کرونا وائرس کے سماجی اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


فراز ؔ صاحب نے کہا ہے کہ ”دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا“ لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ اب مخلص دوست بھی ہاتھ ملانے سے گریزاں ہیں۔ شہر در شہر ایسی وبا ء پھوٹی ہے کہ اب، کسی سے کتنی ہی گرمی جوشی اور تپاک سے ملا جائے دوسرا شخض ہاتھ ملانے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتا۔ چوپال کے رنگ پھیکے پڑ گئے ہیں۔ قصہ گو ما سک پہننے ہاتھ میں سینیٹائزر پکڑے برگد کے گھنے درخت کے نیچے بیٹھا ہے لیکن حاضرین سماجی دور ی کے حکومتی ہدایت پر عمل پیرا ہو تے ہوئے گھروں میں مقید ہیں۔

قاصد نے کچھ دنوں کے لیے پیغام رسانی سے معذرت کر لی ہے۔ آخری خط میں محبوب نے گلے ملنے سے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر دیا تھا کہ گلے ملنا گلے بھی پڑ سکتا ہے۔ ویران کھیل کے میدان، سائیں سائیں کر تی سیر گاہیں اور صحت افزا مقامات پر سناٹے اس بات کا علان کر رہے کہ ہم درسی کتابوں میں شامل مضامین ”صبح کی سیر کے فائدے“ ”اور“ کھیلوں کی اہمیت ”سے دستبرار ہو گئے ہیں۔ “ آوارگی ”کی ْ“ صنعت ”دم توڑ گئی ہے۔ اہل خانہ کایہ دیرانہ مطالبہ“ کسی شام گھر بھی رہا کرو ”پورا ہو گیا ہے۔ محلے کی خبر رساں عورتوں کی نقل و حرکت محدود ہونے کی بدولت غیبت اور چغلی جیسی گھریلو صنعتیں بھی بند ہو گئی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کرونانے ہماری سماجی اور، معاشرتی قدروں کی اونچی عمارتیں زمیں بوس کر دی ہیں اور ہم یوں بے بس کھڑے ہیں جیسے تصویر لگا دیے کوئی دیوار کے ساتھ۔

اس جاں گسل کیفیت میں، ڈاکتر حضرات اور پیرا میڈیکل سٹاف خوف اور خدشات کو بالا طاق رکھ کر پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی میں دن رات مصروف عمل ہیں ان کا جذبہ انسانیت قابل رشک ہے، اس میں دوسری رائے نہیں کہ اگر یہ حضرت آگے بڑھ کر کرونا کے مریضوں کی صحت یابی کے لیے سر توڑ کوشش نہ کرتے تو معاشر ے میں سنگین حالات جنم لے چکے ہوتے۔ نیز وہ سوشل ورکر بھی قابل تعریف ہیں جو خدمت کے جذبے سے سر شار غریب اور مستحق لوگوں کو راشن پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

حکومت محدود وسائل میں اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کر رہی ہے۔ احساس پروگرام کے تحت لاکھوں لوگوں کو بارہ ہزار روپے وصول ہو چکے ہیں جو دیہاڑی دار مزدور طبقے اور غریب لوگوں کے معاشی حبس میں کسی سرد جھونکے سے کم نہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ا یک وائرس نے حکومت کے لیے کتنے محاذ کھول دیے ہیں۔ حکومت کو ہتھیلی پر سرسوں جمانا پڑ رہا ہے۔ یعنی عوام کو گھروں میں بھی رکھنا ہے اور معاشی بدحالی سے بھی بچانا ہے۔

لاک ڈاؤن بھی کرنا ہے اور معیشت کا پہیہ بھی نہیں روکنا، لوگوں کو کرونا کے سنگین نتائج سے آگاہ بھی کرناہے اور ڈرانا بھی نہیں، حالتِ بے یقینی میں رہ کر بے یقینی کے حالات بھی پیدا نہیں کرنے۔ سارا عالم اس تاریک سرنگ میں داخل ہوگیا ہے جس کے دوسرے سرے پر ابھی تک روشنی دکھائی نہیں دے رہی۔ دنیا بھر کے لوگ دوائیں تیار کرنے والے اداروں کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن فی الحا ل سائنس دان انسانیت کو کو ئی خوش خبری دینے سے قاصر ہیں۔ مایوسی اور پریشانی کے عالم میں لوگ خدا سے ہم کلام ہو رہے ہیں لیکن آسمانوں سے بھی حو صلہ افزا جواب نہیں آرہا پوری انسانیت بوکھلائے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہی ہے کہ شاید کہیں سے کوئی صدا ئے نوید سنائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *