یوول حراری : کیا کرونا وائرس موت سے متعلق انسانی رویے کو بد ل دے گا؟


آج اکیسویں صدی میں انسانی رویے قدر مختلف ہیں۔ ٹرین کا حادثہ، بہت زیاد ہ پھیلی ہوئی آگ یا پھر سمندری طوفان جیسی کوئی بھی آفت جب بڑے پیمانے پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے تو انسانی ذہن فوراً سے یہ سوچتا ہے کہ اس مصیبت سے باہر کیسے نکلا جائے، لیکن کوئی بھی اسے خدا کی طرف سے سزا یا ناگزیر قدرتی آفت کا نام نہیں دیتا ہے۔ تکنیکی بنیادوں پر غورو فکر کرکے ہم یہ نتائج نکالتے ہیں ممکن ہے اگرریلوے کا محکمہ اپنے حفاظتی بجٹ پر ضرورت سے زیادہ زور نہ دیتا، میونسپلٹی کمیٹی آگ بجھانے کے بہتر آلات خریدتی اور اگر حکومت جلدی مدد بھیجتی تو ان لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ اکیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر اموات ازخود قانونی چارہ جوئی اور تحقیقات کی وجہ بن جاتی ہیں۔

آج طاعون اور دیگر وباؤں کے بارے میں بھی ہمارا یہی رویہ ہے۔ اگرچہ کچھ مذہبی راہنماؤں نے عجلت میں ایڈز کو ہم جنس پرستوں کے لیے خدا کی سزا قرار دیا، لیکن جدید معاشروں نے ان نظریات کو رد کیا۔ اس لیے آج ہم ایڈز، ایبولا اور دیگر حالیہ وبائی امور کو تنظیمی ناکامیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ انسانیت کے پاس اس طرح کے مصائب سے بچنے کے لیے ضروری معلومات اور اوزار موجو د ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود اگر کوئی متعددی بیماری قابو سے باہر ہوجاتی ہے تو اسے خدائی غضب قرار دینے کی بجائے انسانی نا اہلی تصور کیا جا تا ہے۔ حتی کہ کووڈ 19 بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے۔

بحران ابھی بہت دور ہے۔ مگر الزام تراشی کا کھیل شروع ہوچکا ہے۔ مختلف ممالک ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں۔ حریف سیاستدان ہینڈ گرینیڈ کی مانند ذمہ داری کا بوجھ ایک دوسرے پر پھینک رہے ہیں۔ غم و غصے کی اس لہر کے ساتھ ساتھ امید کی ایک بہت بڑی کرن ابھی بھی باقی ہے۔ وبائی مرض کے عروج کی اس گھڑی میں ہمارے ہیرو ایسے پجاری نہیں ہیں جن کا کام مردوں کو دفن کرنا ہے اور ہر مصیبت کو خدائی عذاب قرا ر دینا ہے، بلکہ ہمارے مجاہد ڈاکٹر، نرسیں اور طبی عملے کے افراد ہیں جنہوں نے انسانی زندگیوں کا تحفظ کرنا ہے، اور ہمارے سپر ہیرو ہماری لیبارٹریوں میں بیٹھے سائنسدان ہیں جو ان امراض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ویکسین بنانے کا کام جنگی بنیادوں پر کر رہے ہیں اور آج یہ سوال دنیا بھر کے لوگوں کے لبوں پر ہے کہ یہ ویکسین کب تیارہوگی؟ قابل غور امر یہ ہے کہ سبھی پرامید ہیں کہ ایک دن سائنسدان ویکسین بنا ہی لیں گے۔

بلاشبہ جب ویکسین بن جائے گی اور اس وبائی مرض پر قابو پا لیا جائے گا تو انسانیت کا بنیادی فائدہ کیا ہوگا؟ لازمی نتیجے کے طور پر ہمارے اندر یہ احساس اجاگر ہوگا کہ ابھی ہمیں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں زیادہ تعداد میں وینٹی لیٹرز، حفاظتی لباس اور ٹیسٹنگ کٹس جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نامعلوم بیماریاں پھیلانے کے اسباب اور نئے نئے طریقہ علاج پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

شاید کچھ لوگ اس خیال سے اعتراض کریں کہ کس طرح یہ بحران ہمیں آگے بڑھنے کا درس دے سکتا ہے؟ ہمیں قدرتی طاقتوں کو مسخر کرنے کی انسانی قابلیت پر اتنا بھی یقین نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے معترضین آج بھی قرون وسطی کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔ ایک پادری جو ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں ہفتہ وار بائبل کے مطالعہ کی راہنمائی کرتا ہے، اس نے کہا ہے کہ یہ وبا بھی ہم جنس پرستوں کے لیے خدائی سزا ہے۔

لیکن دوسری طرف کیتھولک چر چ اپنے پیروکاروں کو گرجا گھروں سے دور رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اسرائیل نے اپنے عبادت خانوں کو بند کردیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران لوگوں کی مساجد میں جانے کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔ ہر قسم کے مندروں اور فرقوں نے عوامی تقریبات معطل کردی ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے اپنی تحقیقات سے یہ جانا ہے کہ فی الحال اس وبائی مرض سے بچنے کا واحد حل سوشل ڈسٹنسنگ ہے، اس لیے انہوں نے ان مقدس مقامات کو بند کرنے کی سفارش کی ہے۔

یقیناً ہر اس شخص کا تعلق قرون وسطیٰ سے نہیں ہے جو انسان کو پر اعتماد خوا ب دیکھنے سے روکتا ہے۔ حتی کہ سائنسدان بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہمیں اپنی توقعات میں حقیقت پسندانہ طرز عمل اپنانا چاہیے۔ فی الحال ہمیں یہ سوچتے ہوئے ڈاکٹروں کی صلاحیت پر اندھا دھند اعتماد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ہمیں تمام آفات سے بچا لیں گے۔ شاید ایک یا دو صدیوں میں سائنس انسانی زندگیوں کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دے گی۔ لیکن فی الحال مٹھی بھر ارب پتی بچوں کو چھوڑ کر ہم سب نے ایک دن مر جانا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب ہم سب اپنے پیاروں سے محروم ہوجائیں گے۔

صدیوں سے لوگ مذاہب کو دفاعی طریقہ کار کے طور پر استعمال کررہے ہیں، اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے اعمال کا صلہ آخرت میں ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ لیکن اب لوگ کبھی کبھار اپنے اعتقاد متبادل دفاعی نظام کے طور پر سائنس کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ موجودہ بحران بہت سے افراد کو انسانی زندگی کے عارضی پن اور انسانی کامیابی سے واقف کردے گا۔ جس کی بدولت انسان اپنی کمزوریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے مضبوط دفاعی نظام کی تعمیر کرے گا۔ جب موجود ہ بحران ختم ہوجائے گا تو میں شرط لگاتا ہوں کہ ہم میڈیکل اسکولوں اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے بجٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھیں گے۔

یوول نوح حراری کے آرٹیکل کا لنک

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2