دیہات کا دھوکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم جب بھی شام کی چائے پر اکٹھے ہوئے وہ مجھے چائے پلانے اپنے دومنزلہ بنگلے کی چھت پر لے گیا۔ کیوں کہ وہاں کی ڈیکوریشن اس نے اپنی پسند سے خصوصی طورپر کروائی ہے۔ گھر کی وسیع چھت پر ڈیکوریشن کے لیے انہیں یہ منفرد آئیڈیا سوجا کہ اسے دیہاتی گھر کا لُک دیا جائے۔ چنانچہ ہرطرف گملے سجا کر سبزے اور خوبصورت پھولوں کی بہار لائی گئی۔ دیواروں پر مٹیالے رنگ کا گارا نما لیپ کیا گیا۔ ایک چھپربناکر اس میں دیہاتی باورچی خانہ اور آتش دان بنایا گیا۔

دیوار میں ایک چوکھٹا بھی ہے جس میں بیلن، توا، مدھانی، چھنگیر اور کچھ دیگر دیہی باورچی خانے کے لوازمات رکھے گئے ہیں۔ دیوار کے پاس تانگے کا ایک پہیہ ایستادہ ہے اور دیوار پر گھوڑے کی زین اور لگامیں ٹنگی ہیں۔ یوں پوری کوشش سے ایک دیہاتی گھر کا خوبصورت سیٹ بنایا گیا ہے۔ ایک صاف ستھرا دیہاتی گھر، جیسے کوئی سگھڑ دیہاتی خاتون ابھی اٹھ کر کہیں نکل گئی ہیں۔

وہ دیہاتی پس منظر رکھتے ہیں۔ انہیں گاؤں دیہات کے مناظر اچھے لگتے ہیں۔ اس لیے وہ روز یہاں شام کو اس سبزہ اور مٹی کے بیچ میں آکر کرسیاں لگاکر چائے پیتے ہیں۔ ہرمہمان کو ساتھ یہیں لاتے ہیں۔ انہیں گاؤں کی باتیں سناتے ہیں اور اپنے ناستلجیا سے دق کرتے ہیں۔

ایک دن داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولے ”یہ سب کیسا لگ رہا ہے“۔
میں نے کہا ”اچھا ہے“۔
”صرف اچھا“؟
”ہاں مطلب مزہ تو آتا ہے“۔
”لیکن کمی کیا ہے اس میں“؟
”کمی تو نہیں بس یہ ذرا شاعرانہ سا کچھ بن گیا ہے“۔ میں نے کہا
”کیا مطلب“؟ اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔

یار بہت آسان ہے سمجھنا۔ مثلاً بارش کی ہلکی پھوار کافی دیر سے برس رہی ہے۔ ہم آدھے گھنٹے سے گاڑی میں بیٹھے بارش میں لمبی ڈرائیو کا سرور لے رہے ہیں۔ ایک سیڈ سا سونگ گاڑی میں چل رہا ہے۔ گاڑی کے شیشے اتار کر ہم مٹی کی سوندھی خوشبو، درختوں کی سرسراہٹ اور بارش کی مدہم سرگوشیاں سن رہے ہیں۔ گاڑی کے ونڈسکرین پر پانی کی شفاف آڑھی ترچھی لکھیریں بنتی اور ختم ہوتی جارہی ہیں۔ سٹیرنگ گھماتے ہم بارش میں سے طرح طرح کے جمالیاتی زاویے کشید کیے جارہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ناصر کاظمی، بکل دیو اور جانے کس کس شاعر کے اشعار اور فطری شاعری پر تبصرے کیے جارہے ہیں۔ دھیمی رفتار، دھیمی بارش، دھیمے سروں کی میوزک اور ہماری دھیمی گفتگو بہت دیر سے جاری ہے۔

یہ سب بہت خوبصورت اور اچھا لگتا ہے نا؟ میں نے آخر میں پوچھا۔
”ہاں! دلچسپ، رومان پرور“ وہ ذرا بے یقینی سے بولا

” تمہارا جمالیاتی ذوق بہت لطیف ہے۔ تم اپنے ماحول سے بہت جلد حسن، رنگ اور ذائقہ چن کر اپنے سامنے سجا لیتے ہو۔ مگر میں ایسا نہیں کرسکتا۔ مجھے زندگی اپنے حقیقی رنگ میں اچھی لگتی ہے۔ یا یوں کہیں کہ مجھے اسے اسی طرح لینا پڑتا ہے“۔

وہ نظریں مجھ پر جمائے دیکھے جارہا تھا۔ ”مطلب“؟
” آپ دیہات کو اتنا پسند کرتے ہیں کہ روز شام کی چائے گویا وہیں جاکر پیتے ہیں مگر کبھی دو دن سے زیادہ دیہات میں نہیں ٹھہرتے۔ آپ کے رشتہ دار آپ کو اپنے پاس بلاتے ہیں تو صرف دو دن کے لیے ہی آپ کو اپنے پاس روک پاتے ہیں۔ “

آپ جانتے ہیں کہ آپ کیوں وہاں رک نہیں پاتے؟ کیوں کہ دیہات میں صرف ”لُک“ نہیں ہوتا۔ وہاں کے لوگوں کو کچی دیواریں، خوبصورت تازہ پھول، سبزہ اور صاف ہوا مفت نہیں ملتے۔ دیہاتی لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی ان سب چیزوں کے بدلے میں دھان دیتے ہیں۔ کچے مکانوں کو بارشوں میں سنبھالنا اور ہر سال اس کی خود مرمت کرتے رہنا آسان نہیں ہوتا۔ کھیت، کلیان اور باغات میں جو تازہ سبزہ، پھل اور سبزیاں اگتی ہیں یہ اپنے آپ نہیں اگتیں۔

تپتی دوپہروں میں بھوک، پیاس اور مشقتیں کسانوں کے جسم بھینچتی ہیں تب کہیں یہ سبزہ اگتا ہے۔ صاف ہوا کے لیے گاڑیوں کے شور اور دھویں سے دیہات کو خالی رکھنا پڑتا ہے۔ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور ویران ہوں تو فضا شفاف رہتی ہے۔ یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر رینگتی پرانی گاڑیوں میں کتنی مائیں اپنے بچے جنم دے چکیں۔ کتنے جان بلب مریض ٹھنڈے ہوگئے اور کتنی ایمبولینسیں جب شہر سے یہاں لائی جاتی ہیں تو پہنچتے پہنچتے یہاں آنے سے انکار کردیتی ہیں۔ اور پھر کس طرح سے ان کے منت ترلے کیے جاتے ہیں۔

سانس لینے کو تھوڑی دیر رکنے کے بعدمیں نے پہلو بدلا ”آپ کو گاؤں اچھا لگتاہے تو صرف آسودگی کی حد تک۔ آپ اپنی چھت پر ایک مصنوعی سا دیہات بناکر اس میں خوش رہ سکتے ہیں۔ مگر حقیقی دیہات میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ کیوں کہ کسی بھی چیز کی حقیقت میں تلخیاں چھپی ہوتی ہیں۔ ہم بارش کو لے کر بہت خوبصورت شاعری کرسکتے ہیں، مگر بارش صرف رومان ہی نہیں جگاتا، غریب اور کچی آبادیوں کے لیے یہ عفریت اور عذاب بن جاتا ہے۔

کسی بھی منظر، ماحول اور کیفیت سے لطف، شوق اور جوش برآمد کیا جاسکتا ہے مگر اس کی حقیقت کا ادراک کرنا اور اس کا سامنا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ آسودہ حال شاعریہ سب کرسکتے ہیں، درد جن کے لیے تلخ نشے کی طرح ہوتا ہے۔ جسے وہ مزے لے لے کر لیتے ہیں۔ جو خوشی سے زیادہ غم کوانجوائے کرتے ہیں۔ جن کی بھوک شام کی چائے پر دو بسکٹ سے مٹ جاتی ہے۔ چائے کی ایک پیالی سامنے رکھ کر من کے کتنے سارے تراشے ہوئے آرٹی فیشل دکھ آسودہ کرلیتے ہیں۔ شام کے ڈوبتے سورج کو دیکھتے دیکھتے کتنی غزلیں بُن لیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس درد کو کیا جانیں جو سینے کے اندر کلیجہ کاٹ دیتا ہے۔ وہ غم جو زبان کا ذائقہ چھین لیتا ہے۔ مصائب جو زندہ رہنے کا شوق ختم کردیتے ہیں۔ بھوک جو اچھے برے کی تمیز مٹادیتی ہے اور تہذیب کے آداب بھلادیتی ہے۔

یہ دیہات کا خوبصورت لُک، بارش کی شاعری، برسات کے گیت، یہ سب آسودگی میں ذائقے بدلنے کے بہانے تو ہوسکتے ہیں۔ ماحول کی یکسانیت کو بدل سکتے ہیں۔ مگر انہیں دیہی زندگی اور بارش سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *