طلاق کو گالی رہنے دیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"farrah-ahmad\"کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس وقت یورپ کا نوجوان دنیا گھومنے کی خواہش کررہا ہوتا ہے، ہمارے ملک کا نوجوان شادی اور جہیز کے لئے پیسہ جوڑ رہا ہوتا ہے۔ شادی کی تعریف نصاب میں اس طرح سے کی گئی ہے کہ یہ وہ ادارہ ہے جس میں دو بالغ افراد ایک معاہدہ کرتے ہیں جس میں وہ تمام عمر ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ہر شادی کی بنیاد رکھی ہی نبھانے کیلئے جاتی ہے۔ پھر اگر ہر شادی کی بنیاد ہی نبھائے جانے پر ہے تو پھر شادی کا ناکامی اور طلاق جیسے عناصر کی گنجائش کہاں سے پیدا ہوجاتی ہے ۔ آئیے اس سلسلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں شادی معاشرتی سے زیادہ اب معاشی رجحانات کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ پہلی وجہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں مرد و خواتین کے درمیان مسابقتی رجحان کا بڑھنا۔ اب مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کے حصول کوشش مردوں سے زیادہ ہیں۔ نتیجتاً رشتوں کے حصول کیلئے معیار بھی اسی مطابقت بڑھتا چلا جاتاہے۔ دوسرا ہم نے معاشرے میں شادی کیلئے معاشی طور پر ایک معیار مختص کر دیا کہ کم از کم لڑکے کی پکی نوکری ہو، اپنا گھر ہو اور کم از کم ایک چھوٹی گاڑی بھی ہو۔ اب ایسے حضرات جو روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہوں شادی کیلئے اس معاشی معیار کو حاصل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں پھر ان کے پاس راستہ بچتا ہے زنا کا جوکہ شادی کی ذمہ داری اٹھانے سے حد درجہ آسان اور معاشی اعتبار سے سستا ہے۔ دوسری طرف خواتین کا رجحان شادی کیلئے ایسے افراد کی طرف بڑھنے لگاہے جو عمر میں نسبتاً ان سے دوگنے یا ازدواجی حیثیت میں شادی شدہ ہوں کیونکہ معاشی اعتبار سے یہ وہ حضرات ہیں جو زندگی میں ان معاشی معیاروں کو حاصل کرچکے ہیں جو شادی کیلئے ضروری بنادیے گئے ہیں۔ تو اب کوئی حرج نہیں اگر کسی کی دوسری بیوی بن کے بھی رہنا پڑے ۔ اب ایک طبقہ وہ بھی ہے جو اپنی اولادوں کو شادی جیسے رشتوں کیلئے اس طرح سے بھی تربیت کر رہا ہے کہ دیکھو بیٹا شادی چلے تو ٹھیک ورنہ سب ختم کرکے آجاﺅ۔ اگر سسرال والے ناز نخرے اٹھنے والے نہ ہوں یا روک ٹوک کرنے والے ہوں تو اسی وقت ان کو کھری کھری سناﺅ اور واپس آﺅ ہم زندہ ہیں تم لاوارث نہیں ہو۔ یہاں ہم میں سے کسی نے بھی تربیت کرتے ہوئے اپنی اولادوں کو یہ نہیں سکھایا کہ بیٹا رشتوں میں لینے سے زیادہ دینا پڑتا ہے۔ رشتے نبھانا اسی وقت ممکن ہے جب آپ میں سمجھوتہ کرنے کی گنجائش موجود ہو۔ رشتے Takingسے زیادہ givingکے اصولوں پر بنتے ہیں۔ احساسات سے جڑتے ہیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ احساسات تو وہاں ہوںگے جہاں آپ نے رشتوں کی بنیاد چاہت پہ رکھی ہوگی ۔ جہاں پسندیدگی اور Ownership ہو گی ۔ خواتین تو چھوڑیں یہاں بہت سے مرد حضرات کو یہ کہتے سنا کہ جب شادی کیلئے مناسب جوڑ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو برادری اور خاندان کا دباﺅ ہی اتنا زیادہ تھا کہ برادری کی پسند سے شادی کرنا پڑی، اس بحث سے قطع نظر کہ شادی کی کامیابی کا رجحان ارینج میں زیادہ ہے یا محبت میں۔ نقطہ نظر صرف یہ ہے کہ جن رشتوں میں احساس اور سمجھوتے کا جذبہ پیدا نہیں ہوا ان میں نبھانے کی کوشش کم نظر آئی ۔ معاشرے میں کچھ عرصہ پہلے تک طلاق کو گالی سمجھا جا تا تھا آج اس رویے میں کمی ہوتی نظر آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں طلاق کی شرح بڑھتی جارہی ہے اور لوگ شادی جیسے رشتے میں یہ سوچ کہ جارہے ہیں کہ شادی چلی تو چلی ور نہ چھوڑو۔ ساتھی کیا اور بچے کیا۔ عدالتوں میں گھستے رُلتے روتے بچے ایسے کیسوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

حل یہ کہ شادی میں سمجھوتے کی ناکامی کی صورت میں طلاقوں کے بڑھتے رجحانات کو بڑھاوا دینے سے بہتر ہے کہ شادی کے ادارے کو مضبوط بنانے کیلئے کوششیں کریں اور اس کیلئے انتخاب کے رویوں کو ذمہ دارانہ بنایئے ۔ اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں کہ شادی کے ادارے میں پوری ذمہ داری سے اور اپنی مرضی سے داخل ہوں صرف اس وقت جب وہ ذہنی ،جسمانی اور معاشی طور پر اپنے آپ کو اس قابل سمجھیں کہ اس ذمہ داری میں سمجھوتہ کرنے کے قابل ہیں اور خدارا طلاق کو گالی رہنے دیجئے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “طلاق کو گالی رہنے دیجئے

  • 06/11/2016 at 4:22 pm
    Permalink

    good column

  • 07/11/2016 at 8:08 pm
    Permalink

    Bohot ala

Comments are closed.