طاقتور طبقہ


ہر معاشرے میں گھر کے بعد سب سے زیادہ اہمیت کا حامل عنصر ”اسکول“ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک انسان کے کردار اور مستقبل کی بنیاد ڈالی جاتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے انسان اپنی زندگی کی گاڑی کو دھکیلنا شروع کرتا ہے اور بتدریج رفتار پکڑتے پکڑتے اپنی منزل کی جانب بڑھتا رہتا ہے۔ گھر کی ضروری تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ والدین بچے کو اسکول کی چار دیواری میں چھوڑ کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ان کے بچے کے لئے یہ وہ محفوظ مقام ہے جہا ں اس کے لئے سوائے منفعت کے اور کچھ نہیں۔ یہاں اس کو تعلیم تو دی ہی جاتی ہے، ساتھ ہی ساتھ نظم و ضبط سیکھنے اور زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی مصروف رکھا جاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر اسکول انسان گر کارخانے کا نام ہے۔

ہمارے یہاں ایک عام اسکول کی کلاس میں تین طرح کے بچے پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں میں آگے آگے۔ دوسرے اوسط درجے کے بچے اور تیسرے نالائق، شرارتی، بدتمیز، جھگڑالو اور بے باک۔ اس درجہ بندی کے تحت ان کے بیٹھنے کے مقامات کا بھی از خود تعین ہوجاتا تھا۔ یعنی اچھے بچے آگے، درمیانے بچے درمیان میں اور نالائق بچوں کی قسمت میں پچھلی نشستیں آتی ہیں۔ لیکن یہ بات کلیتاً درست نہیں۔ یہ مظہر محض ایک قیاس آرائی ہے۔ بعض اوقات بڑے لائق فائق بچے مختلف میدانوں میں پیچھے رہ جاتے ہیں، کبھی اوسط درجے کے کھلاڑی بھی چھکوں پہ چھکے لگا کے مخالف کے چھکے چھڑا دیتے ہیں اور بعض اوقات زمانے سے بیک بینچر کا تحقیر آمیز لقب لینے والے بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑکر خود آگے نکل جاتے ہیں۔ لیکن عمومی تصور وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔

کلاس کے چند ذہین بچے ایسے ہوتے ہیں جن میں باتوں کو سمجھنے اور چیزوں کو جلد سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بچے دوسرے بچوں کی نسبت نظم و ضبط، صفائی ستھرائی اور دیگر معاملات میں بھی بہتر ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ ہر استاد کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں کیونکہ ان پر زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ اپنی ذمہ داریوں اور اسکول کے رائج نظم و ضبط سے واقف ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہ وقت کے پابند ہوتے ہیں۔ اپنی ذات اور اپنے ماحول کی صفائی ان کا طرہء امتیاز ہوتا ہے۔ گھر کے کام میں کوئی کمی یا کجی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اساتذہ سے سیکھنے کے عمل اور کلاس کے دیگر امور میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ اور بالآخر نظم و ضبط اور محنت سے عبارت پورے سال کا صلہ انعامات اور اگلی جماعت میں ترقی کی صورت میں پاکر زندگی کا ایک اور زینہ عبور کرجاتے ہیں۔

کلاس کا درمیانہ طبقہ جو کہ تعداد میں سب سے زیادہ ہوتا ہے، وہی استاد کی قابلیت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ چونکہ یہ اوسط درجے کے بچے ہوتے ہیں اس لئے ان کا سارا تعلیمی سال کامیابی کی امید میں ناکامیو ں کے حملوں سے نبردآزما رہنے میں گزر جاتا ہے۔ سارا سال اساتذہ اپنی جا ن توڑ مشقتوں سے اس طبقے کا بڑا حصہ کامیاب لوگوں کی قطار میں لیجانے کے لئے مصروفِ عمل رہتے ہیں۔

اور تیسرا طبقہ! اس کے تو کیا ہی کہنے۔ ۔ بلا کا موقع شناس، خود اعتماد، شاطر انہ حد تک ذہین اور خطرناک حد تک شریر۔ کہنے کو تو یہ طبقہ تعداد میں انتہائی قلیل ہوتا ہے لیکن استعداد میں سب سے زیادہ۔ بلکہ سب پہ بھاری۔ بمشکل پانچ فیصد کا یہ طبقہ باقی پچانوے فیصد کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ نظم و ضبط کس چڑیا کا نام ہے، انکوکیا معلوم! صفائی، ستھرائی اور نظافت کیا بلائیں ہیں، انہیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔

وقت کی پابندی کیوں کریں جب دیر دسویر ہی وتیرہ ہو! کلاس ورک، ہوم ورک، غیر نصابی سرگرمیاں، استاد کاخوف وغیرہ۔ یہ وہ معاملات ہیں جن سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ کبھی کسی بچے کی کوئی چیز چرا لی تو کسی کے لنچ باکس پر ہاتھ صاف کردیا۔ کسی شریف بچے کو بلا وجہ مار دیا تو کسی دوسرے معصوم کی کاپی پھاڑ ڈالی۔ نہ قطار نہ انتظار۔ بس شترِ بے مہار کی مانند بھاگے چلے جانا۔ والدین کی تنبیہات اور استاتذہ کی ڈانٹ مار ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔

استاد کے پاس وقت اور وسائل کی اتنی قلت ہوتی ہے کہ وہ بھی ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتا کہ اسے محض اپنا تعلیمی سال بہتر طریقے سے اختتام پذیر کرنے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ دو پیریڈز کے درمیان ایک استاد کے جانے اور دوسرے استاد کے آنے کے بمشکل دو منٹ کے وقفے میں جو دھماچوکڑی مچائی جاتی ہے اس سے سارے اسکول کی دیواریں لرز جاتی ہیں۔ بریک کے دوران کینٹین کی قطار کسی ایک شیر کی آمد سے یوں تتر بتر ہوجاتی ہے کہ اکثر بچے بھوکے ہی رہ جاتے ہیں۔ کوئی ایک بچہ شرارت کرتا ہے، دوسرے اس کی دیکھا دیکھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ چل نکلتا ہے۔ کسی ایک بچے نے کسی استاد یا بڑے کو نہ پا کر کچرا پھینکا۔ اس کو دیکھ کر عام بچے میں بھی حوصلہ پیدا ہوا اور یوں صاف ستھرا کلاس روم کوڑا خانے میں بدل گیا۔

لیکن یہ سب کچھ یونہی نہیں ہوتا۔ محض چند بچے ایسا نہیں کرسکتے۔ دراصل ان شرارتی بچوں کے اکسانے پر اوسط درجے والے بچے ہمت پکڑتے ہیں اور وہ خود بھی اسی طبقے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یوں اقلیت، اکثریت پر غالب آجاتی ہے اور سارا نظام درہم برہم ہوکے رہ جاتا ہے۔ یہ سارا ماحول کسی بھی نارمل انسان کا فشارِ خون بڑھا دینے کو کافی ہوتا ہے۔ چنانچہ استاد کی آمد پر اس کی نظر سکون سے بیٹھے چند بچوں پر نہیں جاتی۔ وہ دھما چوکڑی میں مشغول اکثریت کو دیکھتے ہوئے ساری کلاس کو کھڑا کرکے سز ا دیتا ہے۔ یوں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پِس جاتا ہے۔ ایک معمولی طبقے کی شرارت کی قیمت ساری کلاس کو تکلیف اور شرمندگی کی صورت میں بھگتنا پڑتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نہ یہ تکلیف اس طبقے کو سبق سکھا پاتی ہے جس نے سب کو برباد کیا ور نہ ہی شرمندگی کا کوئی گزر اس کوچے سے ہو پاتا ہے۔

یہاں کلاس کی مثال اس لئے پیش کی گئی کہ اسی کلاس کو اگر حدود سے آزاد کرکے پھیلا دیا جائے تو ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے ؛ جہاں قابل لوگ، اوسط درجے کے شہری اور معاشرے کے ناسور پائے جاتے ہیں۔ ایک انسانی معاشرے میں اس کے شہریوں کے لئے اعلٰی پائے کا انتظام و انصرام اور نظم و ضبط کے نفاذکا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گلیاں، محلے، سڑکیں، کالونیاں، عبادتگاہیں، بازار، اسپتال، اسکول، کالج، دفاتر اور مختلف ادارے بنائے جاتے ہیں۔ بنیادی انسانی ضروریات جیسے بجلی، پانی، گیس، صفائی ستھرائی، پولیس، ٹریفک سسٹم وغیرہ کی دستیابی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ وہاں کے شہری امن و سکون سے زندگی جی سکیں۔

لیکن عام مشاہدے کی بات ہے کہ یہ تمام سہولیات ہونے کے باوجود ہم پرامن و پر سکون زندگی نہیں جی پارہے۔ ہمارا معاشرہ کیوں پستی کا شکار ہے؟ ہمارے شہر کیوں کچروں کے ڈھیر میں بدل گئے، یہاں ٹریفک کی بدترین صورتِ حال کیسے وجود میں آئی؟ وجہ؟ وجہ یہی چند فیصد کا طبقہ ہے جو تمام مسائل کی جڑہے۔ اپنی ذمہ داریوں سے لاپرواہی برتنا، کام چوری، اختیارات کا ناجائز استعمال، عام لین دین میں رشوت کا چلن، قانون کی دھجیاں بکھیرنا، دوسروں کو تکلیف میں مبتلا رکھنا، طاقتور کی چاپلوسی اور کمزور پر ظلم کرنا، جھوٹ، بدیانتی، لالچ، حرص، بدزبانی اور دوسروں کو کچل کر آگے بڑھ جانے کی خواہشات ایک انتہائی قلیل طبقے کی فطری کمزوریاں ہیں۔

یہی معمولی تعداد والا طبقہ ہے جسے مذہبی حدود و قیود کا پاس نہیں، شہری قوانین کا احترام نہیں، قطار بنانا قبول نہیں، ٹریفک قوانین کی پاسداری منظور نہیں، کوڑا کچرا اور گندگی پھیلانافطرت کا حصہ ہے۔ یہی طبقہ ہر شعبے میں اپنی جگہ بناتا ہے ؛ چاہے وہ گلی محلے ہوں، مختلف محکمہ جات ہوں، حتٰی کہ ایوان ہاے اقتدار ہوں۔ ۔ ہر جا یہی طبقہ ہمیں اپنی دھونس جماتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ لوگ ملک سے باہر جا کر بھی اپنی فطرت نہیں بدل پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری پوری قوم بین الاقوامی سطح پر ایک جاہل، پست، لاقانون، دہشتگرد اور حریص و غلیظ قوم کے عنوانات سے پہچانی جاتی ہے۔

جب اوسط درجے کا عام شہری قانون کی کمزوریاں اور اس طبقے کی شہزوریاں دیکھتا ہے تو اسے بھی حوصلہ ملتا ہے اور وہ بہتی گنگا میں ہاتھ ڈال دیتاہے۔ اور یوں برائیاں پھیلتے پھیلتے سارے معاشرے کو آلودہ کرکے دم لیتی ہیں۔ نتیجتاً ایک صحت مند معاشرہ بیماریوں میں مبتلا ہو کر دم توڑ دیتاہے اور ہر جا محشر نما نفسا نفسی کا دور دورا ہوجاتا ہے۔ آج ہمارا سامنا ایسی ہی صورتِ حال سے ہے جہاں پڑھا لکھا، سلجھا ہوا، مہذب، نظم و ضبط کا پابند، اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ اورحلال کا متلاشی طبقہ ذہنی اور قلبی کوفت کا شکار ہے۔ اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ قانون کے عدمِ نفاذ اور اس کے قاتلین کی طاقت نے اس طبقے کو بے دست و پا کرکے رکھ دیا ہے۔ جبکہ اس طبقے کو معاشرے پر حاوی ہونا چاہیے تھا تاکہ ہمارا شمار بھی دنیا کی باوقار اقوام میں ہوتا۔ مگر۔ بدقسمتی سے ایسا ہو نہ سکا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بھی ایسا ہو پائے گا؟ تو جی جناب! بالکل ایسا ممکن ہے۔ جب معاشرے چند برے لوگوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو سکتا ہے تو چند اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھائی اور ترقی کی جانب بھی مائل ہوسکتا ہے۔ ایک اقلیت اگر اسے تباہ کرسکتی تو دوسری اقلیت اسے تعمیر بھی کرسکتی ہے ؛ اگرچہ یہ مرحلہ مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ اصلاحِ معاشرہ کا آغاز ہمیں اپنی ذات اور اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے کردار کو مضبوط، پرکشش اور پراثر بنانا ہوگا تاکہ دوسروں کے لئے مثال بن سکے۔

ہمیں اپنی گفتار کو بہتر کرنا ہوگا کہ دوسروں تک اپنا پیغام پہنچا سکیں۔ جہاں ہم اپنے گھروں میں دیگر امور کی طرح شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں، ویسے ہی گھریلو اخلاق کو پروان چڑھائیں۔ اپنی ذات اور گھر کی صفائی پر بھرپور توجہ دیں۔ پھر پڑوس اور گلی محلہ۔ ۔ اگر ہم محض اپنی گلی کی حد تک ظاہری حالات کو سنوارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ پہلے مرحلے کے لئے کافی ہوگا۔ اسی طرح چراغ سے چراغ جلتے رہے تو دوسری گلیوں اور محلوں کے لوگ بھی سبق حاصل کریں گے۔

پھر بات آگے بڑھتے بڑھتے سڑکوں، شاہراہوں اور شہرو دیہات میں پھیل جائے گی۔ اداروں سے کام چوری اور حرام خوری ختم ہوگی۔ انسانیت کی روشنی جہالت کے اندھیرے پر غالب آجائے گی اورمٹھی بھر شر پسند طبقہ بے دست و پا ہوجائے گا۔ جب اہل اپنے استحقاقی مقام پر پہنچے گا تو نظام درست ہوگا، ملک بھی ترقی کی راہ پر آجائے گا اور ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام بھی واپس ملے گا۔ انشاءاللہ۔ اس دعوے کی دلیل کے لئے محض معلمِ انسانیتﷺ کی مثال کافی ہے۔

Facebook Comments HS