مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا بیان اور خواجہ آصف کا ”تاریخ ساز“ ٹویٹ

18 اپریل کو مفتی تقی عثمانی صاحب نے جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہءِ صحت کی طرف سے رمضان کے حوالے سے جاری کردہ خصوصی ہدایت نامے میں بھی چونکہ تین فٹ فاصلے کی تجویز دی گئی ہے لہذا حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں بھی ہم نے یہی طے کیا ہے کہ دو نمازیوں کے درمیان تین فٹ کا فاصلہ ہو گا۔ البتہ دو صفوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہوگا۔ یہ بات انہوں نے ایک اپنی طویل گفتگو میں ایک اضافی وضاحت کے طور پر کہی کیوں کہ اعلامیے کے متن میں یہ بات تحریر ہونے سے رہ گئی تھی۔

اس سے اگلے دن جیو نیوز نے اپنے فیس بک پیج پر اس خبر کو نشر کیا۔ ساتھ ہی حسبِ معمول اپنی ویب سائٹ کا لنک بھی دے دیا کہ یہاں جا کر خبر کی تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہیں۔ اب چونکہ سنسنی خیزی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متوجہ کرنا تھا اور انہیں لنک کے ذریعے اپنی ویب سائٹ وزٹ کرنے پر اکسانا تھا لہذا جیو نے اپنے فیس بک پیج پر یہ خبر اس طرح نشر کی کہ اوپر مفتی صاحب کی تصویر تھی اور نیچے لکھا تھا:

”نمازیوں کے درمیان 6 فٹ نہیں، تین فٹ فاصلے کی بات ہوئی تھی۔ مفتی تقی عثمانی“

اس خبر کے نشر ہونے کے ساتھ ہی ہماری عجلت پسند قوم کے سطحی نظر دانش وروں کا بے ہنگم ٹولہ پھدک پھدک کر سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر نکل آیا۔ کسی نے لکھا کہ ”مفتی صاحب نے چھ اور تین فٹ کا یہ معاملہ کورونا کے ساتھ بیٹھ کر خود طے کیوں نہ کیا؟“ کسی نے ارشاد فرمایا کہ ”مفتی صاحب آپ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔ کرونا کی ایسی کی تیسی، مگر اگر بیمار ہو جائیں تو برائے مہربانی ڈاکٹروں کا قیمتی وقت ضائع مت کریں۔“ ایک صاحب نے چٹکی لیتے ہوئے کہنے لگے : ”اتنا غصہ!“ جب کہ ایک محترمہ نے قصہ تمام کرتے ہوئے تبصرہ فرمایا کہ ”آج کے مولویوں کے لیے میرے پاس انا للہ کے سوا اور کچھ نہیں۔“

الغرض کسی نے بھی لنک کھول کر پوری خبر پڑھنے کی زحمت نہیں کی۔ سب نے یہ سمجھا کہ کسی جگہ مسجد میں نمازیوں نے چھ فٹ کا فاصلہ اختیار کر لیا ہے، یا حکومت نے اس کا حکم دے دیا ہے جس کی وجہ سے مفتی صاحب سیخ پا ہیں اور سارے کام کاج چھوڑ کر لٹھ لیے سب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ نہ خود کوئی کام کر رہے ہیں نہ ہی ملک و قوم کے ہونہار نوجوانوں کو کورونا کے خلاف محاذ پر مجاہدانہ خدمات انجام دینے دے رہے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ بزرجمہر اور بقراط صاحبان ذرا تکلیف فرما کر پوری خبر پڑھ لیتے، یا نیا پاکستان شو میں مفتی صا احب کی بات سن لیتے، یا خود جیو انتظامیہ ہی خبر کو زرد صحافت کے لفافے میں لپیٹے بغیر صحیح صحیح اور تعمیری انداز میں نشر کردیتی تو ہمارے ان عالی ذہن دانش وروں کا قیمتی وقت اور صلاحیتیں اور ایک معمر اور موقر عالمِ دین کی عزت و وقار دونوں محفوظ رہ جاتے۔

مثلاً مفتی صاحب نے اپنی اسی گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ ”اس وقت ہم جس نازک صورتِ حال سے گزر رہے ہیں اس میں اتحاد و اتفاق بہت ضروری ہے۔“ لیکن ظاہری سی بات ہے کہ اس خشک تبلیغی اور ناصحانہ قول کو شہ سرخی کا درجہ دینے کی صورت میں علماء کا ایک مثبت تاثر قائم ہو جاتا۔ جس سے سلطنتِ حکمت و دانش اور فکرِ خیر خواہی پر صحافیوں کی تنہا اجارے داری اور ٹھیکیداری میں مولویوں کا بھی حصہ نکل آتا۔ دوسرے اس خبر کو اتنی شہرت نہ ملتی اور اس پر یوں گرما گرم تبصرے بھی نہ ہوتے جس سے ریٹنگ کو نقصان پہنچتا۔

یوں ایک ایسا عالمِ دین جس نے پاکستان کے آئین کی متعدد شقیں خود اپنے ہاتھ سے تحریر کیں۔ جس نے سفر ناموں سے لے کالم نگاری اور شعر گوئی تک گلزارِ ادب کے ہر گوشے کی سیر کی۔ جس نے متنوع موضوعات پر عربی، اردو اور انگریزی میں سو سے زائد وقیع علمی تصنیفات لکھیں۔ جو پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک سپریم کورٹ کے اسلامی شرعی بینچ میں جج رہے۔ جس کے اردو اور انگریزی ترجمہ قرآن کی اشاعت لاکھوں کو پہنچ چکی ہے۔

حرمین کے ائمہ اور عرب کے علماء جس کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون اور بش تک نے اپنے عہدِ حکومت جس سے ملاقات کے لیے وقت مانگا۔ جس نے تکملہءِ فتح الملہم کی شکل میں صحیح مسلم کی شاہکار عربی شرح لکھی۔ جس کے وضع کردہ اسلامی بینکنگ اور اسلامی معاشی نظام کو اسلامی دنیا سمیت کئی غیر مسلم ممالک میں بھی پذیرائی ملی۔ جسے اردن کے شاہی تحقیقی ادارے نے مسلم دنیا کی با اثر ترین شخصیت قرار دیا اور جس کے زیرِ نگرانی ”المدونۃ الجامعۃ“ کی شکل میں تمام احادیث اور ان کی تمام تر حوالہ جاتی تحقیقات اور تفصیلات اور احادیث کی عالمی نمبرنگ پر مشتمل 40 جلدوں کا ضخیم ترین تاریخی دائرۃ المعارف مرتب ہو رہا ہے۔ اس نابغہءِ روزگار راہنما اور عبقری عالم کے متعلق بالشتیوں، پست ذہنوں اور علم محروموں نے وہ وہ ہفوات اڑائے کہ الامان و الحفیظ۔

اور تو اور خیر سے کچھ شرم۔ کچھ حیا۔ کرتے خواجہ آصف صاحب بھی میدان میں اتر آئے۔ پوری خبر پڑھنے کی زحمت کیے بغیر انہوں نے بھی اپنی دانش و بینش کی پوٹلی سے تاریخ کی ایک سنی سنائی حکایت انڈیلتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”ہلاکو خان کی شکل میں جب تباہی بغداد کے دروازے پہ دستک دے رہی تھی اس وقت بھی عباسی خلیفہ کے دربار میں اسی طرح کے بحث مباحثہ ہو رہے تھے۔ اللہ ہمیں معاف اور محفوظ فرمائے۔ رحم فرمائے۔“

خود خواجہ آصف صاحب کورونا کی وبا سے یوں لڑ رہے ہیں کہ جس دن مفتی صاحب نمازیوں کے باہمی فاصلے اور مسجدوں کے متعلق حکومتی معاہدے کے متعلق وضاحت کر رہے تھے ٹھیک اسی دن خواجہ آصف صاحب اسحاق ڈار کے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ فرما رہے تھے۔

”نیازی صاحب یقیناً پاکستان کی تاریخ کا ’سب سے بڑا منگتا وزیرِ اعظم‘ کے ٹائٹل کے حقدار ہیں۔“

ایک عالمِ دین کے ذمے تو کورونا وبا کے دنوں میں یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ مساجد اور نمازیوں کے متعلق ہدایات جاری کرے اور اس حوالے سے عالمی طبی اصولوں کے مطابق فاصلوں اور قرب کی تعیین کرے۔ اس پر تو وہ کسی ملامت کا سزاوار نہیں۔ سوال تو قوم اور سیاسی راہنماؤں کے کردار کا ہے۔

بغداد کی تباہی بھی نوشتہ دیوار ہے۔ ہلاکو نے بغداد میں تو بہت بعد میں حملہ کیا مگر اس سے بہت پہلے جب اس کا دادا بخارا و ثمرقند کو تاراج کر رہا تھا اور اکیلا جلال الدین خوارزم تاتاریوں کی شورش کو رفع کرنے کے لیے نکلا تو باقی سب حکمران اس کی ٹانگیں کھینچ رہے تھے۔ آئندہ بھی مؤرخ لکھے گا جس وقت موت اور ہلاکت کے سائے پوری دنیا کے سر پر منڈلا رہے تھے، اس وقت خواجہ آصف صاحب اور ان کے ہمنوا وزیرِ اعظم سے اپنی سیاسی دشمنی کا انتقام لینے کے لیے کمر کس کر ٹویٹر پر بیٹھے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words