہے۔ آج گو کرونا کی صورتحال نئی سہی مگر سوال پرانا ہے کہ آخر اس ملک کی دولت کوچند ہاتھوں میں بٹور کر انسانوں کے درمیان تفریق کو کب تک رکھا جا سکتا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ انسانی حقوق کی تبدیلی کے انقلاب کا طوفان جو اس ملک کے بڑے بڑے انصاف پسند لیڈر نہ برپا کر سکے، کرونا وبا کی تباہی سے پھیلنے والا ملبہ اس کا مداوا کر سکے۔

Facebook Comments HS