لڑکوں کے ہتھے چڑھی لاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے روز، 24 برس قبل، لاہور کے لاری اڈے میں ایک نئی گاڑی روٹ پر چڑھنے کے لیے لائی گئی۔ ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں نے مسافروں کو خوب للچایا کہ ادھر آؤ، یہ گاڑی ایسی منزل پر پہنچائے گی جس پر تمہیں جنت کا گماں گزرے گا۔ کئی خوش گماں مسافر جنت ارضی کی چاہ میں گاڑی میں بیٹھ گئے۔

دوران سفر جب جب گاڑی نے فیول کے لیے سٹاپ کیا تو بس عملے کے لچھن دیکھ کر چند مسافروں کو شک گزرا کہ سروس پرانی ہی ہے بس شو شا نئی ہے۔ جند ایک نے بھانپ لیا کہ گاڑی اس منزل کو نہیں جا رہی جس کی آواز اڈے پر لگائی گئی تھی۔ ان میں سے اکثر گاڑی رکنے پر کسی نہ کسی پٹرول پمپ یا ڈرائیور ہوٹل سے واپس لوٹ گئے۔

چند ایک شک میں پڑے رہے پر گاڑی سے اترے نہیں۔ ایک دوسرے سے بات کرتے رہے کہ یار نام تو نیو خان ہے لیکن حرکتیں سپر اعوان والی ہیں۔ کوئی بولا مجھے تو شادی خیل لگتی ہے بس رنگ روغن بدلا ہے۔ کسی کو منٹھار کی لاری لگتی تھی اگرچہ من میں ٹھار (ٹھنڈک) سے زیادہ بھانبھڑ جلا رہی تھی۔ اوپر سے گاڑی میں بجتا تیز میوزک کمزور اعصاب والی سواریوں کے لیے اعصاب شکن ثابت ہو رہا تھا۔

چند سرپھری سواریوں نے زیادہ چخ چخ کی کہ کدھر جا رئے او استاد جی تو ڈرائیور نے انہیں خود گاڑی سے نیچے اتار دیا۔ شور کرنے والوں کا یہ حشر دیکھ کر دیگر سواریاں ڈر کر دبک گئیں کہ گاڑی سے اتر کر کدھر جائیں گے۔ تاہم مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی سرگوشیوں میں اضافہ ہو گیا۔

یوں ہی ڈرائیور اور سواریوں میں بڑھتی بدگمانی کے دوران چلتے چلتے جی ٹی روڈ کے رستے بس پنڈی پہنچ گئی۔ یہاں چند لڑکے بس پر چڑھ گئے۔ لڑکوں کے مسلز دیکھ کر سواریاں سہم کر چپ کر گئیں۔ اور ان کے سوالوں سے تنگ آئے ڈرائیور کو بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ اس عارضی سکون کو حقیقت سمجھ کر ڈرائیور نے لڑکوں کے نخرے اٹھانا شروع کر دیے۔ ڈرائیور کا خیال تھا لڑکوں کی سرپرستی سے سواریاں بھی اوقات میں رہیں گی، کسی دوسری ٹرانسپورٹ سروس کا ڈر خطرہ بھی نہیں رہے گا اور پنڈی اڈے میں سب سے اچھا سٹینڈ بھی مل جائے گا۔ یوں کاروبار چل نکلے گا۔

لیکن آپ سفر کرتے رہتے ہیں تو جانتے ہوں گے کہ مفت سفر کرنے کے عادی لڑکے کہاں قابل بھروسا ہوتے ہیں؟ ڈرائیور کے ساتھ بھی لڑکوں نے وہی کیا جو وہ پہلے ایسی ہی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔

گاڑی اب پنڈی کے لاری اڈے پر کھڑی ہے۔ کبھی لڑکے اسلام آباد سے بیجنگ روٹ شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تو کبھی کوئی لڑکا آ کر استاد جی کو بتاتا ہے کہ پنڈی سے کوالالمپور سب سے بڑا روٹ شروع کرتے ہیں۔ دوسرا آ کر کہتا ہے کوالالمپور چھوڑو استاد، یہاں مدینے کی سواری بہت ہے۔ پنڈی سے مدینہ روٹ متعارف کراتے ہیں۔

کوئی بس کے ساتھ کالا کپڑا باندھ دیتا ہے کہ اسے نظر لگ گئی۔ کوئی کہتا ہے بینک سے پیسے پکڑو اس میں نئی سیٹیں لگواتے ہیں۔ ان سارے جگاڑوں کے باوجود بس چل کر نہیں دے رہی۔ ڈرائیور استاد کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ تیل پانی پورا ہونے کے باوجود اور لڑکوں کی مکمل سرپرستی سے لاری اڈے کے بہترین سٹینڈ اور سیالکوٹ سے لے کر کراچی تک کے بہترین ہاکروں کی خدمات دستیاب ہونے کے باوجود کاروبار بیٹھتا جا رہا ہے۔

بس میں بیٹھی سواریاں بھی حیران ہیں کہ کالجی منڈے اگر اس سے مخلص ہیں تو اس کو ڈرائیور کو رنگ برنگے مشورے کیوں دے رہے ہیں۔ اور پرانی ٹرانسپورٹ کمپنیاں اس تاک میں بیٹھی ہیں کہ اس کمپنی کا دیوالیہ نکلے تو ہم اپنے روٹ متعارف کروائیں۔ لگتا ہے سواریاں اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں سب ہی ہمیشہ کی طرح یکے بعد دیگرے کچھ نہ کچھ خسارہ برداشت کرتی رہیں گی۔ اس سفر میں مزے تو لڑکے ہی لوٹیں گے۔ گورے ایسے ہی تو نہیں کہتے کہ بوائز ول بی بوائز۔ شاید اسی لیے گورے بوائز کو پسند کرتے ہیں۔ ٹرمپ بھی گورا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply