کرونا کے ساتھ رہنا سیکھنا ہو گا
آج کے کالم کا عنوان دیکھ کر آپ سو چ رہے ہو ں گے کہ کرونا سے تو بچنا اور لڑنا ہے اورمیں اس کے ساتھ رہنے کی بات کرنے جا رہا ہوں۔ جی ہمیں کروناسے کا میابی سے بچنے اور لڑنے کے لئے ہی اس کے ساتھ رہنا سیکھنا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ہمیں اب اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر نا اور انتہائی سنجیدگی سے لینا ہو گا کہ کرونا وائرس ایک خطر ناک وبا کی صور ت میں پاکستان سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اور تمام ممالک اس کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے ہو ئے نظرآتے ہیں۔
جبکہ مستقبل میں اس کا تیز ی سے پھیلاؤ اورزیادہ ہلاکتیں متوقع ہیں اور اس وجہ سے پیدا شدہ صورت حال غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔ ان حالات میں ایک رویہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس بحرانی صورت حال میں خوف وہراس اور جسمانی و نفسیاتی دباؤ کا شکا ر ہو کر اپنے امور زندگی انجام دینے کے قابل نہ رہیں اور اپنے ساتھ اہل خانہ اور معاشرے کے لئے بھی مشکلات کا باعث بن جائیں۔ دوسرا اور بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم تمام تر ممکنہ حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اس وبا ء کے ذہنی و نفسیاتی خوف سے باہر نکلیں اور اپنے لائف سٹائل کو مو جودہ حالات کے مطابق ڈھالیں۔
یعنی گھر میں رہ کر تمام معمولات زندگی کی انجام دہی کی کو شش اور صلا حیت پید ا کریں۔ اس کے لئے ہمیں ٹیکنالو جی کے استعمال کی عادت ڈالنا اور اپنی صلاحیتوں کا ادراک اور ان میں اضافہ کرنا ہو گا۔ موجودہ حالات کے مطابق اندازہ لگانا ہو گاکہ ہمارے لیے کیا کیا ممکنات ہیں۔ اپنے دفتر، کاروبار، تعلیمی سرگرمیوں وغیرہ کو گھر پر رہ کر ایک با قاعدہ منصوبہ بندی اور شیڈول کے مطابق چلا نا ہوگا اور اگر آپ کے کاروبار اور انڈسٹری کو چلنے کی اجازت ہے تو تمام طے شدہ ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔
یقینا عادت نہ ہونے اور منا سب سہو لیات کی کمی کی وجہ سے شروع میں مشکلات آئیں گی لیکن ہمیں بہتر وقت کے انتظار میں اس راستے پر چلنے سے رکنا نہیں بلکہ کو شش اور حکمت کے ساتھ اس مشکل وقت کو ہی اپنے لیے بہتر بنانا ہو گا۔ مو جودہ فرصت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کوعبادات اور اپنے رجحان کے مطابق تحقیقی، تعلیمی، ادبی، آرٹس، کتب بینی اور مختلف مہارتوں میں اضافے وغیر جیسی صحت مندانہ سر گرمیوں میں مصروف کرکے روحانی ذہنی اور نفسیاتی سکون حاصل کرنا اور اس وقت کو اپنے لئے مفید اور یاد گار بنا نا ہو گا۔
یہ سمجھ لیجیے کہ آپ کو کرونا وائرس کے حوالے سے جو ضروری معلومات اور رہنمائی حاصل ہو نا تھی و ہ تقریباً حاصل ہو چکی لہذا الیکٹرونک میڈیا اور سو شل میڈیا کی خبر وں کی یلغار سے دور رہ کر نیوز فوبیاسے شکا ر ہو نے سے بچیں اور ضروری آگاہی تک اپنے آپ کو محدودکر لیں۔ مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے اپنے آپ، اہل خانہ، رشتے داروں اور احباب کو تصویرکا مثبت رخ دیکھا کر حوصلہ اور امید دلائیں کہ وائر س کا شکار ہو نے والے 97 فیصد افرادصحت یاب ہو جاتے ہیں اور ضروری احتیاط اختیار کر کے اس کا شکار ہو نے سے بچا جا سکتا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندو ں کی مدد جاری رکھیں۔ اس دفعہ ماہ رمضان اور عید الفطر مختلف ہو ں گے رمضان میں گھر پر ہی عبادات کا اہتمام کرنا ہو گا اور شاید عید بھی اپنے پیار وں سے گلے ملے بغیر ہی منانا ہو گی۔ جی مشکل حالات اور بحرانوں میں ہمیشہ کامیابی کی کہانیاں بھی سامنے آتی ہیں اور آپ بھی کرو نا کے ساتھ رہنا سیکھ کر اپنے آپ کو ان سٹوریز میں شامل کروا سکتے ہیں۔ یقینا اب تو آپ سمجھ گئے ہو ں گے کہ میرے آج کے کالم کا عنوان ہمیں کرونا کے ساتھ رہنا سیکھنا ہو گا کیو ں ہے۔ خدا پوری انسانیت کو جلد اس مشکل وقت سے چھٹکارہ دلائے۔ (آمین )


