پہلا روزہ جو مکمل نہ ہو سکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی ساٹھ سال پرانی بات ہے۔ میں شاید تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا جب پہلی بار روزہ رکھا۔ مارچ کا مہینہ تھا جو ان دنوں کافی گرم ہو جاتا تھا۔ میرے بعض ہم جماعت روزہ رکھتے تھے، بلکہ بعض تو پورے روزے بھی رکھتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی اور کچھ اکسانے پر میں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ اب حادثہ یہ ہوا کہ اسی دن پھوپھی جان رحیم یار خان سے اپنے بچوں سمیت آ گئیں۔ تقریباً عصر کا وقت ہو گا جب دادی جان نے چائے بنائی اور میرے کزن زبیر نے، جو مجھ سے تقریباً ایک سال چھوٹا اور ایک جماعت پیچھے تھا، چائے میں رس ڈبو کر کھانے شروع کر دیے۔ اس زمانے میں گاوں میں رس بھی ہمارے لیے سوغات کا درجہ رکھتے تھے۔ اس کو کھاتے دیکھ کر میرا بھی دل للچایا اور بھوک بہت زیادہ محسوس ہونے لگی۔ میں نے رونا شروع کر دیا۔ میاں جی (ہم دادا جان کو میاں جی کہتے تھے) نے پوچھا کیوں رو رہے ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا بھوک بہت لگی ہے۔ میاں جی نے کہا بھوک لگی ہے تو کھاو تمھیں کس نے منع کیا ہے۔ یہ سن کر میں نے روزہ اسی وقت توڑ دیا اور چائے رس کھانے لگا۔ یہ تھا پہلے روزے کا انجام۔

اگلے رمضان میں پھر ایک دن روزہ رکھا۔ جب میں سکول سے واپس آیا تو ماں جی (دادی جان) نے کہا اگر آج تم روزہ پورا کر لو تو شام کو حلوہ کھلاوں گی۔ میں میٹھا کھانے کا بہت شوقین ہوتا تھا۔ روٹی بھی اکثر شکر میں گھی ڈال کر اس سے کھا لیا کرتا تھا۔ اس طرح حلوے کے لالچ میں پہلا روزہ مکمل کیا۔ اس کے بعد شاید سات آٹھ روزے اور بھی رکھے تھے۔

گاوں کی زندگی بہت سادہ تھی ان دنوں سحری کے وقت گھر میں تقریباً سبھی لوگ دہی کے ساتھ پراٹھا کھا کر روزہ رکھتے تھے۔ ہمارے گھر میں ناشتے کے وقت سالن کھانے کا رواج نہیں تھا۔ کبھی کبھار ساگ کے ساتھ پراٹھا کھایا جاتا تھا یا امی جان ماش کی دال کا پراٹھا بنایا کرتی تھیں جو دہی کے ساتھ کھایا جاتا تھا۔

 رمضان میں میں بھی فصلی نمازیوں میں شامل ہوتا تھا۔ اس وقت بتایا یہ جاتا تھا کہ مغرب کی نماز کا وقت بہت مختصر ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب کی نماز اذان کے بعد فوراً ادا کر لینی چاہیے۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔

ہماری مسجد کے پیش امام صاحب کا بڑا بیٹا لائل پور میں مولوی سردار احمد صاحب کے مدرسے میں پڑھتا تھا۔ مدرسے کو گاؤں کی زبان میں درس کہا جاتا تھا۔ یعنی فلاں درس میں پڑھتا ہے یا درس کا پڑھا ہوا ہے۔ وہ ایک بار چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ اس نے مغرب کی اذان عربی لہجے میں تجوید کے ساتھ دی جس میں معمول سے زیادہ وقت صرف ہوا۔ اس کے بعد نماز بھی بہت اچھی قرات کے ساتھ پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو ایک بزرگ نے فوراً اعتراض کر دیا کہ تم نے نماز کا وقت ہی گزار دیا ہے۔ اب مولوی صاحبان نے اجتہاد کر لیا ہے۔ میرا بیٹا روزہ افطار کرکے کھانا کھا کر نماز ادا کرنے مسجد روانہ ہوتا ہے۔

خیر اس زمانے میں افطاری کا کوئی خاص اہتمام یاد نہیں آ رہا۔ کبھی شاید پکوڑے بنتے ہوں، یا کوئی سویٹ ڈش۔ بس جلدی سے روزہ افطار کرکے نماز کے لیے مسجد چلے جاتے۔ موذن ایک کھجور کھا کر اذان دینا شروع کرتا، اس دوران میں مسجد میں موجود لوگ اپنی اپنی کھجور کھا کر روزہ افطار کرتے۔ فوراً نماز ادا کی جاتی اور اس کے بعد گھر واپس آ کر کھانا کھایا جاتا۔ کبھی کبھار مسجد میں افطاری بھی تقسیم ہوتی تھی۔ یہ بالعموم گڑ والے چاول ہوتے جو نماز ادا کرنے کے بعد تقسیم کیے جاتے تھے۔ ہمارے گھر میں بھی رمضان کے مہینے میں ایک بار گڑ والے چاولوں کی دیگ پکا کر تقسیم کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

رمضان میں تراویح کی نماز بھی کافی باقاعدگی سے پڑھی جاتی تھی۔ دیسی تلفظ میں اسے ترابیاں کہتے تھے۔ آٹھ اور بیس کا جھگڑا اس زمانے میں کبھی سننے میں نہیں آیا تھا۔ مولوی صاحب حافظ قرآن نہیں تھے۔ وہ قرآن مجید کی آخری دس سورتوں کی تلاوت کرکے تراویح پڑھاتے تھے۔ پہلی دس رکعتوں کے بعد ان سورتوں کو دہرایا جاتا۔ اس کے بعد وتر بھی جماعت کے ساتھ ادا کیے جاتے۔ وتروں کے لیے دعائے قنوت کافی محنت کرکے یاد کی تھی۔ 27 رمضان کو شب قدر کی تلاش میں شب بیداری بھی کرتے اور مسجد میں نوافل ادا کرتے۔ انھی دنوں صلوٰۃ التسبیح ادا کرنے کا طریقہ بھی سیکھا۔ ساتھ ساتھ دوستوں کے ساتھ کچھ شرارتوں کا اور گپ شپ کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔ انتیسویں روزے کی شب تراویح کو وداع کیا جاتا۔ جب مولوی صاحب تراویح وداع کہنے کا طریقہ بتاتے تو ساتھ یہ بھی کہتے اور ساتھ نمازیں بھی وداع۔ کیونکہ انھیں معلوم ہوتا تھا کہ بہت سے نمازیوں کی شکلیں اب آئندہ رمضان میں ہی مسجد میں دوبارہ نظر آئیں گی۔

رمضان کا یہ سلسلہ میٹرک تک تو اسی طرح جاری رہا۔ جب 1967 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو وہ پہلا رمضان تھا جو گھر سے باہر آیا تھا۔ اقبال ہوسٹل کے میس میں جب افطاری کے لیے گئے تو عجیب و غریب پراٹھے کھانے کو ملے جن سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے اپنے روم میٹ اور دوست تنویر کی طرف دیکھا کہ یہ کیا ہے۔ ہم دونوں چند لقمے لے کر اٹھ کر واپس کمرے میں آ گئے۔ خیر سردیوں کے روزے تھے، اس لیے روزہ رکھنے میں کسی خاص دقت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ اسی دن انارکلی جا کر جیم کا ایک ڈبہ خریدا، روزانہ بن لے آتے اور باقی رمضان بن کھا کر سحری کرتے رہے۔ ہوسٹل میں زندگی میں پہلی بار حافظ صاحب کے پیچھے نماز تراویح ادا کی۔ سچ یہ ہے کہ جس طریقے سے قرآن پڑھا جا رہا تھا اس نے کچھ لطف نہ دیا۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ایک یا دو راتوں سے زیادہ میں نے تراویح کی نماز پڑھی ہو۔

اگلے برس رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی ایوب خان کی حکومت کے خلاف ہنگامے شروع ہو گئے۔ جن کے بعد تعلیمی ادارے بند ہو گئے اور ہم گھروں کو روانہ ہو گئے۔ رمضان میں میں کسی کام کے لیے دو دن کے لیے لاہور آیا۔ روزہ رکھا ہوا تھا۔ افطاری کے لیے اپنے پسندیدہ ہوٹل لارڈز کا رخ کیا۔ مال روڈ کو دیکھ کر سخت وحشت ہوئی۔ اکثر عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ روزہ افطار کرنے اور کھانا کھانے کے بعد بیروں نے جلد از جلد باہر نکلنے کا کہنا شروع کر دیا کیونکہ ان دنوں رات کو کرفیو لگ جاتا تھا۔ ہوسٹل خالی پڑا تھا۔ سحری کے لیے میں نے لوہاری دروازے کے باہر نعمت کدہ کا رخ کیا۔ اگلے روز صبح اٹھ کر اتنی سردی میں نعمت کدہ جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ رات میں دو سیب لے آیا تھا، وہ کھائے اور روزہ رکھ لیا۔ صبح ہوئی تو گاوں کے لیے روانہ ہو گیا۔

رمضان کے روزے رکھنے کا یہ سلسلہ 1973 تک باقاعدگی سے جاری رہا۔ اس برس عرب اسرائیل جنگ ہوئی تھی جسے جنگ رمضان کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ابتدائی کچھ کامیابیوں کے بعد عربوں کو حسب معمول بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نیو ہوسٹل کے کامن روم میں ٹی وی پر جنگ بندی کی خبر سنی۔ اس روز شاید ستائیسواں روزہ تھا۔ نجانے اس خبر کا مجھ پر کیا اثر ہوا کہ دل و دماغ میں ایک آندھی چلی اور ہوسٹل میں اپنے کمرے تک جاتے جاتے میری حالت اس مسافر کی تھی جس کا دوران سفر سب اسباب لٹ گیا ہو۔ اس کے بعد زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *