ارتھ ڈے- ایک عزم اور ہم سب کی ذمے داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

22 اپریل کو دنیا بھر میں ”ارتھ ڈے“ منایا جاتا ہے۔ ارتھ ڈے باضابطہ طور پر پہلی بار 1970 میں تقریباً 193 سے زائد ممالک میں ایک عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا، قدرتی ماحول کی حفاظت، موسمی تبدیلی اور قدرتی آفات سے زمین اور جانداروں پر ہونے والے اثرات کو کم سے کم کرنا نیز عوام اور آنے والی نسلوں کو بھی ان تمام مسائل کی مکمل آگاہی فراہم کرنا ہے جس کی وجہ سے کرہ ارض نا صرف دھیرے دھیرے اپنی قدرتی خوبصورتی کھوتا جا رہا ہے بلکہ زمین پر رہنے والے تمام تر جانداروں کے لیے خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

بہت سے ممالک اور کمیونٹیز میں ارتھ ڈے کے بجائے ارتھ ویک منایا جاتا ہے جس میں پورا ہفتہ ہی ماحولیاتی تحفظ کے لئے بہت سی سرگرمیاں شروع کی جاتی ہیں جن میں درخت لگانا، پہلے سے موجود درختوں کی نگہداشت اور ان کو پانی دینا، صفائی ستھرائی کے ذریعے اپنے علاقے کے مکینوں کو بہتر ماحول فراہم کرنا، جانوروں کی دیکھ بھال اس کے علاوہ ہر سال ارتھ ڈے کے موقع پر باقاعدہ ایک تھیم (موضوع) بنائی جاتی ہے اور پھر اسی موضوع کے حساب سے ہی سرگرمیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔

سال 2020 میں ارتھ ڈے کو مناتے ہوئے 50 سال مکمل ہوجائیں گے۔ اس سال کا موضوع ”کلائمیٹ ایکشن“ ہے جو کہ ایک وسیع اصطلاح ہے جس سے مراد ایسے اقدامات کرنا جن سے ماحول میں آلودگی کم سے کم ہو، گرین ہاؤسز سے خطرناک گیسز کے اخراج کو کم کرنا، قومی و ملکی سطح پر ایسی پالیسیاں تشکیل دینا جن سے قدرتی نظام کو تحفظ حاصل ہو، تعلیم کے ذریعے عوام میں ماحول کو صاف اور آلودگی سے پاک رکھنے کے طریقوں کی آگاہی دینا اور ان کی اہمیت اجاگر کرنا شامل ہیں۔

پاکستان کے ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی وجہ سے یہاں کی عوام میں ماحولیاتی شعور نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پاکستان قدرتی آفات سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان طوفانی بارشیں، سیلاب اور اکثر جگہوں پر قحط سالی کی صورت حال سے بھی دوچار رہ چکا ہے۔ موجودہ وزیراعظم پاکستان یوں تو کئی بار خود کو ”اینوائرمنٹلسٹ“ کا لقب دے چکے ہیں لیکن سوائے چند ایک بار درخت لگانے کی تلقین کرنے کے اس جانب بھی ان کی کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس سال کووڈ 19 کی وجہ سے پوری دنیا میں ہی یہ دن روایتی انداز میں نہیں منایا جائے گا۔ یورپین ممالک میں ارتھ ڈے کے موقع پر ہونے والی تمام تقریبات اور سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ایسے بہت سے کام ہیں جو ہم سوشل ڈسٹنسگ اختیار کرتے ہوئے بھی کر سکتے ہیں مثلاً پودے یا درخت لگانا، آس پاس کے درختوں کو پانی دینا، صفائی کا خیال رکھنا، جانوروں کی بھوک پیاس مٹانے کے اقدامات کرنا، پلاسٹک کے تھیلے اور پلاسٹک سے بنی اشیاء کا استعمال کم سے کم یا پھر ترک ہی کردینا اس کے علاوہ اپنے آس پاس کے لوگوں خصوصاً بچوں کو ماحولیات کے بارے میں تعلیم دینا۔ یہ وہ تمام چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جو ہم اپنے گھروں میں رہ کر بھی بآسانی کرسکتے ہیں اود ایک ذمے دار فرد کی حیثیت سے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ارتھ ڈے کو محض ایک دن تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس دن کیے جانے والے تمام عہد کو اپنی روزمرہ زندگیوں کا حصہ بنا لیا جائے کیونکہ اس وقت زمین کو درپیش مسائل کا حل اس سلسلے میں کیے جانے والے فوری اقدامات میں ہی پوشیدہ ہے۔ یاد رکھیں زمین ہی ہمارا واحد گھر ہے اس کی بقا میں ہی ہماری اور آنیوالی نسلوں کہ زندگیوں کا تحفظ ہے اور اب زمین کو بچانے کا یہی واحد حل ہے کہ تمام بنی نوع انسان اجتماعی یا انفرادی طور پر اس کے تحفظ کے لئے کوشاں رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *