کرونا وائرس، عذاب یا آزمائش
”اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچے تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے، حالانکہ اللّٰہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے“ ایک مسلمان کی زندگی میں جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے عذاب کی کوئی صورت ہے، آزمائش ہے یا پھر سزا۔
بحیثت مسلمان گزشتہ کچھ دنوں سے ہم اسی الجھن میں ہیں کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کرونا کی وبا اللہ کا عذاب ہے، سزاہے یا پھر آزمائش؟
دیکھا جائے تو عذاب کی بہت سی صورتیں ہیں۔ کوئی ناگہانی آفت ہے یا پھر دھیرے دھیرے آنے والی مصیبت، یعنی خوشحالی سے نکل کر آفت کی کسی وادی میں داخل ہوجانا عذاب ہی کی صورت ہے۔
دیکھا جائے تو آزمائش خدا کا اپنے بندوں کو انعام عطا کرنے کا ذریعہ ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ”جب انسان کے لئے اللہ کے یہاں کوئی ایسا درجہ بنا دیا جائے جسے پانے کے لئے انسان کے اعمال ناکافی ہوں تو اللہ اس کو جان، مال اور دنیاوی آزمائشوں میں مبتلا کر دیتے ہیں“
گویا آزمائش سرفراز ہونے کا سنہری موقع ہے۔
سزا کیا ہے؟ سزا بے شک گناہوں اور نا فرمانیوں کا بدل ہے، کہ جو جیسا بوتا ہے ویسا ہی کاٹتا ہے پھر چاھے دنیا ہو یا آخرت۔
دیکھا جائے تو ہر واقعہ کے اجتماعی اور انفرادی دو پہلو ہوتے ہیں۔ جس طرح انسان بھی ظاہر اور باطن دو صورتیں رکھتا ہے۔ جیسے آسمان سے برسنے والی بارش کہیں فصل اگنے کا سبب بنتی ہے تو کہیں فصل کی تباہ کاری کا باعث اسی طرح اجتماعی عذاب اور سزا انفرادی طور پر آزمائش کی شکل اختیار کر سکتے ہیں دوسری طرف انفرادی عذاب اور سزا اجتماعی طور پر آزمائش کی صورت بن سکتے ہیں۔
”بے شک پاک ہے وہ ذات جس کے قبضے قدرت میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ مالک کائنات ہے بلاشبہ وہ تمہیں آزمائے گا، جان اور مال سے خوف اور بھک کے نقصان سے اور اسی میں اچھی خبر ہے صابرین کے لئے“
کرونا کی وبا بیک وقت خوف، بھوک، جان اور مال کا نقصان نظر آرہی ہے یہ اجتماعی آزمائش ہے جو انفرادی طور پر سزا یا عذاب کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس آزمائش میں مال والوں کو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے موقع فراہم ہوں گے، بھوک اور جان کے خوف میں مبتلا لوگوں کے لئے صبر کی آزمائش ہے ”کہ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“
اس وبا کا شکار ہو کے صحتیاب ہو جانے والوں کے لئے زندگی کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین موقع ہے،
سفر آخرت پر نکل جابے والے یعنی اس وبا کا شکار ہوکر زندگی ہار جانے والوں کے لئے شہید کا مقام ہے
جو مصیبت مسلمان کو غنی، صابر، شاکر اور شہید کے رتبے سے سرفراز کرے بے شک وہ کوئی سزا یا عذاب نہیں بلکہ آزمائش ہے۔ یہ اجتماعی آزمائش انفرادی اور اجتماعی کامیابی کا موقع ہے۔ اپنی غفلت زدہ زندگی سے نکلنے کا موقع، نیک عمل کرنے کا موقع، خودغرضی سے نکل کر سخاوت اور بھائی چارے کی مثالیں قائم کرنے کا موقع، اپنے عمل سے اسلامی تعلیمات اور سیرت النیﷺ کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا سنہری موقع، اللہ پر یقین کو پختہ کرنے کا موقع کہ بے شک اللہ رحمٰن اور رحیم ہے۔
روز جزا سے پہلے کسی مصیبت کو عذاب نہ سمجھیں۔ یہ آزمائش اللہ کا ہمیں موقع ہے کیونکہ جب وہ عذاب دیتا ہے تو قوموں کے وجود باقی نہیں رہتے۔ اللہ چاہتا ہے گنہگار توبہ کرلیں، گناہ چھوڑ کر اس کی اطاعت کرلیں اس پر یقین کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اس سے رحمت کا سوال کریں اس سے مغفرت کی گزارش کرلیں کہ بے شک وہ گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ اللہ ستر ماٶں سے زیادہ چاہنے والا ہے وہ نہیں چاہتا اس کے بندے غفلت کی زندگی گزارنے میں مشغول رہیں اور آخرت میں عذاب الہی ہماری قسمت ہو۔ اللہ نے ہمیں فرصت کے ساتھ موقع دیاہمیں دیکھایا کہ جن چیزوں کے پیچھے ہم وقت ضائع کرہے وہ دنیا میں بھی ہمارے کام نہ آسکیں تو سوچو آخرت میں ہم ان کا کیا کریں گے۔
کہ سنبھل جاٶ اسے عذاب سمجھ کر آہ وزاری کرنے سے بہتر ہے اس آزمائش میں صبر اور شکر سے کامیاب ہوجاٶ۔
اب بھی وقت ہے دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر اللہ سے رجوع کرلو۔


