ہم ڈوبتے سورج کا نظارہ نہیں کرنا چاہیں گے


جب چین کے شہر ووہان میں کرونا سے متاثرہ مریض نے ڈاکٹر لی سے اپنی زندگی کے آخری ڈوبتے سورج کو دیکھنے کی حسرت آمیز التجا کی، تو اس خبر کو کئی اخبارات نے ”آخری ڈوبتا سورج“ کے عنوان سے چھاپا۔ ( رابعہ احمد )

جب لکھنؤ میں نماز پڑھتی ہوئی عورتوں پر بے رحم پولیس والوں کی لاٹھیاں برس رہی تھیں، جب شاہین باغ پر گجرات ماڈل کی طرح پیٹرول بموں سے حملہ کیا جا رہا تھا، جب افق پر سرخ رنگ پھیلا تھا اور جامعہ میں پولیس بربریت کا ثبوت دے رہی تھی، چین میں ایک مرتا ہوا شخص کہہ رہا تھا، ایک بار مجھے ڈوبتا ہوا سورج دکھا دو۔ شاہین باغ میں ایک عورت جس کا چہرہ لہو لہان تھا، اپنے زخموں کو بھول کر وہ سیاہ قانون کے خلاف انصاف مانگ رہی تھی۔

معصوم عورتیں، نقابی عورتیں، حجابی عورتیں جو گھر میں اپنے بچوں کے تاخیر سے آنے پر بھی خوف زدہ ہو جاتی تھیں، میدانوں میں تھیں۔ انہیں زعفرانی ڈاکوؤں، زعفرانی دہشتگردوں کا کویی خوف نہ تھا۔ احتجاج کے موقع پر میں نے کچھ جوان عورتوں کو سفید کفن میں ملبوس بھی دیکھا۔ پورے ملک کی نشاندہی کی جائے تو یہ لاکھوں کی تعداد میں تھیں۔ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ بلا خوف۔ اب انہوں نے اپنے حق کے لئے سفید کفن کو انقلاب کا پرچم بنا لیا ہے۔

وہ اپنے بچوں سے خوف زدہ نہیں۔ ایک ماں ٹھنڈ راتوں میں اپنی بیٹی کے کھونے کے بعد بھی اس لئے شاہین باغ آتی رہی کہ اسے ہندوستان کی سر زمین سے مسلمانوں کا اجڑنا منظور نہیں تھا۔ جب گولیاں چلتی ہیں، زعفرانی سازش انھیں کچلنے کے لئے آگے بڑھتی ہیں، وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ اس ڈوبتے سورج کو نہیں دیکھنا چاہتیں، جیسا کہ اس چینی مریض نے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ مگر ڈوبتے سورج کو دیکھنے کے بعد بھی وہ زندہ رہا۔

یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈوبتے سورج اور سیاہ رات کے بعد بھی صبح نو کے نور سے نئی کائنات جنم لیتی ہے۔
ہم قرنطینہ، یعنی طبی ہراست، یا طبی نظر بندی کا شکار ہیں۔ جب یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی، اس بیماری نے یورپ کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہم لاک ڈاؤن سے باہر کے مناظر دیکھتے ہیں تو چین سے کینیڈا اور دیگر ممالک ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ جو اقدامات ان ممالک میں اٹھائے گئے، کیا ہم صفر برابر بھی اپنے ملک میں تصور کر سکتے ہیں؟ اس وبا کو لے کر بارہ تیرہ برس پرانی کچھ کتابوں کی مثالیں دی جا رہی ہہیں۔ کچھ پرانی ہالی وڈ فلموں کو یاد کیا جا رہا ہے۔ پہلے جب وبا شکار بناتی تھی، مسجد، مندر گرجا گھر کے دروازے کھل جاتے تھے۔ اب ہم فاصلوں کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ عبادت گاہوں میں سناٹا ہے۔ جانے پر پابندی عاید کی جا رہی ہے۔

ہندوستان کی حقیقت ہمیں کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔

تھالی اور تالی کی حقیقت

کچھ کہانیاں تھیں، ہم جن کو سن کر بچپن میں ٹھہاکے (ٹھٹے ) لگاتے تھے۔ اب وہی کہانیاں ہیں، لیکن ہم ٹھہاکے نہیں لگاتے۔ افسوس کرتے ہیں۔ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ اور یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اندھوں کے قبرستان میں ملک کی مکمل آبادی کو اتار دیا گیا ہے۔ کچھ یہاں جشن منا رہے ہیں۔ کچھ مر رہے ہیں۔ کچھ کو مارا جا رہا ہے۔ ایک اسٹیج ہے جہاں نہ ختم ہونے والی تاریکی میں کچھ جوکر کھڑے ہیں۔ ایک بڑا جوکر ہے۔ ایک اس سے کم مسخرہ، ایک دانشور جوکر بھی ہے، جو تاریکی میں بھی نوٹ گنتا ہوا جب قہقہے لگاتا ہے تو قبرستان کے مردے بھی چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ آیا یہ مسخرے زمین سے اہے ہیں یا مریخ سے، چاند سے اہے ہیں یا کسی بلیک ہول سے نکل کر اسٹیج پر جمع ہوئے ہیں۔

جوکر ہیں؟ معمولی مسخرے ہیں؟ کسی ملک کے نمائندے ہیں؟ یا آسمانی خدا نے شیطانوں کی نئی فوج پیدا کر دی ہے۔ کہ جاؤ، اور ایک زمانے پر اپنے ہونے کا ایسا انکشاف کرو کہ تاریخ کی کتابیں بھی تمہارے لطائف پر شرمندہ ہو سکیں۔ جب انسان مریخ اور نئی دنیا و کائنات کے تعاقب میں ہے، تم اس انسان کی فتوحات پر بریک لگانے کے لئے اس ترقی یافتہ انسان کو اندھوں کے قبرستان میں لے جاؤ۔ سائنس و ٹکنا لوجی کے دروازے بند کر کے مذہبی عمارات کے سارے پٹ کھول دو۔

سو ہم وحشی دنیا سے نکلے اور اندھوں کے مقبروں میں آ گئے۔

ایک بادشاہ کا وفادار ایک بندر تھا۔ ایک دن شکار شکار کھیلتے ہوئے بادشاہ کو نیند آ گی۔ بندر پاس میں تھا۔ بندر نے دیکھا کہ ایک مکّھی دیر سے بادشاہ کو پریشان کر رہی ہے۔ بندر نے تلوار اٹھایی اور ناک پر بیٹھی ہوئی مکھی کو ہلاک کرنے کے ارادے سے تلوار چلا دی۔ مکھی اڑ گئی۔ کبھی کسی ملک کو مکھی اور پتنگوں کی طرح اڑتے دیکھا ہے آپ نے؟

ایک بانسری والا تھا جو بین بجا کر گھروں سے چوہوں کو بلایا کرتا تھا۔ پھر چوہوں کو لے کر آبادی سے دور کسی گھاٹی کی ترایی میں اتار دیتا۔ بستی کے لوگوں نے پہلے اس کارنامے کو معجزہ سمجھا۔ ایک دن وہ بانسری والا دوبارہ آیا۔ بین بجا کر بستی کے تمام لوگوں کو اندھوں کے قبرستان لے گیا۔ ہم پندرہویں صدی کے، اندھوں کے قبرستان میں آ گئے۔

ان حکایات و واقعات کو یہیں چھوڑتے ہیں۔ شاہین باغ، چھ برسوں کی خوفناک سیاست سے تھالیوں اور تالیوں کی گونج تک آتے ہیں۔

سیاست میں روز ہونے والے حادثے جوگندر پال کے ناول نادید کی یاد تازہ کرا دیتے ہیں۔ نادید کے اندھے بھی دانشمند تھے، جیسے کرشن چندر کا گدھا جو باضابطہ انگریزی اخبار پڑھتا تھا۔ اور پنڈت نہرو بھی اس سے ملنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ کرشن کا گدھا ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ لگتا ہوا نیفا تک پھچ گیا۔ وائرس چین پنہچا۔ چین سے ہندوستان آ گیا؟ ہندوستان جہاں چھ برسوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کی سیاست اپنی تمام حدیں تجاوز کر چکی ہیں۔

اخلاق جیسوں کا قتل، تین طلاق، بابری مسجد۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی، تباہ شدہ عوام لیکن کیا حقیقت میں؟ مودی نے ٹوپی پہننے سے انکار کے بعد ہی بتا دیا کہ ان کا موقف کیا ہے؟ 2014 اور 2019 کے بعد اکثریت کو اچھی طرح سمجھ میں آ چکا ہے کہ مودی ہندوؤں کے لئے مسیحا بن کر ابھرے ہیں۔ جب این پی آر کے نام پر دھمکیوں کا بازار گرم تھا، کورونا نے مودی کے تمام راستوں کو آسان بنا دیا۔ اب باری تھی یہ دیکھنے کی، کہ عوام اب بھی ان کے ساتھ ہیں یا نہیں؟ جہاں اقتصادی اور معاشی طور پر کورونا سے لڑنے کی ضرورت تھی، مدد کرنے کی ضرورت تھی، مودی نے تالی اور تھالی بجوانے کا اعلان کیا اور خوش ہوئے کہ ہندوستان کی بڑی آبادی جب ان کے ساتھ ہے تو این پی آر کیا، وہ مسلمانوں سے ملک بھی خالی کرا سکتے ہیں۔ کیوں کہ اکثریت مودی پر بھروسا کرتی ہے۔

ہماری طرف بڑھتا وائرس

یہ کہنا مشکل ہے کہ کون سا وائرس ہے جو برق رفتاری سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ ملکوں میں غریبوں کے پہننے کے لئے سڑک کنارے کپڑے رکھ دیے جاتے ہیں۔ ترکی میں وبا کا خیال کرتے ہوئے سڑکوں پر کھانے کے پیکٹ رکھ دیے گئے۔ امریکا، کینیڈا جیسے ممالک نے عوام کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ چین وبایی حملے کے بعد آج محفوظ ہے۔ اس عورت کو سیلوٹ کیجئے جس نے کورونا ویکسن کے لئے امریکی ڈاکٹر کے سامنے خود کو پیش کیا۔ کورونا تیسرے اسٹیج میں ہے۔ چلا جائے گا۔ مگر اس وقت ہندوستان کے مسلمان جس وائرس کی چپیٹ میں ہیں، وہ کیسے رخصت ہوگا؟

یقین ہے، ہم ڈوبتے سورج کا نظارہ نہیں کرنا چاہیں گے۔ ڈوبتے سورج سے زیادہ ہماری امید مشرق سے نکلتے ہوئے سورج میں ہے۔ ہم ان کی باتوں پر توجہ کریں جو ہمیں بیکار محض لگتی ہیں مگر ان باتوں میں تھالی اور تالی کی گونج کے ساتھ ایک پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہندو راشٹر کا پیغام۔ اور اس پیغام میں صاف لکھا ہے کہ اب اکثریتی فرقہ کی طرح ہمارے اندر بھی اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS