شقیق بلخی کی نصیحت اور آج کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ شقیق بلخی ؒ ہارون الرشید سے ملاقات کرنے پہنچے۔ ہارون کے دربار پہنچنے پر ہارون نے ان سے پوچھا کیا آپ ہی شقیق زاہد ہیں؟ شقیق نے جواباً کہا نہیں! میں شقیق تو ہوں لیکن زاہد نہیں ہوں، ہاں البتہ آپ زاہد ہیں۔ ہارون نے بے ساختہ سوال کیا یہ سب کیسے ہو سکتا ہے؟ شقیق نے کہا میں بتائے دیتا ہوں، زاہد وہ ہے جو تھوڑے پر صبر و قناعت کرے۔ میں نے دنیا سے منہ موڑ لیا، مجھے جنت کے جلوے لہلہاتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود میری زبان ہل من مزید کا ورد جاری رکھے ہوئے ہے، پھر میں زاہد کیسے ہو سکتا ہوں۔ رہی بات آپ کی تو آپ کا زاہد ہونا اس طرح ہے کہ آپ اس مردار، خوار و بے قرار دنیا پر صبر کیے بیٹھے ہیں۔ اور آخرت کی بے انتہا نعمتوں اور بے مثال جنت سے بے نیاز ہیں۔

ہارون الرشید نے بات کی نزاکت اور گہرائی کو سمجھنے میں کوئی دیر نہ کی اور موقع کو غنیمت جان کر شقیق بلخی ؒ سے کہا مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ اس پر شقیق نے دلیری کے ساتھ قیمتی نصائح سے وقت کے حکمران کو نوازتے ہوئے کہا : اے ہارون! خدا نے تجھے صدیق کی جگہ بٹھایا، اس لئے کہ وہ تم سے صداقت، اور حق و باطل میں فرق چاہتا ہے۔ اے ہارون! رب ذوالجلال نے آپ کو عمر فاروق کی جگہ بٹھایا ؛ کیونکہ سختی اور انصاف چاہتا ہے۔ میرے رب نے تجھے عثمان غنی کی جگہ بٹھایا؛ اس لئے کہ وہ حیا، حلم اور سخاوت چاہتا ہے۔ رب العالمین نے تجھے علی المرتضی کی جگہ بٹھایا تم سے علم و عمل اور منصفانہ فیصلہ چاہتا ہے۔

پھر کہنے لگے اے ہارون! تمہیں معلوم ہے؟ خدا نے ایک جگہ بنا رکھی ہے جسے دوزخ یا جہنم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور پتا ہے تمہیں اس کا دربان بنا کر تین چیزیں عطا کی ہیں۔ ایک بیت المال، دوسری تلوار اور تیسری چیز تازیانہ (کوڑا) ۔ اور آپ کو حکم دیا کہ ان تین چیزوں کی مدد سے مخلوق خدا کو جہنم میں جانے سے روکے رکھنا۔ یہ کام آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس کو اس طرح سرانجام دینا کہ جو شخص بھی خدا کے حکم کے خلاف ورزی کرے اسے تازیانہ (کوڑا) سے سزا دو۔

جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے اسے تلوار سے ختم کر دو۔ اور جو شخص محتاج و غریب ہو، بیت المال سے اس کا پورا حصہ اسے دلوا دو۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنا اگر ان باتوں پر عمل نہ کرو گے، تو اس بھڑکتی ہوئی جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے بھی تم خود ہی ہوگے، باقی سب تمہارے پیچھے پیچھے آئیں گے۔ اتنا کہہ کر شقیق خاموش ہو گئے، لیکن بادشاہ وقت نے ایک دفعہ پھر ان سے کہا حضرت کچھ اور نصیحت کیجئے۔

شقیق نے کہا : تم چشمے کی طرح ہو باقی اہل کار ندیوں کی مانند ہیں۔ صاف چشمہ سے جو پانی پھوٹ کر آیا کرتا ہے ندیاں اسے گدلا نہیں کر سکتیں، لیکن اگر چشمہ خود ہی گدلا ہو تو باقی سب کو گدلے پن سے نہیں بچایا جا سکتا۔ ہارون یہ نصائح سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، اور شقیق بلخیؒ کو بؑڑی عزت اور عظمت سے نوازتے ہوئے رخصت کر دیا۔

اس حکایت میں شقیق بلخیؒ نے وقت کے حکمران کو اس کے تمام اوصاف اور ذمہ داریاں بڑے جامع انداز میں سمجھا تے ہوئے جہاں ہمیں اس بات سے آگاہ کیا کہ ایک حکمران کامقام کیا ہوتا ہے اور انجام کیا ہو سکتا ہے۔ وہیں اسلامی نظام سے بھی آگاہ کر دیا کہ اسلامی نظام میں اطاعت مغربی مفکرین کی نہیں کی جاتی جو خود کشمکش کا شکار ہیں، بلکہ ان بے مثال حکمرانوں کے بے مثال دور کی اطاعت کی جاتی ہے جس میں کسی جانب کوئی جھکاؤ نہیں۔

جس میں مادیت، روحانیت پر غالب نہیں آ سکتی۔ وہ نظام جس کا سہارا لے کر اقتدار کی کرسی پر قبضہ کیا جاتا ہے، اس کامطلب یہ ہے کہ وہ نظام دوسرے تمام نظاموں ( اشتراکیت، سرمایہ داری، جاگیر داری وغیرہ) سے بہت بلند اور ارفع ہے جسے صرف تقریروں کی حد تک نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ کرسی پر براجمان ہونے کے بعد اس کے رائج کرنے کی بھی کوشش کی جائے۔

لیکن آج کا المیہ کیا ہے آج ہمارے حکمرانوں تک جن لوگوں کی رسائی ہو سکتی ہے وہ علم سے عاری، مال و دولت کے پجاری ہوتے ہیں۔ ان کو نصائح کے لئے نہیں بلکہ چاپلوسی کے لئے اپنے مقرب بندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب تک وہ ان کے کلمہ لا شریک کا ورد کرتے رہیں سب اچھا ہوتا ہے، جس دن کسی اور کا کلمہ ان کی زبان سے نکلا اگلے دن ان کا نام کسی سکینڈل میں لٹکتا نظر آتا ہے۔

اس کے علاوہ نصیحت تو دور کی بات اگرکوئی شکایت بھی بادشاہ کے حضور پیش کرنی ہوتو اس کے لئے بادشاہ سلامت کی رہائش کے سامنے پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگانی پڑتی ہے۔ تب جا کر کوئی ایک آدھ نوٹس کی خبریں گردش کرتی ہیں۔ جو زور ختم ہونے پر ٹھنڈی پڑ جاتی ہیں۔ اس نظام میں اہل علم کو صرف کسی خاص مسئلہ تک محدود رکھا جاتا ہے۔ حالانکہ کوئی اہل علم جہاں اس خاص شرعی مسئلہ کے بارے میں کوئی رائے دے سکتا ہے، وہیں وہ کسی ملک میں چلنے والے نظام کو بھی بخوبی جانتا اور سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ موجودہ نظام جس میں غریب غربت کی گہری کھائیوں میں دھنسا چلا جا رہا ہے، اور امیر مال ودولت کے منارے طہ کرتا جا رہا ہے، اس کی افزائش کہاں ہوئی اور یہ ہم پر مسلط کیوں کیا گیا ہے، اور اس کی پشت پناہی کون کیوں کررہا ہے۔ لیکن ایسے کسی بھی مسئلہ پر اہل علم کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply