ملعون (افسانہ)۔


میں آج بھی حیران ہو کر سوچتا ہوں کہ کیا کسی پہ نام کا اس قدر بھی اثر ہو تا ہے، جتنا اثر پروفیسر منظور پر اس کے نام کا ہوا تھا۔ اس نے تمام زندگی صبر شکر سے گزاری میں جو اس کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتا تھا مجھے بھولے سے بھی کوئی ایسا دن یاد نہیں جب اس نے کسی دکھ پریشانی میں بھی خدا سے کوئی شکو ہ کیا ہو ”یار تم انسان ہو کہ فرشتے اگر انسان ہو تو کم از کم ہمارے جیسے عام انسان تو بالکل بھی نہیں ہو کس مٹی سے بنے ہو یار“ میں منظور کی شکر گزاری کی عادت پر اکثر اس سے پوچھنے لگتا اور وہ جواب میں بس ہلکے سے مسکرا دیا کرتا۔

وہ اس کا ریٹائرمنٹ کے بعد ساتواں سال تھا۔ منظور نوکری سے تو ریٹائر ہوگیا تھا مگر زندگی سے ریٹائر ہونے کا اس کا ابھی کوئی ارادہ نہ تھا۔ عام طور پر سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں مگر پروفیسر منظور کے کیس میں ایسا ہرگز نہ تھا۔ سڑسٹھ برس کی عمر میں بھی وہ تندرست و توانا اور چاق و چوبند تھا۔

صبح سویرے جاگ کر سیر کو جانے کا اس کا معمول ویسا ہی تھا جیسا کالج کے دنوں میں ہوا کرتا تھا۔ لیکن نہ جانے اس روز اچانک کیا ہوا کہ وہ واک کرتے کرتے نیچے بیٹھ گیا میں اس وقت اس کے ساتھ ہی تھا ”کیا ہوا منظور صاحب“ اسے اس طرح بیٹھتے دیکھ کر میں واک چھوڑ کر اس کے پاس چلا آیا ”پتا نہیں یار طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی“ منظور نے جواب دیا ”صاف کہو نا آخر تم پر بھی بڑھاپا آہی گیا“ میں نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا وہ میری بات پر مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ تھا م کر اٹھ کھڑا ہوا۔

اس روز بات آئی گئی ہو گئی۔ کچھ دن بعدکی بات ہے (میں اس روز شہر سے باہر تھا اس لیے واک میں ساتھ دینے کے لیے اس کے ساتھ موجود نہیں تھا) وہ جاڑوں کی ایک صبح تھی منظور معمول کے مطابق جاگا اورقریبی پارک میں سیر کے لیے چلا گیا۔ سرد ہوا چل رہی تھی اور شاید اس نے شال بھی ٹھیک سے نہ اوڑھی تھی سرد ہوا نے اسے زکام میں مبتلا کر دیا اور سا تھ ہی سینے میں ہلکا ہلکا درد بھی ہونے لگا۔ گھر واپسی پر فہمیدہ بھابھی نے اسے چائے لا کر دی اور گرم چائے پینے کے بعد وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگا۔ مگر اس کے بعد رفتہ رفتہ اس کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ گھر کے قریب ہی ڈاکٹر مصطفی کا کلینک تھا۔ ان سے بھی دوا لی مگر کوئی خاص افاقہ نہ ہوا۔

دھیرے دھیرے اس کی طبعیت خراب ہوتی چلی گئی اب اسے کمزوری محسوس ہونے لگی تھی اورکمزوری کے ساتھ ساتھ سانس بھی پھولنے لگی تھی۔ کچھ دنوں بعد وہ دوبارہ ڈاکٹر مصطفی کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے دوا بدل دی اور ساتھ ہی کچھ ٹیسٹ بھی لکھ دیے۔ دوسرے دن ٹیسٹوں کی رپورٹ آگئی۔ رپورٹ کے مطابق اسے ہیپا ٹائیٹس سی تھا، اس رپورٹ نے میرے ساتھ ساتھ اس کے سبھی چاہنے والوں کو پریشانی سے دوچار کر دیا ”اتنا پریشان کیوں ہورہے ہو یار پاکستان میں تو ہر چوتھا آدمی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے“ مجھے پریشان دیکھ کر منظور الٹا مجھے سمجھانے بیٹھ گیا اس نے یقینا اپنی بیماری کو ہم سے بھی زیادہ سمجھ لیا تھا اور با علم ہونے کے باوجود اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور یہی وہ بات تھی جو اسے دوسروں سے جدا کرتی تھی۔

کچھ دن بعدڈاکٹر نے مزید ٹیسٹ اور الٹرا ساؤنڈ لکھ دیے، جب رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ ہیپا ٹائیٹس نے منظور کے جگر کو بہت زیادہ متاثر کر دیا تھا۔ ڈاکٹرز کے مطابق اب اس کا علاج لیور ٹرانسپلانٹ ہی تھا جس کا پاکستان میں کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں تھا اس کے لئے چین، بھارت یا پھر دوسرے کسی ملک میں جانا پڑتا۔ پروفیسر منظور کو جیسے پہلے سب کچھ ہی منظور تھا وہ اس پہ بھی راضی تھا ”آخر تم باہر جانے سے کیوں منع کر رہے ہو؟

“ زندگی میں پہلی بار میں اس سے الجھ پڑا۔ ”سمجھا کرو یار اب کہیں جانے کا وقت نہیں رہا“ وہ دھیمے لہجے میں مجھے سمجھانے لگا ”ایک آخری کوشش کے طور پر ہی چلے جاؤ“ میں نے منت کی ”یار اگر میں نے جاتے جاتے ساری جمع پونجی اپنے پر لگا لی تو سوچو میرے بعد تمہاری بھابھی کا کیا ہوگا اور پھر نوید کے بچے بھی تو ہیں“ میرے غصے کے جواب میں وہ متانت سے کہہ رہاتھا میں ایسے دوست پر کیسے فخر نہ کرتا جسے ایسے وقت میں بھی اپنے سے وابستہ لوگوں کی فکر تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی طبیعت بگڑنے لگی اورجب دوسری بار اسے ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تو ڈاکٹرز نے اس کے بھائی نوید کو بتایا کہ اب بس ان کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

اور وہ دن بہت جلد آپہنچا جب ہنستا کھیلتا میرا دوست بالکل ہی چارپائی سے لگ گیا صاف نظر آرہا تھا کہ اس سے جدائی کا وقت قریب آگیا ہے۔ ان دنوں میرا زیادہ وقت منظور کے گھر پر ہی گزرا کرتا تھانہ جانے کیسا ڈر بیٹھ گیا تھا میرے دل میں کہ یہاں سے گیا تو دوبارہ اپنے دوست کو جیتا نہ دیکھ پاؤں گا۔ اس کے دوست احباب اور طالب علم جس کو بھی اس کی بیماری کی خبر ہوتی عیادت کے لیے حاضر ہو جاتا۔ منظورکے بارے میں عام تاثر یہی تھا کہ وہ ایک شفیق استاد تھا جو اپنے طلباء کو صرف کتابوں میں لکھا ہوا ہی نہیں پڑھاتا تھا بلکہ زندگی نے جو سبق اسے عملی زندگی میں سکھائے تھے وہ بھی وہ بڑی فراخدلی سے اپنے طلباء میں بانٹا کرتا تھا۔

اس کے طالبعلموں کے مطابق وہ وقت کا پابند تھا اور ہمیشہ کلاس میں وقت پہ پہنچتا تھا۔ میں خود اس بات کا گواہ تھا کہ منظور کے بتیس سالہ کیرئر میں ایسے بہت سے طالبعلم تھے جو اس کے مشوروں پر عمل کر کے کامیاب ہوئے تھے۔ کون سا مضمون رکھنا ہے، مزید کون سے کورسز کرنے چاہیئں اورکس طالبعلم کے لئے کون سی ڈگری موزوں ہے۔ ایسے مسائل کا اس کے پاس ہمیشہ بہترین حل موجود ہواکرتا تھا۔

اس روز بھی میں وہیں تھا جب منظور کی طبعیت بگڑ گئی۔ زنان خانے سے بلند ہونے والی رونے کی آوازیں یہ بتا رہی تھیں کہ کسی نے اس بات کی خبر زنان خانے میں بھی پہنچا دی تھی۔ ”ہائے ربا میں ان کے بغیر کیسے جیوں گی“ فہمیدہ بھابھی کی آواز کو میں بخوبی پہچان سکتا تھا اور ان کے دکھ پر میرا دل بھی دکھ سے بھر گیا تھا۔ ”اولاد نہ ہونے کے باوجودبھی کبھی بیوی کو ایک سخت لفظ کہا نہ ہی دوسری شادی کے لیے تیار ہوا اس بات پر آکر تو یہ ماں باپ کے سامنے بھی ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تھا، ماں سے صاف کہہ دیا کہ میری بیوی نیک ہے وفادار ہے ایسی بیوی پر سوتن لانے کا ظلم مجھ سے نہ ہوگا“ کسی عورت نے منظور کی اچھائی بیان کرتے ہوئے کہابیٹھک میں اس وقت خاموشی تھی عورتوں کی سرگوشیاں تک سنی جا سکتی تھیں جو ساتھ والے کمرے میں فہمیدہ بھابھی کا غم بانٹنے کے لیے آئی ہوئی تھیں۔

”صوم و صلوۃکا پابند تھا اور حقوق ا لعباد سے بھی کبھی غافل نہیں رہا میرے ماں باپ تو ہمیشہ مجھے منظور بھائی کی مثالیں دیا کرتے تھے جنہیں کبھی سردی گرمی آندھی طوفان میں بھی نماز قضا کرتے نہ دیکھا۔ ہر کسی کے اچھے برے وقت میں کام آنا تو کوئی منظور بھائی سے سیکھے، بڑی قسمت والے ہیں منظور بھائی بڑی محتاط اور صاف ستھری زندگی گزاری ہے انہوں نے کبھی سگریٹ تلک پیتے نہیں دیکھا ان کو“ میرے پاس بیٹھے ایک صاحب جو اسی محلے میں رہتے تھے مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے لیکن ان کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ وہاں بیٹھے سبھی لوگوں نے ان کی بات سنی تھی اور سب ان کی اس بات سے متفق تھے۔ ”میرے لیے تو باپ سے بڑھ کر تھے ماں باپ کے دنیا سے جانے کے بعد میرے سر پر ہاتھ رکھا اور صر ف اتنا ہی نہیں میری شادی بھی کروائی اور میری اولاد کو بھی ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح سمجھا، نہ جانے ان کے بعد ہمارا کیا ہوگا“ یہ منظور کا چھوٹا بھائی نویدتھا جو رندھے ہوئے گلے کے ساتھ بول رہا تھا۔

منظور کی حالت کو دیکھ کر کوئی مسجد سے مولوی ہدایت اللہ کو بلا لایا ساتھ میں ان کے شاگرد بھی تھے، شاگرد وہاں بیٹھے تلاوت کر رہے تھے جب کہ مولوی صاحب باتوں ہی باتوں میں منظور کو آخری سفر کے لئے تیار کر رہے تھے۔ جب وہ انہیں پل صراط کی سختیوں کے بارے میں بتا رہے تھے تو پروفیسرکو جانے کیا ہوا ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرنے والا میرا دوست اچانک بھڑک اٹھا اور چیخ پڑا ”بس کرو۔ اور کتنے امتحان ابھی باقی ہیں میں اب تھک چکا ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی ایک امتحان کی طرح گزاری ہے اب کسی اور امتحان کی بات نہ کروخاموش ہو جاؤ۔ “

یہ سن کر مولوی ہدایت اللہ جلال میں آگئے اور اپنے شاگردوں کو لے کر یہ کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ ”پرفیسر ملعون ہو چکا ہے۔ اس پر رحمت کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں۔ “ دوسری جانب پروفیسر منظور اپنی دھن میں نجانے کیا کیا بولے چلا جا رہا تھاوہاں موجود لوگ منظور کو ترس بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے انہیں لگ رہا تھاکہ منظور موت کی اذیت میں ہذیان بک رہا تھا۔ اس کے بعدمنظور پر غشی طاری ہوگئی اوروہ بیہوشی میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

اگلے روزمیں نے سنا جنازے میں شریک لوگ سرگوشیوں میں کہہ رہے تھے ”مولوی کی بات درست ثابت ہوئی پروفیسر منظور کو مرتے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوا“۔

Facebook Comments HS