سیاسی شطرنج کے دو مہرے: عمران خان اور شہباز شریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان وزیر اعظم ہیں۔ وہ اس عہدے پر برقرار رہنا چاہتے ہیں۔ ایک منتخب لیڈر کے طور پر انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئندہ انتخابات تک اس عہدہ پر قائم رہیں۔ موجودہ حالات میں جبکہ کورونا وائرس سے پوری دنیا کی طرح پاکستانی عوام کی صحت و زندگی کو اندیشے لاحق ہیں، ملک میں سیاسی تسلسل اور حکومتی استحکام کی ضرورت بڑھ چکی ہے۔
شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں۔ وہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ ان کی کمزوری ان کے بھائی نواز شریف ہیں جنہوں نے 2017 میں معزول ہونے کے بعد ’ووٹ کو عزت دو ‘ کا نعرہ لگایا ۔ اس نعرے کی بنیاد پر عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا لیکن جن حلقوں کو ناراض کرنے کے سبب وہ اقتدار سے محروم ہوئے تھے، ان کی پریشانی، تشویش اور ناراضی بھی بڑھ گئی۔ شہباز شریف نے یہ خلیج پاٹنے اور اقتدار تک پہنچنے کا راستہ نکالنے کی اپنی سی کوشش کی۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ 2018 کے انتخابات سے دو ماہ پہلے انہیں وزارت عظمی کا اس حد تک یقین دلوا دیا گیا تھا کہ ان کی کابینہ پر بھی بات مکمل ہوچکی تھی ۔ لیکن پھر بیانیے کی وجہ سے بات بن نہیں سکی۔ شہباز شریف کے بقول وہ اپنے بھائی کی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
تاہم نواز شریف کا ہاتھ تھامے رکھنے کے کچھ دوسرے پہلو بھی موجود ہیں۔ ورنہ شہباز شریف نے اپنے اقتدار کے منصوبے کو محفوظ رکھنے کے لئے ہی انتخابات سے چند ہفتے قبل لندن سے واپسی پر نواز شریف کا استقبال کرنے کے لئے لاہورائیرپورٹ پہنچنے سے گریز کیا۔ حالانکہ نواز شریف اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ لاہور واپس پہنچ رہے تھے۔ نیب عدالت دونوں باپ بیٹی کو طویل المدت سزائیں سنا چکی تھی اور یہ بات یقینی تھی کہ انہیں واپس آتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی طرف سیاسی قوت کا مظاہرہ انتخابات میں پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرسکتا تھا ۔ اس کے علاوہ نواز شریف کا یہ مقدمہ بھی مضبوط ہوتا کہ انہیں عوامی مقبولیت اور جمہوری حکومت کی خود مختاری کامطالبہ کرنے پر پہلے وزارت عظمی سے معزول کیا گیا اور اب ایک بے بنیاد مقدمہ میں طویل سزا دے کر جیل بھیجنے کی تیاری کی گئی ہے۔
شہباز شریف کو بھی اس صورت حال کا بخوبی اندازہ تھا لیکن وہ اس معاہدے کو بچانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے جو بقول ان کے انہیں وزیر اعظم بنانے کے لئے طے پاچکا تھا۔ ان کا خیال ہو گا کہ ایک بار وہ وزیر اعظم بن جائیں تو آسانی سے اپنے بھائی کو سہولت فراہم کرسکیں گے۔ تاہم یہ امید بر نہیں آئی۔ جیسا کہ شہباز شریف نے بھی اشارہ کیا ہے کہ جیسی ملاقاتیں اور یقین دہانیاں انہیں کروائی جارہی تھیں، ویسی ہی ملاقاتیں عمران خان سے بھی ہورہی ہوں گی اور ان کی وزارت عظمی کے لئے بھی ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہوگا۔ شہباز شریف وزیر اعظم نہیں بن سکے اور بھائی کو بھی جیل جانے سے نہیں بچا سکے لیکن انہوں نے بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہ ساتھ کسی اصول کی بنیاد پر استوار نہیں ہے۔ جب وہ بھائی کے سیاسی مؤقف سے اختلاف کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے تو ان سے سیاسی راستہ علیحدہ کرنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ تاہم دیگر لوگوں کی طرح شہباز شریف بھی یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ پنجاب کے عوام نواز شریف کی ’محبت میں مبتلا‘ ہیں۔ ووٹ بنک انہی کا ہے۔ نواز شریف کی سرپرستی کے بغیر شہباز شریف یا ان کی قیادت میں کوئی پارٹی انتخاب جیتنے کی اہل نہیں ہے۔ بھائی کی عزت و رفاقت کے علاوہ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر شہباز شریف کے لئے نواز شریف سے راستہ علیحدہ کرنا ممکن نہیں ۔
اپوزیشن لیڈر کے طور پر بھی شہباز شریف نے اپنی صلاحیتوں کوقومی حکمت عملی کی بجائے اپنے اہل خاندان کے لئے سہولت حاصل کرنے یا یہ یقین دلانے پر صرف کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے طور پر بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ گزشتہ برس کے دوران جب تحریک انصاف کی حکومت معاشی حکمت عملی مسلسل ناکام ہورہی تھی اور گورننس کے بارے میں نت نئے سوالات سامنے آرہے تھے تو بھی شہباز شریف ایک موقع ملنے اور 6 ماہ میں معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی باتیں کرکے اپنے اقتدار کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ انہیں نہ اپنے بھائی کے سیاسی مؤقف سے غرض تھی اور نہ ہی اس بات کی پرواہ کہ بطور سیاست دان اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر جمہوریت، پارلیمنٹ کے اختیار اور میڈیا کی آزادی کے بارے میں بھی ان پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان پہلوؤں کو صرف اس وقت بیان بازی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے جب حکومت پر تنقید مطلوب ہو اور اقتدار کے لئے اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔
عمران خان کو پارلیمنٹ نے کثرت رائے سے ملک کا وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ اگست 2018 میں قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے جوب دہ ہونے اور ہر ہفتے اپوزیشن کے سوالوں کے جواب دے کر اپنی حکومت کی کارکردگی اور شفافیت کا ثبوت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ منتخب وزیر اعظم نے دیگر وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی بھلا دیا ہے ۔ اس دوران پارلیمنٹ کو بے توقیر کرتے ہوئے یہ بات بھی فراموش کردی گئی ہے کہ اسی فورم سے اعتماد کا ووٹ لے کر وہ ملک کا وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔ شاید ملک کی سیاسی تاریخ میں کبھی وہ مرحلہ بھی آئے جب شہباز شریف کی طرح عمرا ن خان بھی کسی انٹرویو میں یہ اعتراف کررہے ہوں کہ انتخابات سے پہلے ان کی کابینہ کی تیاری اور تحریک انصاف کو جتوانے کے کون سے وعدے کئے گئے تھے اور ان پر کس حد تک عمل ہوسکا تھا۔ یہ ضرورت اسی وقت پیش آئے گی اگر کسی ناگہانی صورت حال میں عمران خان کو اقتدار سے محروم کیا گیا۔ اور انہیں بھی نواز شریف کی طرح عوام کو ساتھ ملانے پر مجبور ہونا پڑا۔
ملکی سیاست کا یہ پہلو بہت المناک ہے کہ سیاست دان عوام کے ووٹ پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ ان ووٹوں پر اثر انداز ہونے والی درپردہ قوتوں کے ساتھ ساز باز پر یقین رکھتے ہیں۔ انہیں عوام اسی وقت یاد آتے ہیں جب کسی ناکامی یا بدانتظامی کی وجہ سے پاور بروکرز متبادل تلاش کرنے لگتے ہیں یا کسی دوسرے کے سر پر ہاتھ رکھ دیا جاتا ہے۔ تب عوام کے اجتماع کو دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ چند ہزار کے مجمع کو لاکھوں کا ہجوم بتاکر پورا نظام تہس نہس کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ کسی سیاسی ریلی میں جمع ہونے والے لوگوں کو ہی ’عوام ‘ قرار دے کر جمہوری طریقہ اور انتخاب کے مسلمہ اصولوں سے انحراف کیا جاتا ہے۔
اس میں کسی کوئی شبہ نہیں ہے کہ شہباز شریف جن ذرائع کی مدد سے اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں، عمران خان انہی کی خوشنودی کی وجہ سے برسر اقتدار ہیں۔ لیکن دونوں ہی اسے جمہوری طریقہ سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ پاکستانی جمہوریت میں عوام کو پانچ سال بعد بیلٹ پیپر ز پر لگنے والی مہروں سے زیادہ حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس بات کو عام طور سے تسلیم کروا لیا گیا ہے کہ ملک میں وہی سیاست دان سرخرو ہوسکتا ہے جو اصل پاور بروکرز کو راضی کرسکے۔ عوام کا ووٹ الیکٹ ایبلز کے ذریعے مرتب کرنے کا اہتمام کرلیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے عمران خان اور شہباز شریف کا سیاسی فلسفہ دراصل ایک ہی ہے۔ یعنی اقتدار حاصل کرنا اور اس ملک میں اقتدار تک پہنچانے والی طاقتوں کی قدر و قیمت کو مانتے ہوئے انہیں جمہوری سیاسی عمل میں اہم ترین جزو کی حیثیت سے قبول کرنا۔ اسی لئے ان میں سے ایک برسر اقتدار ہے اور دوسرا اس کمزور لمحہ کا انتظار کررہا ہے جس میں عمران خان پر اعتماد ختم ہو اور شہباز شریف کو مہرے کے طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جائے۔
پاکستان میں سارے سیاسی مباحث اسی ایک نکتہ کے گرد گھومتے ہیں کہ مقتدرہ کس کے ساتھ ہے۔ جب لگتا ہے کہ وزیر اعظم مشکل میں ہیں تو اسے مقتدرہ کا عدم اعتماد سمجھتے ہوئے زوال اور تبدیلی کی خبریں سامنے آنے لگتی ہیں۔ جب وزیر اعظم تھوڑی بھاگ دوڑ کرکے اعتماد بحال کروالیں تو یہ خبریں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ اور پھر سے ایک پیج کی آن بان تازہ ہوجاتی ہے۔ اس کھینچا تانی میں اپوزیشن تو جزو معطل بن ہی گئی ہے لیکن ملک کا وزیر اعظم بھی کٹھ پتلی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی صورت حال کا نتیجہ ہے کہ فعال جمہوری نظام کے لئے جس پارلیمانی احترام و اشتراک عمل کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ ایسے میں کبھی قومی حکومت کا شوشہ سننے میں آتا ہے اور کبھی عمران خان کو بے اختیار کرکے فیصلوں کا اختیار کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کی خبر سنائی جاتی ہے۔
کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران میں بھی قومی یک جہتی و ہم آہنگی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ فروری /مارچ کے دوران وائرس پھیلنے سےلاک ڈاؤن شروع ہؤا تو ملکی معیشت پر اچانک بوجھ پڑا اور لگتا تھا کہ ملک ڈیفالٹر ہوجائے گا اور شدید معاشی بحران پیدا ہوگا۔ ان دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کے توسط سے اپوزیشن کو ’انگیج‘ کرنے کی کوشش ضرور کی گئی لیکن جوں ہی آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور امریکہ سے ملنے والے چند ارب ڈالروں کی امید بندھی تو حکومت کے بھائی بندوں کو ساون کے اندھوں کی طرح سب ہرا دکھائی دینے لگا۔ کوئی یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کررہا کہ مسئلہ صرف اس وقت گھروں میں محصور لوگوں کو فوری امداد یا راشن دینے تک محدود نہیں ہے بلکہ مابعد کورونا میں پیدا ہونے والی کساد بازاری اور قومی پیداوار میں شدید کمی سے بیروزگاری اور مہنگائی کے طوفان سے نمٹنا اصل چیلنج ہوگا۔
حکومتیں بنوانے والے ناکامیوں کا سارا بوجھ کٹھ پتلی سیاست دانوں پر ڈال کر نئی چال چلنے اور نئے مہرے آزمانے میں مشغول ہوجائیں گے ۔ ہوس اقتدار میں نیا سیاسی مہرہ اپنے پیشرو سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے۔ پاکستانی سیاست میں شطرنج کے اس کھیل کو جمہوریت کہا جاتا ہے جہاں بساط پر پٹنے والا مہرہ قصور وار ٹھہرتا ہے، اسے آگے پیچھے کرنے والے ہاتھ محفوظ رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1547 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *