65 کی پاک بھارت جنگ اور مفروضہ غداران وطن کا من گھڑت قصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستمبر 1965 کی ایک تاریک رات تھی۔ امرتسر سے بھارتی بمبار طیاروں کا ایک سکواڈرن پاکستان پر حملہ کے لیے تیار کھڑا تھا۔ ابھی روانگی کا حکم نہیں ملا تھا۔ اچانک ہوا بازوں کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کے لیے کہا گیا۔ جیسے ہی ہوا باز وہاں پہنچے تو ایک سینئر افسر نے انہیں ٹریفک پولیس کے زیر انتظام استعمال ہونے والی سیٹیاں تقسیم کی اور سمجھایا کہ جیسے ہی وہ سرگودہا ائیر بیس کی طرف روانہ ہوں تو انہیں نیچے سے ٹارچ کی لائیٹں دکھائی دیں گی۔

یہ ٹارچیں دریائے چناب کے اس پل سے ان کے بعض ہمدردان کی طرف سے اس لیے جلائی جارہی ہوں گی کہ وہ اپنے ہدف کو پہچان کر اس پل پر بمباری کریں اور لاہور سرگودہا جانے والے راستے کو تباہ کر دیں۔ ہوا بازوں نے مہیا کردہ سیٹیوں کی طرف دیکھ کر سوال کیا کہ ان کاکیا استعمال ہوگا۔ جس پر اس اعلیٰ افسر نے زہر خند مسکراہٹ کے ساتھ ان کی عقل کا ماتم کرتے ہوئے یہ بھید کھولا کہ رات کے وقت صرف آواز سے دشمن اور دوست کے طیاروں کی پہچان مشکل ہے۔

ان کے جو ہمدرد پل پر ہوں گے سیٹیوں کی آواز آئی گی تب ہی تو وہ ٹارچ سے روشنی بھینکیں گے ورنہ انہیں کیسے پتہ چلے گا کہ یہ پاکستانی طیارے ہیں یا بھارتی؟ صرف طیاروں کی گھن گرج سے پہچان تو نہیں ہوسکے گی۔ اسی لیے انہیں یہ سیٹیاں مہیا کی جارہی ہیں تاکہ جب وہ یہ بجائیں تو نیچے ان کے منتظرین کو علم ہو جائے کہ یہ کون سے طیارے ہیں۔

ذہانت سے لبریزیہ سکیم سن کر تمام ہوا باز جوش سے بھر گئے اور سیٹیاں منہ میں ڈال کر پر جوش انداز میں بجاتے ہوئے اپنے ہدف پر روانہ ہوگئے۔ انہیں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اس پل کی چوڑائی تقریباً پچاس فٹ اور لمبائی تین سو فٹ تک ہے۔ اس لیے بہت احتیاط سے نیچے جا کر پل سے صرف سوفٹ اوپر رہ کر ہی بم گرائے جائیں ورنہ بہت بلندی سے اڑتے ہوئے ممکن ہے کہ یہ بم قریب کی اس بستی پر گر جائیں جہاں ان کے ہمدرد رہتے ہیں۔ یوں سارے کا سارا منصوبہ دھرا رہ جائے۔

پاکستان ائیر فورس کی طرف سے پل پر ایک چیک پوسٹ بنائی گئی تھی تاکہ ممکنہ فضائی حملہ سے اسے بچایا جاسکے اور اس پر طیارہ شکن توپ نصب تھی۔ لیکن یہ نوجوان بلا روک ٹوک اس چیک پوسٹ کے سامنے کھڑے ہو کر ٹارچیں جلانے لگے چیک پوسٹ پر متعین اہلکاروں نے ان نوجوانوں سے پوچھا بھی کہ یہ کیا کر رہے ہیں کیونکہ ان دنوں بلیک آوٹ کی سختی تھی۔ ان نوجوانوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ابھی کچھ طیارے آنے والے ہیں جن کے پائلٹ سیٹیاں بجا رہے ہوں گے اور جیسے ہی وہ گزریں گے ہم یہ ٹارچ جلائیں گے اور پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔

حیرت ہے کہ چیک پوسٹ پر موجود جوانوں نے تب بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ جیسے ہی طیارے گھن گرج کے ساتھ پاکستان کی فضامیں داخل ہوکر سرگودہا کی طرف بڑھے تو پائلٹوں نے سیٹیاں بجانی شروع کر دیں اور فضا میں سیٹیوں کا ایک شور برپا ہوگیا۔ اس شور کو سن کراور راڈر سے خبر پا کر سرگودہا ائیر بیس سے بھی چند طیارے اڑے اورایک نڈر پائلٹ ایم ایم عالم نے چند سیکنڈ میں کئی بھارتی طیارے گرا دیے چنانچہ بھارتی فضائیہ اور ان کے ہمدردوں کا یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا۔

یہ مفروضہ منظر کشی چینوٹ کے ایک مولانا الیاس چینوٹی صاحب کے اس حالیہ بیان کے حوالہ سے کی گئی ہے جس میں انہوں نے کورونا ٹائیگر فورس میں احمدی نوجوانوں کی شرکت کے خلاف دلائل دیتے ہوئے یہ ”انکشاف“ کیا کہ 1965 کی جنگ میں دریائے چناب پر سے احمدی لائیٹس جلا کر بھارتی طیاروں کو ہدف کی اطلاع دیا کرتے تھے۔ مولانا کے اس “بیان” کی تصدیق تو کیا، اس کا کوئی اشارہ تک نہ تو پاکستان ائیر فورس والوں کے ریکارڈ میں ہے اور نہ ہی کسی اور ادارے کے پاس ایسی دستاویز پائی جاتی ہے اور نہ کبھی (پاکستان یا بھارت میں چھپنے والی) کسی مستند سرکاری یا غیر سرکاری کتاب میں ایسے کسی واقعے کا کوئی ذکر ملتا ہے۔

ان دنوں دریائے چناب کا پل چونکہ حساس نوعیت کی جگہ تھی اس لیے یہاں نہ صرف چیک پوسٹ قائم کی گئی تھی بلکہ ایک طیارہ شکن توپ بھی نصب تھی جس کی یاد گار آج بھی پرانے پل پر موجود ہے اور اس پر ایک احمدی نوجوان مکرم مبارک احمد بھٹی صاحب کا نام بھی کندہ تھا جنہوں نے ملک کی خاطر اپنی جان قربان کی تھی۔

افسوس ہوتا ہے ان مولویوں پر جو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہونے کے دعویٰ تو کرتے ہیں۔ مگر مذہب کی تعلیمات کو محض اپنے ذاتی مفادات کے لیے پس پشت ڈال دیتے ہیں اور غلط بیانی اور چھوٹے پراپیگنڈا کو مذہب کی خدمت سمجھتے ہیں۔ مذہب کی آڑ میں جب چاہے قانون کے مقابل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا قانون کے حوالہ سے کوئی بات بھی کرے تو یہ اسے غدار وطن، غدار ملت، غدار آئین اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ قرار دینے لگتے ہیں اور خود جب چاہے قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں اور حکومت اور معاشرہ دونوں ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

حال ہی میں وائرس کی پھیلتی ہوئی وبا کو روکنے کے لیے حکومت نے جو قانون مرتب کیا ہے۔ رمضان کی آمد کے حوالہ سے علما اس کی شدید مخالفت کررہے ہیں اور خواہ مخواہ اسے مذہبی مسئلہ بناکر پیش کررہے ہیں حالانکہ مذہب لوگوں کو احتیاط اور تکالیف دور کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر ان علما کا اصرار ہے کہ قانون خواہ کچھ ہو، یہ اسے توڑ کر رہیں گے۔ خدا اس مشکل سے دنیا کو نکالے اور ایسے پیشواؤں سے عوام کو رہائی نصیب ہو۔

ایم ایم عالم : 65 کی جنگ کے ہنگام

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply