میرا کوئی دیس نہیں ہے، میرا دیس جہان



سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری زمین ساڑھے 4 ارب سال قدیم ہے، جبکہ اس پر زندگی کے آثار اندازاً 3.77 ارب سالوں سے لے کر ہیں۔ زمین کے مقابلے میں یہ کائنات 9.3 ارب سال پرانی ہے، یعنی سائنس کے اندازے کے مطابق کائنات کی کل عمر 13.8 ارب سال ہے۔ اس کُرّہء ارض پر سمندروں (پانی) کا وجُود 4.41 ارب سال پرانا ہے۔ یہاں پانی کی دستیابی کے فوراً بعد ہمیں زندگی کے وجود کے آثار بھی ملتے ہیں۔ کیونکہ پانی سے ہی زندگی کا وجُود ممکن ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق زمین مزید 25 ہزار سال زندہ رہے گی، جس کے بعد وہ اپنا وجود کھو بیٹھے گی۔ کیونکہ خلائی سائنس کے ماہرین کے مطابق زمین بھی سُورج کی طرح ہی ایک ”ستارہ“ ہے اور ہر ستارہ اپنی کیمیائی زندگی پوری کرنے کے بعد مر جاتا ہے اور اس کی لاش ”بلیک ہول“ (کالا کھڈا) بن کر، خلا میں ہمیشہ کے لیے موجود رہتی ہے۔ ہماری اپنی زمین سے جذباتی وابستگی اپنی جگہ، مگر یہ سب ایک سائنسی سچ ہے، جس کے مطابق ہماری اس ”دھرتی ماں“ کو فنا ہونا ہے، بالکل ویسے ہی، جیسے ہمارے عزیز ترین، پیارے ناتے اپنے طبعی حیات پوری کر کے ہم سے بچھڑ جاتے ہیں۔

سال 2009 ء میں جنوبی امریکا کے ملک ”بولِیویا“ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک قرارداد کی صُورت میں ”عالمی یوم الارض“ مں انے کی تجویز دی تھی۔ اس قرارداد میں یہ نشاندہی کی گئی تھی کہ ”زمین اور اس کا ماحولیاتی نظام ہم سب کا گھر ہے اور فطرت اور زمین کے ماحول میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور اس رُجحان کا مسلسل فروغ بے حد ضروری ہے۔ “ یہ دن صرف ”عالمی یوم الارض“ کے نام و عنوان سے بھی منایا جا سکتا تھا، مگر اس کو ”مادر نُما ارض“ یا ”دھرتی ماں“ کے نام سے منسوب کر کے منائے جانے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ”چُونکہ زمین، انسانوں اور دیگر حیات و مخلوقات کے رہنے کا مشترکہ گھر (سیّارہ) ہے، جو ان تمام کو زندگی اور ان زندگیوں کو افزائش بخشتا ہے، لحٰذا تمام اجناسِ حیات کا اس پر یکساں انحصار ہے۔

“ یعنی یہ زمین، جس کے خمیر سے ہم پیدا ہوتے ہیں، جس کے پیٹ پر تیرنے والا پانی ہم عمر بھر پیتے ہیں، جس سے پیدا ہونے والا اناج کھا کر ہم اپنی زندگیوں کو برقرار رکھتے ہیں اور بعد از مرگ جس کے سینے میں ہم جا کر ہمیشہ کے لیے آرامی ہو جاتے ہیں، اس کا درجہ ہماری ماں جیسا ہے، اس لیے دنیا کی تمام اقوام کے لیے یہ دھرتی ”مادر“ کا رتبہ و مقام رکھتی ہے، جس وجہ سے اس دن کو ”عالمی یومِ مادر ارض“ کے طور پر مں انے کی رائے پیش کی گئی، جس کو 50 سے زاید اقوامِ متحدہ کی رکن اقوام نے تسیلم کیا اور یہ دن منانے کے لیے 22 اپریل کا دن منتخب کیا گیا۔

اور 2009 ء سے دنیا یہ دن مسلسل منا رہی ہے اور اِس بار ہم نے بارہویں مرتبہ یہ دن منایا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس وقت کے صدر ”میگیوئل ڈی۔ اسکوٹو برومن“ ( 1933 ء۔ 2017 ء) نے اِس دن کی اہمیت کے بارے میں اُسی برس کہا تھا: ”اس دن کا منایا جانا، زمین سے متعلق اُس عالمی نقطہء نظر کو ایک حقیقت کے طور پر فروغ دیتا ہے، جو فطرت کے ساتھ ساتھ تمام جانداروں کی بقا کے لیے بیحد ضروری ہے۔ تمام مخلوقات کی زمین کی اہمیت میں شراکتداری، یہ دن منانے کی روح ہے۔ یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہم فطرت سے اپنے بگڑے تعلقات کی بحالی کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داریوں کو محسوس کریں۔ یہ اس قدر اہم وجہ ہے کہ، جس کے لیے تمام عالم کے تمام لوگوں کا یکجا ہونا بیحد ضروری ہے۔ “

آج سے 12 برس قبل اسکُوٹو برومن کے کہے ہوئے یہ الفاظ اگر آج سے تین ماہ قبل پڑھے جاتے، تو شاید ہمیں اس بات کی اہمیت کا اس قدر شدّت سے اندازہ نہ ہوتا، جتنا ہم ان الفاظ کو گزشتہ لگ بھگ بھگ تین ماھ کے تلخ تجربے کے بعد سمجھ سکتے ہیں۔ فطرت کے طے شدہ اصول، عناصر کے وجود سے لے کر وہی ہیں۔ اُن میں تبدیلیاں بھی خود فطرت رونما کر سکتی ہے، جن میں کسی بھی مصنوعی تبدیلی سے ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ ہم جب بھی فطرت کے اصولوں میں مداخلت کرتے ہیں، تو ہر عمل کے ردِّ عمل کے اٹل قانون کے تحت فطرت بھی اپنا بدلہ لیتی ہے۔

ہم نے اپنے آپ کو اس زمین کا ”برابر کا شہری“ ہونے اور اس زمین پر بسنے والی زندگی کی ہر جنس (ہر مخلوق) کو برابر کے حقوق دینے والے اصول کی خلاف ورزی کی اور تمام زندگیوں کو زمین کے وسائل کا برابر کا حصّہ دار نہ سمجھا، بلکہ خود ہی کو سب کا سرغُنہ سمجھ کر، دوسروں کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے پیدا شُدہ سمجھا اور ان کو اپنا ایندھن بنایا۔ خود کو چرواہا سمجھ کر، دوسری تمام مخلوقات اور چیزوں کو ریوڑ سمجھ کر ان کو ہانکنا شروع کر دیا۔

ہم نے دیگر زندگیوں کو تو کُجا، اپنے ہم منصب ”ابنِ آدم“ کو بھی ذات، برادری، رنگ اور نسل کی درجہ بندی میں تقسیم کر کے کسی کو عرش نشین کر دیا، تو کسی کو فرش نشیں۔ اور پھر اس طرح زمین کے وسائل کی تقسیم اپنی مرضی سے کی۔ وہ دھرتی، جو زمین کے سب جانداروں خواہ بے جان عناصر کی ”مادر“ ہے، اس کو اس ہم (حضرتِ انسان) نے کسی کے لیے جنّت تو کسی کے لیے دوزخ بنا دیا۔ پوری دنیا میں جس طرح سمندر ایک ہی ہے، اور ہم نے اس کی زبردستی حدیں مقرّر کر کے (شناخت کے لیے ہی سہی) اس کے نام تبدیل کر دیے ہیں، اسی طرح زمین بھی ہر جا ایک ہی ہے، ہم نے اس کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے، اسے سرحدوں میں تقسیم کر دیا اور سرحدوں کے اندر سرحدیں بنا کر، زمین کے کچھ ٹکڑوں کو اہمیت کے لحاظ سے اُتم اور ارفع ثابت کرنے کی کوشش کی، تو کسی حصّے کو معمولی قرار دے دیا۔

زمین تو وہی تھی۔ ہم سب کی ماں۔ مگر اس ماں کی گود میں جب ہم نے بعد از مرگ ”بُھورو بِھیل“ کو سُلایا تو زمین کے اُس ٹکڑے کے نام نہاد تقدّس کے نام نہاد ”ٹھیکیداروں“ نے اسے قبر کھود کر باہر پھینک کر یہ ثابت کیا کہ زمین کا وہ ٹکڑا، اس بُھورو بِھیل کی ماں کا درجہ نہیں رکھتا تھا۔ ایسے بُھورے بھیل اور زمین کی ٹھیکیداری کے دعویدارَ دنیا میں لاکھوں ہیں۔

اب فطرت کے انتقام کا وقت آیا ہے۔ ہم نے ”اپنے گھر“ (زمین) کو صاف نہیں رکھا۔ اس کے پیٹ سے اس کی طاقت (معدنیات) کو بغیر کسی حساب و کتاب کے بے انداز نکالتے اپنی تجوریاں بھرتے رہے۔ فضاؤں کو دھوئیں اور رشتوں کو روّیوں کی آلُودگی سے گندہ کرتے رہے۔ سمندروں کو تیل سے چکنا کر دیا۔ اور دلوں کو لالچ سے۔ جنگلات کاٹ کر سبزے ویران کر دیے۔ دریائی، سمندری، جنگلی خواہ پہاڑی حیات کو مار کر ان کی نسل کشی کر دی۔

زلزلوں، سیلابوں، بے موسم برساتوں، پیشن گوئی کے بغیر آنے والے طُوفانوں، سونامیوں کو دعوتیں دے کر ہم ”اپنے موجودہ گھر“ کو تباہ کرنے کے تمام اہتمام کر کے، مرّیخ پر کالونیاں تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہے، جہاں ابھی سانس لینے کے لیے آکسیجن تک موجود نہیں ہے۔ اور اب، جب فطرت نے دیکھا کہ ہماری حرکتیں میزان سے بڑھ گئی ہیں، تو اس نے ایک وبا کے ذریعے ہمیں گھروں تک محدود کر کے، باقی تمام حیات کو آزاد کر دیا۔

آج جب دنیا کے 90 ممالک میں اس ”پینڈیمک“ کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہے اور آدھے سے زیادہ انسان گھروں میں قید ہے، تو فضائیں، طیّاروں کے دھوئیں اور شور سے آزاد ہو گئی ہیں۔ اور شاہراہیں موٹروں کے غُل اور آلودگی سے مُبرّا۔ دریاؤں، جھیلوں اور بحُور کے پانی اُجلے ہو رہے ہیں اور فضائُیں واضح ہو رہی ہیں۔ دھوئیں سے دُھندھلائے ہوئے نظارے اُجلے ہو رہے ہیں تو ”اوزون“ کی تار تار ہوئی چادر کو فطرت پیوند لگا رہی ہے۔

”میری دھرتی میری ماں۔ “ جیسے گیت صرف ہمارے شاعر ہی نہیں لکھتے اور گنگناتے، بلکہ شیکسپیئر نے بھی کہا ہے :

”Thy greatest knew thee، Mother Earth; unsoured“
اور شیکسپیئر سمیت دنیا کی ہر زبان کے شاعر نے، دھرتی کو اپنی ماں کی حیثیت میں گایا ہے، مگر اپنی زمین کو صرف ماں ماننے اور سمجھنے کی حد تک لفّاظی کافی نہیں ہے، بلکہ اُس ماں کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ اس زمین کے تمام وسائل پر تمام جانداروں کا حق مان کر، ان میں سے ہر ایک کو اس کا پُورا پُورا حصّہ دینا بھی لازمی ہے۔ اگر ہم نے اتنی بڑی وبا کی تباہ کاریوں سے بھی کوئی سبق ناں سیکھا اور اس سے نکلنے کے بعد بھی اپنی خود سری جاری رکھی، تو شاید زمین، سائنس کے مطابق تخمینہ کی ہوئی اپنی مُتوقّع باقی عمر 25 ہزار برس سے بھی پہلے ہی ہم سے چِھن جائے اور ہم قبل از وقت بے گھر ہو جائیں۔

Facebook Comments HS