ہندوستان: کورونا وائرس کی آڑ میں اقلیت کے لئے عرصہ حیات تنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


موت کو زندگی اور زندگی کو موت کہنے والا نیوزمین کو برین واش کر کے اسٹوڈیو میں بٹھا گیا ہے۔
ملک وسماج کی تعمیر وترقی میں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور صحافت کا اہم رول ہے۔ ان اداروں کا استحکام، اعتباراور وقار غیر جانب داری میں مضمر ہے جمہوریت میں صحافت کو چوتھا ستون کہا گیا ہے۔ ڈیموکریسی میں اظہار رائے کی آزادی دراصل سماجی برابری اور انصاف کے لئے ہے۔ صحافتی اصول اور اقدار میں یہ شامل ہے کہ خبروں، بلیٹن یا نشریات میں تعصب یا فرقہ وارانہ خطوط سے گریزکیاجائے۔ سچ اور حق کو بے لاگ لکھنا، کہنا اور دکھانا صحافی کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔

انسانی تاریخ جنوں صفت صحافیوں کے کارنامے، خدمات اور جدوجہد سے بھری پڑی ہے وطن عزیز ہندوستان کی جنگ آزادی میں الہلال اور البلاغ سمیت دیگر روزناموں نے اہم رول ادا کیا تھا۔ گویا کوئی تحریک یامہم کی کامیابی اور سماج کے مزاج کو بنانے یا بگاڑنے کی تاثیر ذرائع ابلاغ کو حاصل ہے۔ دورجدید چونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دھماکہ کا دور ہے۔ لہذا اب روایتی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔

سوشل میڈیا یعنی رابطہ کی مقبول ویب سائٹس جس میں ٹیوٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹا اور واٹس اپ کے علاوہ ایک بڑی تعداد ہے۔ سماج کے پچھڑے اور پسماندہ طبقات ایک طویل عرصہ تک مین اسٹریم میڈیا کا موضوع نہیں بن سکے۔ بلکہ الیکٹرونک میڈیا دن بدن گلیمرائزیشن کے رنگ میں پوری طرح رنگ گیا۔ جہاں روٹی کپڑا، مکان سے زیادہ اہمیت فرقہ پرستی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کو حاصل ہے۔ اور سوشل میڈیا بھی فرقہ پرست طاقتوں کے نرغہ میں ہے جس کا استعمال فرقہ پرست عناصر اپنے ہی ہم وطنوں کا گھر جلانے، جان سے ماردینے اور گولی مارنے کے لئے کررہا ہے۔

بھارت میں رنگ بھید اور نسل کی بنیاد پر تعصب اور بھید بھاؤ کوئی نئی نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا سلسلہ مغلیہ سلطنت اور برطانیہ دورحکومت سے لے کر اب تک ہے۔ غلام ہوئے آزادی ملی مگر دماغ میں جو کیچڑ تعصب اور بھید بھاؤ کا تھا وہ کافور نہیں ہوا۔ آزادی وطن کے بعد حالات نے کروٹ لی اچھوت اور شدروں کے لئے بنائے گئے غلامی کے سارے زنجیر توڑدئے گئے۔ چھواچھوت اور جات کی وجہ سے کلاس روم سے باہر کردئے گئے آئین ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی کوششیں اور جدوجہد نے صدیوں تک استحصال سہنے والے طبقے کو زندگی جینے کا حوصلہ دیا۔

تقسیم وطن کے بعد ہندوستانی سماج پر ایک اور رنگ چڑھا فرقہ پرستی کا رنگ، اکثریت کی دادا گیری اور اقلیت کو زندہ درگور دینے کی سوچ جس کے نتیجہ میں ہزاروں جانیں تلف ہوئیں، انسانیت شرمسار ہوئی مگر فرقہ پرستوں کے کلیجہ کو ٹھنڈک نہیں ملی ہے۔ ملک میں فرقہ پرستی کے زہر کو پھیلانے، ارباب اقتدار کی چاپلوسی کرنے اور اقلیت مخالف رویوں کی وجہ بھارتیہ میڈیا کو گودی میڈیا کا ٹائٹل دیا گیا ہے۔ وہ میڈیا جو قومی سطح سے لے کر تحصیل سطح تک حقائق کو چھپانے، پیسہ وصولی کرنے اور چاپلوسی کرنے پہ آمادہ ہے۔

جنہیں صحافت کے اقدار واصول سے کوئی لینا دینا نہیں ہے میڈیا کی زہرافشانی سے ہندوستانی سماج میں حو دراڑ پیدا ہوا ہے وہ اب ہلاکت کا باعث ہے۔ چند جملہ کے ہیر پھیر کرنے والے ٹی وی چینل کے نیوز اینکر کا ہرایک جملہ اور لفظ نفرت میں بجھا ہوا ہوتا ہے۔ جو تبلیغی جماعت کو جہادی جماعت اور لاک ڈاؤن میں پھنسے ان لوگوں کے لئے کورونا وائرس پھیلانے کا الزام تھوپ رہے ہیں جن کے بارے میں یہ مشہور ہے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد آسمان سے اوپر یا زمین کے نیچے کی بات کرتے ہیں۔

انہیں زمین اور اہل زمین کی مادی چیزوں سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ جن کا کام بھٹکے ہووں کی اصلاح اور صالح سماج کی تشکیل ہے اس کے لئے وہ سفر درسفر کرتے ہیں، مصائب اور مشکلات ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ملک بھر کے ضلع اور تحصیل میں اپنے اخبارات کی نمائندگی کرنے والے رپورٹروں کی غلط رپورٹنگ کے سبب مظلوم کو انصاف ملنا مشکل ہوگیا ہے تحصیل سطح پہ رپورٹنگ کے اصول و ضوابط کو طاق میں رکھ کر آئیں بائیں شائیں لکھنے والے یہ میڈیا ورکر ہزار پانچ سو میں بک جاتے ہیں۔

یا اخبار کو بیج ڈالتے ہیں اور یہ سلسلہ قومی سطح سے شروع ہوتاہے۔ جہاں اینکرز اپنا ضمیر گروی رکھ کر فرقہ پرستی کا کھیل کھیل کر ملک اور سماج کو توڑنے اور سماج کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کررہی ہے۔ انتہا پسند اور ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سال 2014 جب سے وہ اقتدار پہ قابض ہوئی ہے اس کے بعد سے ملک میں مذہبی منافرت، تشدد اور مخالفین کو قلع مقع کردینے کا رجحان عام ہوا ہے۔ ملک کے اکثریتی طبقہ میں عدم تحمل، ایک دوسرے کا احترام برداشت کا جذبہ کمزور ہوکر رہ گیا ہے۔

جہاں بات بات پہ جان لے لینے کا ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ مذہبی اور سیاسی منافرت میں سب سے زیادہ نقصان اقلیت کے جان و مال کا ہوا ہے جو مئی 2014 سے ہنوز دفاعی پوزیشن میں ہے ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا اس سے بڑا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ مہلک وبائی انفکیشن کرونا وائرس کے روک تھام کے لئے جاری لاک ڈاؤن کو بھی مذہبی رنگ میں رنگ دیا گیا حالانکہ اچانک لاک ڈاؤن میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سیکڑوں ہزاروں سادھو سنت بھی پھنس گئے مگر گودی میڈیا نے جماعتی کو چھپے ہوئے اور تیرتھ یاتریوں کو پھنسے ہوئے بتلایا۔

بلکہ پہلے سے رڈار پہ رہے اقلیتی طبقہ کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لئے مورود الزام ٹھہرایاگیا۔ تبلیغی جماعت کو ہراساں کرنے کی غرض سے بیرون ملک سے تبلیغی جماعت میں آئے ہوئے سکیڑوں لوگوں ویزا قانون کی خلاف ورزی کی آڑ میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیاگیا۔ ہے۔ اس میں بنگلہ دیش، ملائیشیا، ساؤتھ افریقہ سمیت دیگر ممالک کے باشندے شامل ہیں زعفرانی میڈیا کی کارستانی ہے کہ آج ہندوستان تاریخ کے اس مقام پر ہے کہ جہاں ہر سال 500 سے زیاد فرقہ وارانہ فساد ہو رہے ہیں۔

جبکہ پوری اٹھارویں صدی میں صرف پانچ ایسے فسادات کے شواہد ملتے ہیں جو واقعی فرقہ وارانہ فساد تھے۔ مسلمانوں کو ماب لنچنگ کے ذریعہ موت کا گھاٹ اتاردینے والا سلسلہ دادری سے پال گھر تک پہونچ گیا ہے گزشتہ سال جب کئی درجن مسلمان ماب لنچنگ میں مارے گئے تو انہیں مظلوم سمجھنے کے بجائے موت کو جسٹیفائی کرنے کے لئے بیف کا گوشت اور گائے لانے لیجانے کا مفروضہ گھڑا گیا۔ جس میں میڈیا نے جلتے پہ گھی ڈالنے کا کام کیا اور شعلوں کو ہوادی مگر چاہ کن را چاہ درپیش۔ دیکھئے کہ مہاراشٹر اور گجرات کی سرحد پر پال گھر علاقہ میں گزشتہ ہفتہ پیش آئے ماب لنچنگ کے واقعہ پر سیاست جاری ہے۔

جس میں دو سادھوں کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا گیا دوسری طرف مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے اس واقعہ میں فرقہ وارانہ زاویہ کی تمام کوششوں اور سازشوں کو یہ کہتے ہوئے ختم کردیا کہ اس واقعہ کے سلسلے میں گرفتار 101 افراد میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ انیل دیش مکھ نے بتایا کہ واقعہ کے 8 گھنٹوں کے اندر 101 افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے نام جاری کیے گئے ہیں اس واقعہ کے سلسلے میں ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں واضح طور پر ایک لفظ ”شعیب“ کی آواز سنائی دی تھی۔

جو ایک مسلم نام ہے۔ انیل دیشمکھ نے وضاحت کی کہ جو آواز سنی گئی وہ ”اوئے بس“ ہوسکتی ہے۔ عوام نے اس ویڈیو کو آن لائن کو وائرل کیا اور بعد میں اس کو ”شعیب بس“ سنا۔ اس ویڈیو کے بڑے پیمانے پر وائرل ہونے کے بعد پال گھر ہجومی تشدد میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا جارہا تھا۔ ”کوئنٹ“ ویب سائیٹ نے پال گھر ایس پی کے پی آر او گورو سنگھ کے حوالے سے یہ بات بتائی۔ پال گھر پولیس نے ہجومی تشدد کے سلسلے میں 110 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں 9 نابالغ بھی شامل ہیں۔

انیل دیشمکھ میں نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کرنے پر اپوزیشن کی شدید مذمت کی۔ انیل دیشمکھ ن تفصیلات کو بتاتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ اس واقعہ کو لے کر فرقہ وارانہ سیاست کی جارہی ہے۔ کسی کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ”مونگیری لال کے حسین سپنے“ دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد گودی میڈیا کی بوکھلاہٹ غیر متوقع نہیں تھی لہذا بکے ہوئے نیوز چینل اور اس کے اینکرز نے اس افسوس ناک حادثہ کو چانس سمجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی مگر جب اس میں وہ کامیاب نہین ہوئے تو اپنے نئے حریف آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی صدر سونیا گاندھی کو منتخب کرلیا اور ریپبلک ٹی وی کے اینکرپرسن ارنب گوسوامی نے صحافت کے اصول اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ ہفوات بکنے لگا جس کا اس حادثہ سے کوئی میل نہیں کھاتا ہے اس نے اولا تو یہ کہاکہ یہ ملک سناتن ہندووں کا ہے جو یہاں 80 فیصد ہے اور پھر اس نے آبیل مجھے مار کی طرح لبرل طبقہ اور سونیا گاندھی پہ نازیبا تبصرہ کیا جس میں انہیں ہندودشمن بتلانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

سونیا گاندھی پہ کیے گئے نازیبا تبصرہ کے بعد ارنب گوسوامی کے خلاف ملک بھر کے کئی پولیس اسٹیشن پہ اطلاع اول درج کرایا گیا ہے۔ اور ارنب کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اسی لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلہ میں جب تبلیغی جماعت کے خلاف من گھڑت کہانیاں گھڑنے والے ان نیوز اینکرز کو لگام لگانے والا کوئی نہیں تھا لہذا کھلے بدمعاش کی طرح اس نے ایک نہیں کئی بار تبلیغی جماعت پہ نازیبا تبصرہ اور جانبدارانہ رپورٹنگ کے ذریعہ ایک ماحول بنایاجس کے پاداش میں تبلیغی جماعت کو ہراساں کیے جانے سے لے کر گرفتاری تک جاری ہے۔

یہ گرفتاریاں اترپردیش، بہار، مہاراشٹر سمیت دیگر ریاستوں سے ہورہی ہیں لہذا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کررہا ہے۔ کہ ہندوستان کورونا وائرس کے آڑ میں اقلیت کے لئے زمین تنگ کررہی ہے سماج میں پنپنے والی مذہبی مانفرت، نفرت اور تعصب کے خاتمہ کے لئے میڈیا کی زہرافشانی پہ قدغن لگایا جانا نہایت ضروری ہے۔ چونکہ موت کو زندگی اور زندگی کو موت کہنے والانیوزمین کو برین واش کرکے اسٹیوڈیو میں بٹھایا گیا ہے جو ابن سبا کے فدائین کی طرح دیوانہ وار مفوضہ فرائض کو سرانجام دے رہے ہیں اس لیے تحفظ کا گھیرامزید مضبوط اور طویل کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *