دنیا بعد از کورونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اگر سب سے پہلے ہم کورونا کے عذاب کو قرآن پاک کے اس حکم کے مطابق ہی پرکھیں جہاں اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ

بعض چیزیں آپ کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں لیکن اس میں دراصل آپ کے لئے بھلائی اور خیر ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔

تو اذیت اور کرب کے ان موسموں میں بھی خیر اور بھلائی کا تناسب مختلف حوالوں سے ایک خوشگوار حیرت اور ہمکتا ہوا امید فراہم کر نے لگا ہے۔

خواہ وہ دنیا کے ہر خطے میں انسان دوستی کا بڑھتا ہوا جذبہ ہو، میڈیکل سائنس کے شعبے کی اہمیت کو تسلیم کرنا اور اس سے وابستہ افراد کی خدمات کا اعتراف ہو، اوزون لہر کی فطری صفائی ہو یا ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور جنگلی حیات کی مراجعت ہو۔

لیکن اگر ہم مستقبل کے حوالے سے بھی گردو پیش میں تخلیق ہوتے نئے حقائق اور تصورات پر نگاہ ڈالیں تو وھاں سے اُمید کا سبز چشمہ پھوٹتا اور کرہ ارض کا مستقبل سنوارتا ہماری نگاہوں کے سامنے رواں دواں ہے جس میں سب سے اہم اس اجتماعی سوچ کی اُٹھان ہے کہ خیرہ کن ترقی کے باوجود بر وقت پیش بندی نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں یا بالفاظ دیگر کن عوامل نے ترجیحات سے توجہ ہٹائے رکھی۔ ساتھ ہی یہ اہم سوال بھی کہ جب کرہ ارض پر بسیرا کرتا انسان کورونا کی تکلیف دہ صورتحال سے سنبھل جائے تو مستقبل کے عالمی بیانئیے اور منظر نامے کے خدوخال کیا اور کیسے ہونے چاہئیں؟

سابق امریکی وزیرخارجہ اور ممتاز مدبر ہنری کسنجر نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے بعد عالمی دانش کو سب سے پہلے یہ تجزیہ کرنا ہوگا کہ کون کون سے ادارے ناکامی کا شکار ہوئے اور کن اداروں کی مزید ضرورت نہیں رہی۔

عالم سطح کے ممتاز دانشوروں پر مشتمل گلوبل تھنکرز فورم کی متفقہ رائے ہے کہ خوشگوار اور حیرت انگیز گلوبل تعاون انسانیت کو ایک اجنبی لیکن حد درجہ مثبت بیانئیے کی طرف دھکیل رہا ہے۔

جس کے بطن سے مستقبل میں حکومتوں کی استعداد، ارتکاز اختیارات کارکردگی میں تیزی اور ریاست کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ موجود اداروں کی کارکردگی برآمد ہوں گے (اور یہی کسی ملک یا ریاستی ڈھانچے میں موجود اداروں کی بقاء کے معیار تصور ہوں گے ) ۔ یہ دانشور اپنا تجزیہ مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مستقبل میں امریکہ گلوبلائزیشن کا حتمی معیار نہیں ہوگا کیونکہ امریکہ کے اندر ایک موثر رائے عامہ کا اس حوالے سے نا صرف تیقن ٹوٹنے لگا ہے بلکہ ان کا یہ نقطئہ نظر مقبولیت کی جانب رواں دواں ہے کہ مستقبل میں امریکی قومی سلامتی کی سٹریٹیجی اصلاح احوال اور تبدیلی کی محتاج ہوگی کیونکہ اگر امریکہ سپر پاور کے بلند و بالا مینار سے نہ بھی اُترے تو نئے منظر نامے میں ایک ہٹ د ہرمی کے ساتھ تنہا کھڑا ہونا حد درجہ نا ممکن رہے گا اس لئے دیگر ممالک اور دنیا کے ساتھ تعاون اور معاہدوں کی سمت پیش رفت کرنا پڑے گا جس کی بنیاد انسانی بقاء اور استحکام ہی پر ہوگی۔

کورونا وائرس نے اگر ایک طرف انسانی معاشرے کو بحیثیت مجموعی سفاکی کے ساتھ جکڑرکھا ہے تو دوسری طرف اسے مستقبل کی اس پیش بندی کی طرف راغب بھی کرنے لگا ہے جس میں اولیت اس تفکر کو حاصل ہے کہ علم اور ترقی کا استعمال مثبت اور دوٹوک ہونا چاہیے۔

نئے منظر نامے میں بارود سے بندوق اور ایٹم سے آبدوز تک رائگانی کے اس کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہونے لگا ہے جس سے دوری اور فراموش ہی آخری حوالے بن جاتے ہیں۔

کورونا وائرس نے انسانی تہذیب کو اگرچہ اپنی تاریخ کے خوفناک اور تباہ کن المیے سے دوچار کر دیا ہے لیکن یہی ناسازگار موسم اور نامساعد حالات ہی ہیں جس نے نہ صرف انسانی فکر کو غنودگی سے چھٹکارا دلانے میں حد درجہ اہم کردار ادا کیا بلکہ مستقبل میں سمت اور سفر کے تعین میں پوری طرح اس کی معاون اور مددگار ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیم، ترقی اور خصوصا میڈیکل سائنس ہی فی زمانہ ترجیحات کے اولین معیار بنتے جارہے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہر وہ چیز قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے جس سے بنی نوع انسان ماضی میں خطرات اور بربادی کا شکار ہوا۔

اجتماعی دانش موجودہ صورتحال میں ایک بربادی پر تلے وائرس کا سامنا کرتے ہوئے اپنے اس احساس جرم کا شکار ہے کہ علم اور ترقی کے سفر میں وہ منفی عوامل کیونکر در آئے جس نے انسانی زندگی کے لئے سہولت تلاش کرنے کی کوششوں کو نا صرف منقسم کر دیا بلکہ ایک سفاکی کے ساتھ اسے تباہ کن ہتیاروں کی تیاری اور اس سے برآمد ہوتی بربادی کی طرف موڑ دیا۔

یہی اجتماعی دانش اس منظر نامے کی تخلیق اور تلاش کی سمت پیش قدمی کر رہی ہے جس سے انسانیت کے لئے اثبات اور خیر کے پہلو ہی نکلیں گے اور جسے موجودہ عھد کے ایک اہم فلسفی اور دانشور یوول نول ہراری ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ طاقتور انسانی ذہن کبھی تو کورونا وائرس کے خوفناک طوفان پر قابو پا کر اپنی بقاء کے تسلسل کو قائم رکھنے میں کامیاب ہو ہی جائے گا لیکن مستقبل میں ہمیں ایک بدلی ہوئی دنیا کا نظارہ کرنا ہوگا جس کی بنیادیں باہمی تعاون علم تحقیق ترقی اور خیر کی تلاش پر ہی استوار ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *