بیس ہزار کا قرض ابھی نہیں اترا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے میں سپین کے شہر بارسلونا میں اپنے برادر نسبتی کے پاس چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا۔ ہمارا چائے کی میز پر اگلے دن شہر سے کہیں باہر جانے کا پروگرام بن رہا تھا۔ بچے بار بار کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ  ًاندورہً چلتے ہیں۔  ًاندورہ ً سپین اور فرانس کے درمیان ایک چھوٹا سا ملک بلکہ ایک شہر کہہ لیں ہے۔ یہ 470 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی 77000 ہے۔ ۔ اندورہ بارسلونا سے چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

پروگرام ابھی طے ہو ہی رہا تھا کہ فلیٹ کی بیل بجی۔ بھائی نے جا کر دروازہ کھولا اور اپنے ساتھ ایک صاحب کولے کر اندر آ گئے۔ تعارف ہوا۔ وہ بھائی کے دوست تھے اور میرا آنے کا سن کر مجھے ملنے آئے تھے۔ چوہدری ارشد صاحب فیصل آباد کے کسی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور کافی مرنجاں مرنج قسم کے آدمی تھے اس لئے جلد ہی ان سے بے تکلفی ہو گئی۔ جب انھیں ہمارے اندورہ جانے کے پروگرام کا پتہ چلا تو انہوں نے بھی ساتھ جانے پر آمادگی ظاہر کی اور بھائی سے کہا کہ یار چلو اکٹھے چلتے ہیں۔ میری فیملی بھی کافی عرصہ سے اندورہ جانے کا کہہ رہی ہے۔ بھائی بھی خوش ہو گیا کہ چلو ایک اور فیملی کا ساتھ ہو جائے گا۔ چوہدری صاحب نے اپنے گھر فون کر کے پروگرام کا بتایا تو وہ لوگ بھی فوراً تیار ہو گئے۔

اگلے دن صبح صبح چوہدری صاحب اپنی فیملی کہ لے کر بھائی کے فلیٹ پر آ گئے۔ بھائی کے پاس بڑی گاڑی تھی اس لئے بچے اور عورتیں سارے اس میں بیٹھ گئے۔ چوہدری صاحب نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا کہ ہم راستے میں گپ شپ لگائیں گے۔ ان سے باتیں شروع ہوئیں توپتہ چلا کہ وہ بہت عرصہ پہلے یورپ آئے تھے اور کافی ممالک گھومنے کے بعد اب سپین میں سیٹل ہو گئے تھے۔ دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ بڑا بیٹا اور بیٹی تعلیم مکمل کرنے کے اب کام کر رہے تھے۔ بیٹی ایک انشورنس کمپنی میں کام کرتی تھی جبکہ بیٹا کسی کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ سفر میں مختلف موضوہات پر بات چیت ہوتی رہی۔ ایسے میں ہی میں ان سے پوچھ بیٹھا کہ آپ کیسے یورپ آ گئے۔ تو وہ گویا ہوئے کہ شاہ جی میں یہاں اپنا بیس ہزار کا قرضہ اتارنے کے لئے ملک سے نکلا تھا۔ والد صاحب کسی سے مل کر فیصل آباد میں آڑھت کا کروبار کرتے تھے۔ ان کے پارٹنر نے ان کے ساتھ بے ایمانی کی اور اپنا پیسہ کاروبار سے ہوشیاری سے نکال لیا جس سے کاروبار میں کافی زیادہ نقصان ہو گیا۔

ابا جان پر بیس ہزار کا قرضہ چڑھ گیا۔ گھر کے حالات خراب ہوئے تو میں نے پڑھائی چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے کام شروع کر دیے لیکن گزارا پھر بھی مشکل سے ہو رہا تھا۔ انہی دنوں میری اپنے ایک دوست سے ملاقات ہوئی وہ بھی میری طرح حالات سے تنگ تھا۔ اس نے کہا کہ چلو یار یورپ چلتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ ان کے گاؤں کا ایک آدمی فرانس میں ہوتا ہے اور آج کل آ یا ہوا ہے۔ ہم دونوں اس سے ملے اور اس سے کچھ معلومات لیں تو اس نے کہا کہ وہ واپس جا کر ہمارے لئے کچھ کرے گا۔

چھ ما ہ تک ہم اس کی طرف سے کسی اطلاع کا انتظار کرتے رہے لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد ہم نے کچھ رشتہ داروں سے کچھ رقم ادھار لے کر پاسپورٹ بنوائے اور گھر سے نکل پڑے۔ ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہوئے۔ ان دنوں اتنی سختی نہیں تھی اس لئے ہم کسی نہ کسی طرح فرانس پہنچ گئے۔ یہ بھی ایک لمبی داستان ہے۔ میں یہ سب سننے میں دلچسپی رکھتا تھا لیکن اتنے میں ہم اندورہ پہنچ گئے اوران کی یہ داستان ادھوری رہ گئی۔

مجھے کافی اشتیاق تھا ان کی داستان سننے کا۔ دوسرے یا تیسرے دن چوہدری صاحب میرے بھائی کی شاپ پر آئے میں بھی اتفاقاً وہیں موجودتھا۔ مجھے کہنے لگے شاہ جی آئیں آپ کو بارسلونا کی سیر کراتے ہیں۔ میں فوراً تیار ہوگیا کہ اسی بہانے ان سے باتیں بھی کریں گے۔ انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ہم شہر دیکھنے نکل پڑے۔ میں نے گزشتہ روز والی بات چھیڑی تو انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری اور گویا ہوئے۔ شاہ جی ہم یہاں آ تو گئے لیکن رہنے کا ٹھکانا نہیں تھا۔

اتنی سردی کی ہمیں عادت نہیں تھی۔ پیسے ختم ہوگئے تھے۔ زبان آتی نہیں تھی اس لئے کام بھی ملتا نہیں تھا۔ ایک جگہ ایک فلیٹ میں پانچ آدمی رہ رہے تھے۔ انہوں نے ہماری حالت دیکھ کر ہمیں وہاں ایڈجسٹ کر لیا۔ لیکن وہاں ہمیں رات کو فلیٹ کے کوریڈور میں سونا پڑتا تھا۔ ابتدا میں ہم فلیٹ کی صفائی کرتے، باقی افراد کے لئے کھانا تیار کرتے۔ جس کے بدلے میں ہمیں رہنے، کھانے اور کبھی چند یورو مل جاتے تھے۔ ایک دن فلیٹ کے ایک ساتھی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ رنگ کر لیتے ہو تو میں نے کہا کہ میں تو کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔

وہ دوسرے دن مجھے ساتھ لے گیا۔ اس دن کے بعد میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ عمارتوں پر رنگ کیا۔ ریسٹورینٹس میں برتن دھوئے۔ گاڑیاں دھوئیں۔ ٹائلیٹس کی صفائیاں کیں۔ راج اور مزدوروں والا کام کیا۔ پلمبر کا کام کیا، باتھ رومز کی ٹائلیں لگانے کا کام کیا، غرض دنیا کا کون سا کام ہے جومیں نے اس دوران نہیں کیا۔ جب کچھ پیسے اکٹھے ہوئے تو گھر والوں کو خط لکھا اور ساتھ ہی چھوٹی ساری رقم کا ڈرافٹ بھی بھیجا۔ جس دن اس خط کا جواب آیا میں والدین اور بہن اور بھائی کو یاد کر کے بہت رویا۔

اور اس دن مجھے روتا دیکھ کر میرے فلیٹ کے دو تین ساتھی بھی میرے گلے لگ کر خوب روئے۔ فلیٹ میں رہنے والے سب ساتھیوں کے حالات تقریباً ایک جیسے ہی تھے۔ اس لئے سب ہی بہت جان مار کر کام کرتے تھے بلکہ چھٹی والے دن بھی کام کرنے کو تیار رہتے تھے۔ میں جو کچھ کماتا اس کا زیادہ حصہ گھر بھیج دیتا۔ اب تو قرض بھی اتر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ گھر والوں کے پاس اب کافی رقم بھی جمع ہو گئی ہو گی۔ پھر گورنمنٹ نے نئے ایمیگریشن قانون بنائے اور اس قانون سے پہلے والے ایمیگرانٹس کو قانونی طور پر رہنے کی اجازت دے دیگئی اس طرح ہماری فرانس میں قانونی حیثیت ہو گئی۔

پانچ سال کا عرصہ بیت گیا تھامیں گھر والوں سے نہیں ملا تھا اس لئے میں گھر والوں سے بہت گھبرایا ہوا تھا۔ میں اتنے سارے پیسے بھی پاکستان بھیج چکا تھا جن سے میں وہاں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر سکتا تھا۔ میں نے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور ایک سہانی صبح میں پاکستان پہنچ گیا۔ سب ہی بہت خوش تھے۔ سب کے لئے میں کافی سارے تحفے لے کر آیا تھا۔ ایک ہفتہ بعد والد صاحب نے پوچھا کہ بیٹا کب تک تمہاری چھٹی ہے۔ تو میں نے کہا کہ میں تو اب یہاں ہی کاروبار کرنے کی سوچ رہا ہوں۔

کیا اتنی رقم لائے ہو جس سے کاروبار شروع کرو گے۔ ابا جان نے پوچھا۔ میں نے جو پیسے بھیجے ہیں ان سے کاروبار کروں گا۔ لیکن بیٹا، جو پیسے تم بھیجتے رہے ہو اس سے تو صرف گھر کا خرچہ چلتا ہے۔ تمہاری بہن اور بھائی دونوں پڑھ رہے ہیں۔ بلکہ اب تو تمہاری بہن کی شادی بھی کرنی ہے اس کے سسرال والے تمہارے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں بہت مایوس ہوا اور ایک دن والدہ کے گلے لگ کر بہت رویا۔ والدہ پتہ نہیں کیا سمجھیں وہ بھی میرے ساتھ رونے لگیں۔ پھر جو کچھ میں اپنے ساتھ لے کر آیا تھا اس سے بہن کی شادی کر کے میں تین ماہ بعد پھر فرانس واپس آ گیا۔ اور پھر اسی روٹین میں کھو گیا۔ اگلے پانچ سالوں میں جو کچھ کمایا۔ پاکستان میں گھر بنانے میں۔ بھائی کی شادی میں اور بہنوئی کو بیرون ملک سیٹل کرنے میں لگ گیا۔ پانچ سال بعد دوسری بار پاکستان گیا تو خاندان میں کافی آؤ بھگت ہوئی کیونکہ اب میں بڑا کماؤ پوت۔ یورپ پلٹ ایک مالدار آسامی تھا۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ میں ان کی بیٹی سے شادی کروں۔

بھابی کی مرضی تھی کہ اس کی بہن سے میں شادی کرلوں تا کہ ان کی گھر پر حکومت ہو جائے۔ میری شروع سے ہی خواہش تھی اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کرنے کی۔ جب میں نے گھر میں یہ بات کی تو سوائے والد صاحب کے سب نے مخالفت کی اور سب سے زیادہ مخالفت بھابھی نے کی۔ خیر میں چچا کی بیٹی سے شادی کر کے اسے اپنے ساتھ یہاں لے آیا۔ میرے آنے کے بعد بھائی نے والد صاحب سے گھر اورزمینیں اپنے نام کروا لیں کہ بھائی اب فرانس میں ہے، امیر ہے اسے ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے۔ والد صاحب کی وفات پر جب میں پاکستان گیا تھا تو بھائی نے بتایا تھا کہ والد صاحب نے سب کچھ اس کے نام کر دیا ہے اس لئے میں اپنا کہیں اور بندوبست کر لوں۔ میں ایک ہفتے بعد ہی واپس آ گیا تھا۔

پچھلے دس سال سے میں یہاں بارسلونا میں منتقل ہو گیا ہوں۔ بہن اپنی بیٹی اور بیٹے کی شادی میری بڑی بیٹی اور بڑے بیٹے کے ساتھ کرنا چاہتی تھیں۔ اور میرے بھائی کا بھی پیغام آیا تھا اپنے بچوں کے لئے شادی کے لئے۔ اسی نیت سے میں پچھلے سال اپنے بچوں کو پاکستان لے کر گیا اور ہم لوگ بہن کے گھر دو ہفتے رہے۔ دوسرے بہت سے رشتے دار بھی ہم سے ملنے کے لئے آئے۔ سب ہی چاہتے تھے کہ وہ میرے بچوں کا رشتہ کر لیں لیکن سب کا رویہ شادی کر کے اپنے بچوں کو بیرون ملک سیٹل ہونے والا تھا۔

جس کو میرے بچوں نے پسند نہیں کیا۔ میں اپنے بچوں پر کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جب بڑے دونوں بچوں نے پاکستان میں شادی پر رضا مندی ظاہر نہ کی تو میں ان کو لے کر واپس آ گیا۔ تو شاہ جی بیس ہزار کا اتارنے گھر سے نکلا تھا جو ابھی تک نہیں اترا اور اب تو وہ گھر بھی میرا نہیں رہا ہے۔ یہ بولتے ہوئے ان کی آواز گلوگیر ہو گئی اور انہوں نے گاڑی ایک کافی شاپ کے سامنے روک دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *