۔۔۔ کی گود میں حور دیکھ کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“پردہ ہٹے گا آہستہ آہستہ، سامنے تخت پہ ایک لڑکی کہنی سے ٹیک لگائے نیم دراز ہو گی۔ اس کے جسم پہ سو جوڑے ہوں گے، ہر جوڑا الگ نظر آتا ہو گا۔ ہر جوڑے کے لحاظ سے چہرے پہ میک اپ کی لہریں لگی ہوں گی۔ ہر جوڑے کی خوشبو الگ مہک رہی ہو گی۔ ہر جوڑے کا ڈیزائن الگ الگ نظر آئے گا۔ میرے کرتے کے نیچے بنیان نظر نہیں آتی (ہنسی) اس کے سو جوڑے الگ الگ نظر آئیں گے۔ سو جوڑوں کے پیچھے اس کا پورا جسم دکھے گا۔

جب اس پہ پہلی نظر پڑے گی تو آنکھیں پھٹ جائیں گی اور بندہ اسے بیٹھ کے چالیس سال دیکھتا رہے گا، پلک بھی نہیں جھپکے گا۔آخر وہ بولے گی، آپ میرے پاس نہیں آئیں گے، دور ہی بیٹھیں رہیں گے۔

وہ جس نے دوزخ کے کالے کالے فرشتے دیکھے، وہ حور کو دیکھ کے پاگل نہیں ہوگا تو اور کیا ہو گا؟ او ویکھی جاندا اے ، ویکھی جاندا اے(ہنسی)….

پھر وہ کہے گی، میرے سرتاج، میرے آقا، میرے پاس تشریف لائیں، آپ دور ہی بیٹھ گئے ہیں۔ پھراس کو ہوش آئے گا اور اس کے پاس جائے گا۔ یہ جنت کا نچلا درجہ ہے!

اگلے درجے میں شراب بھی ہے، کباب بھی ہے، پھل بھی ہے اور جنت کی خوبصورت لڑکی۔ جو بنی ہے انگوٹھے سے گھٹنے تک زعفران سے، گھٹنے سے سینے تک مشک سے، سینے سے گردن تک عنبر، گردن سے سر تک کافور۔ چار خوشبوؤں سے گندھی ہے۔

اس کا قد ہے ایک سو تیس فٹ، سر کے بال چوٹی سے آتے ہیں آبشار کی طرح اور ایڑیوں کا بوسہ لیتے ہیں۔ ایک سو تیس فٹ لمبے بال اور اس میں موتی ہیرے جڑے ہوئے۔ جب سر گھماتی ہے تو بال چاروں طرف بکھر جاتے ہیں، پوری جنت میں جگمگ جگمگ بجلیاں چمکنے لگتی ہیں۔ ایک مسکراہٹ سے جو نور نکلتا ہے، ساری جنت کو روشن کر دیتا ہے۔ قدم اٹھاتی ہے تو ایک لاکھ ناز وانداز اپنے خاوند کو دکھاتی ہے۔ ایک سو تیس فٹ لمبی لڑکی، تہاڈا قد پانچ فٹ دس انچ، چھ فٹ، تہانوں تے بوجھے وچ پا کے بھے جاوے گی (تم لوگوں کو تو جیب میں ڈال لے گی)  ]لوگ ہنستے ہیں[

فیر ویکھے گی میرا ہسبنڈ سجے پاسے، کبھے پاسے ( پھر ٹٹولے گی میرا خاوند دائیں طرف ہے یا بائیں طرف۔ (جیبیں ٹٹول کے دکھائی جاتی ہیں، لوگ ہنستے ہیں )

“تمہیں لوریاں دے رہی ہو ، گود میں بٹھا کے (لوگ ہنستے ہیں )۔ ارے میں قربان جاؤں، اللہ تمہیں بھی ایک سو تیس فٹ کا کر دے گا”

اور سنیے!

” جنت کی لڑکی، تم نے اس کو یوں دیکھا تو تمہیں اس کے حسن کا ایک لیول نظر آیا، ایک دو سیکنڈ کے بعد پھر دیکھا تو رب کی قسم، اس کا حسن ہزاروں گنا بڑھا ہوا پایا۔ لہذا ہزاروں سال اسے دیکھتا رہ تو لذت ختم نہیں ہو گی۔ نہ کھانا یاد رہے گا ، نہ پینا یاد رہے گا بس دیکھتے رہو تو پلانے والیاں یہ ہیں۔”

“جنت کی لڑکی اگر فنگر ٹپ دکھا دے تو سورج نظر نہیں آئے گا۔ جس کی فنگر ٹپ ایسی ہے اس کا چہرہ کیسا ہو گا؟ مستورات بھی سن رہی ہیں، سو ڈپریس نہ ہوں۔ ایمان والی عورت اس سے ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو گی وہ عورت جو نماز پڑھے، روزہ رکھے اور گناہوں سے بچے”

مزید سننا چاہتے ہیں،

” رات حور کو میں نے خواب میں دیکھا، اب بھی دیکھ رہا ہوں، میرے رب کی قسم، میں کیسے بتاؤں کیا حسن تھا. جو اللہ نے مجھے دکھایا، اس کی مسکراہٹ…. ہاۓ ہاۓ ہاۓ….(ہنسی) اگر وہ دنیا میں ہوتی تو میں فوت ہی ہو جاتا۔

اللہ نے جنت کی لڑکی کو ایسا حسن و جمال دیا ہے کہ اگر موت مر نہ گئی ہوتی اسے دیکھ کے آنکھیں برداشت نہ کرتیں، کلیجے پھٹ جاتے، مر جاتے”

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں ۔۔۔ کیا کمال کے مناظر باندھتے ہیں حضرت!

 آنکھوں کو گھما گھما کے اشتیاق کو بڑھاوا دیتے ہوئے، شرارتی ہنسی بکھیرتے اور ذومعنی جملے بولتے ہوئے لاکھوں کے مجمعے میں مسجد کے منبر سے اس پاکیزہ گفتگو کرنے والے کا کہنا ہے کہ کرونا کی وبا اس لئے بھیجی گئی کہ ملک میں بے حیائی اور فحاشی پھیل گئی ہے۔ ہم سر دھنتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ حضرت واقعی سادہ لوح ہیں؟ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا”۔ کاش کبھی اپنی تقریروں کے وڈیو کلپس خود بھی سن لیا کریں۔

حضرت کی سادہ لوحی تو ان کی مستقل مزاجی سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں چونکہ اسلام کا لفظ آتا ہے سو وہ وہاں کے مکینوں سے خاص الفت رکھتے ہیں۔ انہیں اس امر سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون آیا اور کون گیا۔ وہ اپنی وارفتگی میں اعلیٰ کرسی کے گرد ہی منڈلانا پسند فرماتے ہیں۔ خطابت میں کمال تو ہے ہی، اسلام آباد والوں کی فرمائش پہ بالکل ویسے ہی آنکھ سے نیر بھی بہاتے ہیں جیسے کبھی ریڈیو سے فوجی بھائیوں کا پروگرام پیش کیا جاتا تھا۔

نیر بہانے کے علاوہ ان کی آنکھوں میں بے ساختہ ایک الوہی چمک آ جاتی ہے جب وہ جنت کی لڑکی کے جسم کی ساخت بیان کرتے ہیں۔ وہ لڑکی جس کا دیدار اکثر اوقات اپنے خواب میں بھی کرتے ہیں اور وفور مسرت سے ان کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔

موجودہ وزیراعظم بھی تائب ہونے کے بعد تسبیح کے دانے پھیرتے ہوئے حضرت کے مصاحبین میں شامل ہیں سو حضرت کی رہنمائی اکثر و بیشتر حاصل کرتے ہیں۔ جنت کی لڑکی کا تذکرہ تو ہوتا ہی ہے، مسجد بند کرنے اور کھولنے کا مشورہ بھی لے لیا جاتا ہے۔

حضرت کا کہنا یہ ہے کہ آخر مسجد کیسے بند کی جا سکتی ہے؟ بھلا جس دن نمازیوں کو جنت کی لڑکی کا روح پرور نظارہ نہیں پیش کیا جائے گا، نماز میں بھلا کیا لطف رہے گا۔ نماز کا خشوع و خضوع اور آنکھیں میچ کے جنت کا تصور تو جنت کی لڑکی کے سہارے ہی تو قائم ہے۔

انہیں سپر سٹارز کو اسلام کی طرف مائل کرنے اور اسلامی روپ عطا کرنے میں ملکہ حاصل ہے۔ وہ ان کی تاک میں رہتے ہیں کہ کب ان بھٹکے ہوؤں کو حرام کاموں سے بچا کے انہیں جنت کا رستہ دکھایا جائے۔ اس سلسلے میں جنت کی لڑکی کے حسن وجمال کا تفصیلی ذکر بہت کام آتا ہے اور ہمارے نامور گلوکار اور کرکٹر دنیاوی بیوی کے ہاتھوں تنگ، فوراً ڈاڑھی رکھ کے جنت کی لڑکی کا سودا پکا کرتے ہیں۔

انہیں اداکاروں (بالخصوص طبقہ اناث) سے بھی خاص ہمدردی ہے سو وہ نامور اور کچھ معاملات میں شہرت یافتہ شخصیات پہ خاص دست شفقت رکھتے ہوئے انہیں سیدھی راہ پہ لانے کے لئے ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ پھر کسی پادری کی طرح ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے اُن کے گناہ بخشے جانے کی نوید سناتے ہیں۔

ہمیں ان کے معتقدین پہ ترس آتا ہے جو ان کے جنسی لذت سے بھرپور درس کی لذت جسم و جاں میں اندھی عقیدت سے انڈیلتے ہیں۔ زبان سے رالیں اور آنکھ سے خواہش کی ہوس ٹپکاتے ہیں اور ان خوابوں میں کھو جاتے ہیں جن کا سرا جنت کی شراب، کباب اور حور کے شباب سے جڑا ہوتا ہے۔ اب یہ ہمیں معلوم نہیں کہ کتنے لوگ ان خوابوں کی تعبیر یہیں پا لیتے ہیں ویسے مدرسے اور مولوی کی کہانیاں کسی سے چھپی ہوئی تو ہرگز نہیں۔

حضرت کے وڈیو کلپس دیکھتے ہم پہ تین کیفیات طاری ہوئیں۔ ایک تو اپنے عورت ہونے پہ گھن آئی، دوسرے ہمیں ایسی جنت میں ہر گز نہیں جانا جہاں لڑکیوں کا کام سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ بن سنور کے مردوں کو رجھایا جائے۔

اور آخری کیفیت یہ سوچتے ہوئے طاری ہوئی کہ اگر ابا آج زندہ ہوتے اور ان حضرت کا جنت کی لڑکی کے بارے میں بیان مسجد کی اول صف میں بیٹھ کے سنتے ہوئے خوشی سے سر دھن رہے ہوتے…  واللہ ہم انہیں کبھی معاف نہ کرتے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 thoughts on “۔۔۔ کی گود میں حور دیکھ کر

  • 23/04/2020 at 10:36 pm
    Permalink

    بہت شکریہ ڈاکٹر صاحبہ اس خوبصورت انداز ہمارے معاشرے کی ذہنی بیماری کو ایاں کرنے کا۔

    کس بے رحمی سے ایک پاک اور پر وقار کلام کو اس قدر گھٹیا معنی پہنائے ہیں اور اس کو خالص ایمان کا انعام قرار دیا ہے ان لوگوں نے۔

    جنت اور حوروں کی اس تشریح کو مندرجہ ذیل تشریح سے متقابل کرکے دیکھیں تو حیرت سے جبڑا ذمین پر گرتا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس تشریح میں چونکہ سیکس کا مزہ نہیں تو مولوی صاحب کیوں مانیں گے؟

    ملاحظہ ہو:

    ” وہ بہشت جو پرہیزگاروں کو دی جائے گی اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک باغ ہے۔ اِس میں اس پانی کی نہریں ہیں جو کبھی متعفن نہیں ہوتا اور نیز اس میں اس دودھ کی نہریں ہیں جس کا کبھی مزہ نہیں بدلتا۔ اور نیز اس میں اس شراب کی نہریں ہیں جو سراسر سرور بخش ہے جس کے ساتھ خمار نہیں۔ اس میں اس شہد کی نہریں ہیں جو نہایت صاف ہے جس کے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔ اس جگہ صاف طور پر فرمایا کہ اس بہشت کو مثالی طور پر یوں سمجھ لو کہ ان تمام چیزوں کی اس میں نا پیداکنار نہریں ہیں۔ وہ زندگی کا پانی جو عارف دنیا میں روحانی طور پر پیتا ہے اس میں ظاہری طور پر موجود ہے اور وہ روحانی دودھ جس سے وہ شِیر خوار بچہ کی طرح روحانی طور پر دنیا میں پرورش پاتا ہے بہشت میں ظاہر ظاہر دکھائی دے گا۔ وہ خدا کی محبت کی شراب جس سے وہ دنیا میں روحانی طور پر ہمیشہ مست رہتا تھا اب بہشت میں ظاہر ظاہر اس کی نہریں نظر آئیں گی۔ وہ حلاوتِ ایمانی کا شہد جو دنیا میں روحانی طور پر عارف کے منہ میں ڈالا جاتا تھا وہ بہشت میں محسوس اور نمایاں نہروں کی طرح دکھائ دے گا اور ہر ایک بہشتی اپنی نہروں اور اپنے باغوں کے ساتھ اپنی روحانی حالت کا اندازہ برہنہ کرکے دکھلا دے گا اور خدا بھی اس دن بہشتیوں کے لئے حجابوں سے باہر آجائے گا۔ غرض روحانی حالتیں مخفی نہیں رہیں گی بلکہ جسمانی طور پر نظر آئیں گی۔”

    شکریہ۔

  • 24/04/2020 at 1:06 pm
    Permalink

    آپکے کمنٹس دیکھ کر ایسے ہی محسوس ہوا جیسے کوئی انھوں کے شہر میں آئینہ بیچنے آ گیا ہو۔
    آنکھوں میں ابلیسی چمک اور چہرے پر شیطانی ہنسی اور مسکراہٹ لیے ایسے مولوی ہر اچھے کام کا حاصل اور بدلہ کثرت سیکس سمجھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا محور عورت اور سیکس کے علاوہ کچھ نہیں۔ حالانکہ جو جنت کی نعمتیں اور لذات بیان ہوئی ہیں وہ تشبیہات اور استعارے ہیں۔ ورنہ اگر حقیقی رنگ میں دیکھا جائے تو عورت اور مرد یا کسی بھی مونث اور مذکر کے درمیان جنسی تعلق کا بنیادی مقصد افزائش نسل ہے۔ اس میں لذت اور کشش کا پہلو اس لیے رکھا گیا ہے کہ لوگ اس سے بےزار ہو کر اسے ترک نا کر دیں۔ اور افزائش کا عمل نا رک جائے۔ مگر افسوس مولوی کی مثال اس بیل کی طرح کی ہے جس کی آنکھں پر پٹی بندھی ہو اور وہ کولہو کے گرد دائرے میں چکر لگا رہا ہو۔
    درحقیقت بعد از موت روح کی اس دنیا میں کیے گئے اعمال کی realization ہی جنت اور دوزخ ہے۔ روح کا غلط اعمال کا پچھتاوہ اور درست اعمال کی سرشاری ہی وہ کیفیات ہیں جنہیں جنت اور دوزخ کی نعمتوں اور عذابوں کے طور پر پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کی شدت کا دارو مدار دنیاوی زندگی میں کیے گئے اعمال پر ہو گا۔
    مجھے اس وقت سندھ کے ایک صوفی شاعر کا کلام یاد آ رہا ہے جس میں وہ ایک مجذوب بچے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماں سے روٹی کا تقاضا کرتا ہے۔ ماں کہتی ہے پکانے کے لیے چولہے میں انگار نہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ میں دوزخ سے انگار لے کر آتا ہوں۔ جب ماں اس سے پوچھتی ہے کہ انگار نہیں لائے تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں فرشوں سے دوزخ کا انگار مانگا تھا تو انھوں نے کہا کہ یہاں کوئی سچ مچ کا انگار تھوڑا ہی ہے۔ یہاں تو ہر آدمی اپنے اعمال کا انگار لے کر آئے گا۔
    مگر افسوس ہی کہ مولوی کے دل دماغ اور نیت پر صرف ایک ہی جنون چھایا ہوا ہے اور پوری امت کو اسی جنون میں مبتلا رکھنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ شاید یہ اسی قبیل کا حصہ ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم میں کہا گیا کہ ان کے دلوں پر ان کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مہریں لگادی گئی ہیں اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔

  • 29/04/2020 at 8:04 pm
    Permalink

    Great column. Ridicule is what these moolivi can not tolerate. A hundred years back no one in print took them seriously; now they fill the vaccum in media .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *