شعبہ صحت کی زبوں حالی اور بیماریوں میں گھرا پسماندہ طبقہ
پاکستان آج کرہ ارض کے دیگر ملکوں کی طرح کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کا شکار ہے، ہمارے لوگوں کی صحت اور معاشی بہبود سخت خطرے میں ہے۔ کورونا وبا نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ ہم عدم مساوات کے موجودہ معاشی نمونہ کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے جس میں صحت پر خرچ قومی پیداوار کے 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ آج ملک کو ایک مساویانہ نظام کی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے جس میں وسائل کا استعمال غیر پیداواری شعبوں کے بجائے ان شعبوں میں ہو جو پیداوار بڑھانے کا سبب بن سکیں، صحت اولین اہمیئت کے حامل ان شعبوں میں سے ایک ہے جو ملکی پیداوار بڑھانے میں بنیادی درجہ رکھتی ہیں، لیکن افسوس پاکستان میں حکومتی عدم توجہ کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔
ذرا اندازہ لگائیے، کورونا جیسی خوفناک وبا جس کے باعث ساری دنیا مفلوج ہو کر رہ گئی ہو، جس نے بحری، بری فضائی ہر طرح کے سفر کو ٹھہرا ڈالا ہو، تیل کی کھپت اس قدر کم کر دی ہو کہ فی بیرل تیل کی قیمتیں منفی ہوجائیں، اتنی خوفناک صورتحال میں پاکستان کا کمزور شعبہ صحت جو عوام کی صحت کے بارے میں درست اعداد وشمار دینے سے بھی قاصر ہو اس وبا سے لڑنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہو گا، یقیناً غیر مساوی نظام کے شکار شعبہ صحت نے مراعات یافتہ طبقے کے مقابلے میں کمزور طبقہ کو اس وبا کے براہ راست نشانے پر لے رکھا ہے۔
ہرچند کہ کورونا وائرس عام اور خاص کی تخصیص کیے بغیر سب کو متاثر کررہا ہے، لیکن، اس وبا نے کسی دیگر عالمی بحران کے مقابلے میں دنیا بھر میں پھیلی عدم مساوات کو سب سے زیادہ بے نقاب کیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عدم مساوات کے اس گھٹن زدہ ماحول میں ترقی پذیر ممالک کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر مالی اعانت میں اضافہ ہی اس وبا کو اور عالمی معاشی بدحالی کو روک سکتا ہے، ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے امداد کے ساتھ سب سے زیادہ ضروری پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کا اپنی مالی پالیسیز خصوصاً صحت کے شعبے کے لئے مختص کیے جانے والے قلیل وسائل پر نظرثانی کرنا جتنی ضروری آج ہے پہلے کبھی نہیں تھا۔
پاکستان کا اپنی جی ڈی پی کا 2 فیصد صحت کی دیکھ بھال پر خرچ کرنا حیران کن ہے، جبکہ اس کا عالمی اوسط 10 فیصد ہے، پاکستان میں صحت کا شعبہ سرکاری اعداد و شمار مطابق اپنے پڑوسی ممالک ایران اور ہندوستان سے بھی بدتر ہے، اس بارے میں ہماری ترجیحات کا اندازہ ورلڈ بینک کے جاری کردہ ان اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق پاکستان صحت کی صحولیات کی مد میں تقریباً 40 ڈالر فی کس سالانہ خرچ کرتا ہے، انڈیا اس مد میں پاکستان سے زیادہ 62 ڈالر اور ایران 415 ڈالر فی کس خرچ کرتا ہے، ایران میں صحت پر پاکستان کے مقابلے میں خاطرخواہ خرچ کے باوجود حالیہ کورونا بحران دیکھ کر یہ بات قطعی واضح ہے کہ پاکستان کا صحت پر اتنا معمولی خرچ شہریوں کو پالیسی سازوں کی جانب سے جان بوجھ کر اور مسلسل نظرانداز کیے جانے کے سوا کچھ نہیں اور انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
ماضی پر نظر دوڑائیں تو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان صحت عامہ کی تیاری پر صرف اس وقت توجہ مرکوز کرتا نظر آتا ہے جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں اور خطرہ بڑھ جائے، مثال کے طور پر ڈائہیریا، ملیریا، ٹی بی، پولیو، ڈینگی، ہیپاٹائٹس وغیرہ جیسی مہلک بیماریاں اور ان سے نمٹنے کے اقدامات اور ان مہلک بیماریوں سے نمٹنے کے لئے بھی ملکی وسائل سے زیادہ بیرونی امداد کے پہنچنے کا انتظار اور اس پر بھروسا کیا جانا حیران کن ہے، حالیہ کورونا کی وبا اس صورتحال کو کھل کر واضح کر چکی ہے۔
ملک میں صحت کا ایسا کوئی مربوط نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے جو بڑے پیمانے کی وبائی صورتحال کو مناسب اور بروقت حل کرسکے، بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ وبا کی بنیادی وجوہات اور جیسا کہ اوپر بتایا گیا، درست اعداد و شمار کا پتہ لگانے اور علاج کرنے تک سے قاصر ہے۔ وبائی بیماریوں کے علاوہ دیگر بیماریوں کی روک تھام بھی صحت سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے سے جڑا ہے، اس کے علاوہ مربوط نظام صحت کے ساتھ عام بیماریوں کے بارے میں آگاہی مہم پر مناسب خرچ نہ کرنا بھی نظام صحت سے منسلک ہے۔
آگاہی مہمات پر خرچ کیے جانے والے وسائل بیماریوں سے بچاؤ کا موثر ذریعہ اور وسائل کے بڑے حصے کے خرچ سے بچاتی ہیں، جبکہ، عدم روک تھام سے دیگر خرابیاں پیدا ہونے کا بیحد خدشہ رہتا ہے مثال کے طور پر، ملکی آبادی کا غریب طبقہ بیماری کے خطرے سے ہر وقت اور زیادہ دوچار رہتا ہے، کم آمدنی والے طبقات سانس، پیٹ، ذیابیطس، دل، ہیپاٹائٹس وغیرہ جیسی بیماریوں میں صحت کے بارے میں عدم آگہی اور چحت کے شعبے میں مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث زیادہ گھرے رہتے ہیں اور ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
صحت کے شعبے پر حکومتی عدم توجہی اور شہریوں کی غیر مساوی رسائی اپنی جانب میں ایک سنگین مسعلہ تو ہے ہی، لیکن، کسی مربوط نظام صحت کا نہ ہونا سارے معاشرے کے لئے ایک خوفناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، بیماری کا حملہ امیر اور غریب کے درمیان فرق نہیں کرتا، مضبوط نظام صحت کی عدم موجودگی کے باعث غریب طبقہ دولت مند افراد کی نسبت خطرات سے زیادہ دوچار رہتا ہے کیونکہ غریب طبقے کو بیماری کی صورت میں پرائیوٹ سیکٹر کے مہنگے اخراجات والے ہسپتالوں تک رسائی ممکن نہیں، غریب طبقے کے لئے وبا کی وجہ سے لگائی جانے والی بندش کے حالات میں گھر سے آن لائن کام کرنے کا آپشن بھی موجود نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس جیسی مہلک وبا پھوٹ پڑنا دولتمند طبقے کے مقابلے میں غریبوں کے لئے 10 گنا زیادہ مہلک ہے، کورونا جیسی وبا جس نے تمام نظام زندگی معطل کر کے ہنگامی صورتحال پیدا کردی ہے، ہنگامی بنیادوں پر معاشرتی تحفظ (Social Security) جو صحت کے شعبے کا احاطہ کرتی ہو کی بھی ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے، لیکن، افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں معاشرتی تحفظ کے اخراجات بھی صحت کی طرح ملک کی مجموعی پیداوار کے 2 فیصد سے بھی کم ہیں جب کہ عالمی سطح پر یہ اوسط کہیں زیادہ یعنی 11.6 فیصد ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے Informal Sector کا ملک کی مجموعی پیداوار میں حصہ 72 فیصد ہے لیکن اس کے باوجود اس سیکٹر پر یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور ای او بی آئی وغیرہ جیسے محکموں کے ذریعے اخراجات 2 فیصد سے بھی کم ہیں، حکومت کی جانب سے اس قدر قلیل وسائل کا مختص کیا جانا مزید خطرناک صورتحال کی جانب اشارہ کرتا ہے، اسی لئے عالمی سماجی ادارے کورونا کی وبائی صورتحال دیکھ کرصحت عامہ کے اخراجات کو فوری طور پر دوگنا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جانیں بچائی جاسکیں۔
یہ بات سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ مراعات یافتہ شہری وبائی امراض کے دوران صحت کی بہترین نگہداشت حاصل کرسکتے ہیں، اپنی بچت پر انحصار کرسکتے ہیں، اور گھر سے بیٹھ کر آن لائن کام کرسکتے ہیں، لیکن، ملکی آبادی کا 60 فیصد سے زائد طبقے کے لئے اس طرح کی مراعات ان کی پہنچ میں نہیں ہیں۔ کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کے لئے اعصاب شکن حالات پیدا کیے ہیں وہیں پاکستان جیسے ملک کے پالیسی سازوں کو صحت کے شعبے کی جانب فوری توجہ اور ملکی پیداوار کے وافر وسائل مختص کرنے کے لئے جھنجھوڑا ہے تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلیں صحتمند فضا میں سانس لے سکیں۔


