ہم نشینی اگر کتاب سے ہو۔۔۔
ڈاک سے ایک پارسل موصول ہوا ہے ۔ میں بے صبری سے کاغذ چاک کرتے ہوئے پارسل کھولتی ہوں۔ بیچ میں محبت کا تحفہ ہے جو ایک دوست نے اپنی دوستی کے بیج کی نمو کرتے ہوئے بھیجا ہے۔ ہر تحفہ کیسا بھی ہو، چاہے جانے کا احساس دلاتا ہے لیکن کچھ تحفے تو دل کے تار چھیڑ دیتے ہیں۔
ہم نے آنکھ کھولی تو گھر میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ مذہب، ادب، فکشن، نان فکشن، جاسوسی، تاریخی، ڈائجسٹ، بچوں کے ناول اور رسالے۔ مزے کی بات یہ کہ گھر کا ہر چھوٹا بڑا ہر کتاب پڑھنے کے لئے آزاد تھا، عمر کی کوئی قید نہیں تھی۔
ہمارے ابا، کتابوں کے عاشق اور اس ماحول کا سہرا ان کے سر بندھا۔ اماں بتاتی ہیں کہ جب وہ بیاہ کے آئیں تو شروع میں بہت حیران اور پھر پریشان ہوئیں کہ میاں صاحب ہر وقت کتاب میں گم۔ حیرانی کے بعد بوریت کا پیریڈ شروع ہوا کہ گھر میں ساس نند کا وجود نہیں تھا اور بچے بھی دنیا میں آنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہمارے ابا نے بڑی ہوشیاری سے آہستہ آہستہ اماں کو بھی کتابوں اور رسالوں کی چاٹ لگا دی۔ اب منظر کیا بنا کہ دونوں اپنے اپنے پلنگ پہ لیٹے ہیں اور اپنی اپنی کتاب میں گم۔
بچے آئے، تو یہ لت انہیں بھی لگا دی گئی۔ ہمارے گھر میں شام کے وقت ہر کسی کے منہ کے سامنے ایک کتاب ہوتی اور وہ کتاب نصاب کی کتابوں میں سے ہرگز نہ ہوتی۔ کوئی بھی نئی کتاب آنے پہ باقاعدہ چھینا جھپٹی ہوتی کہ پہلے کون پڑھے گا؟
ہماری آپا بی اے کی طالبہ اور ہم پرائمری کے لیکن بضد ہیں کہ جو کتاب وہ پڑھیں گی وہی ہم اور اس پہ طرہ یہ کہ پڑھیں گے بھی پہلے۔ اپنی کم عمری کو ماننے کے لئے ہم تیار ہی نہیں تھے۔ چونکہ کافی اڑیل قسم کا بچہ سمجھے جاتے تھے اور آپا ٹھہریں سدا کی رحم دل، سو اپنے شوق اور ہماری ضد کے ہاتھوں زچ ہو کے امن کا جھنڈا یوں لہرایا جاتا کہ چلو اکھٹے پڑھتے ہیں۔ سو اب ترتیب کچھ یوں بنتی کہ دونوں بستر پہ دراز ہیں اور بیک وقت کتاب سے ہم کلام۔ جو پہلے صفحہ ختم کرتا، وہ دوسرے کا انتظار کرتا کہ اگلا ورق پلٹا جا سکے۔ ہماری ازلی بے چینی اور بے صبری یہاں بھی رنگ لاتی اور ہم آپا کا انتظار کیے بنا اگلے ورق پہ روانہ ہو جاتے۔ اب منظر کچھ یوں ہوتا کہ آپا معلق صفحے کے ایک طرف سر نہوڑائے اور ہم دوسری طرف۔ اس تیز رفتاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ دس گیارہ برس کی عمر میں ہی ایک عدد چشمہ ہماری ناک پہ سایہ فگن ہو گیا۔
اماں ابا کے ساتھ ان کے دوست احباب کے گھر جاتے تو عقابی نگاہ سے کتاب کی تلاش میں کونے کھدرے کھنگال لیتے اور جس گھر میں کوئی کتاب نہ ہوتی ہم آئندہ کے لئے اس گھر سے ربط ضبط کا خیال ترک کر دیتے۔ ہمیں وہ لوگ دنیا کے بور ترین افراد لگتے جن کی زندگی میں کتاب کا لمس نہیں تھا۔ آنے والے برسوں میں جب لوگ بتاتے کہ ان کے گھر کورس کی کتابوں کے علاوہ کچھ بھی پڑھنے پہ پابندی تھی تو ہمیں ان پہ ترس اور اپنے ابا پہ پیار آ جاتا جنہوں نے زندگی کا یہ دروازہ ہم پہ وا کیا تھا۔
تقریری مقابلوں میں جانا شروع کیا تو اس دن عید ہو جاتی جب کپ یا ٹرافی کی بجائے کتاب انعام کی صورت مل جاتی۔ دیوان غالب، بانگ درا، بال جبریل، سیرتِ النبی اور بے شمار کتابیں اس دور کی یادگار ہیں۔
ہوسٹل پہنچے، عمر کے ساتھ چلنے والی رفاقیتں زندگی کا سرمایہ بنیں۔ مال روڈ پہ فیروز سنز، وین گارڈ اور انارکلی میں کتابوں کی صحبت میں پہ پہروں بتانا ہماری بچپن کی پہلی محبت کا مظہر تھا جس میں میڈیکل کی مشکل اور وقت طلب پڑھائی بھی حائل نہ ہو سکی۔ سالگرہ پہ دوستوں کو تحفے کے انتخاب میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا، کتاب تھی نا!
شادی کے بعد صاحب کو دو باتوں سے بہت اچنبھا ہوتا۔ پہلی، کہ کیا کوئی ڈاکٹر کورس کی کتابوں کے علاوہ بھی کتابیں پڑھ سکتی ہے اور اتنی کتابیں! دوسری کہ جس رفتار سے صفحے پلٹ دیے جاتے ہیں لگتا ہے کہ محض ورق گردانی کا شغل ہے۔
ہمارے بچوں کو یہ الفت بطن مادر ہی میں مل گئی جب انہوں نے ہماری آنکھوں سے کتابوں کو چاہا۔ یہ محبت کبھی انہیں بین الاقوامی لٹریری فیسٹیول میں لے گئی اور کبھی سپیلنگ بی (Spelling Bee) کے مقابلوں تک۔ کتابوں کے آسمان پہ پرواز نے انہیں سوچنا اور سوال کرنا سکھا دیا۔ آخر یہ محبت اتنی بڑھی کہ ان کے پروفیشن بھی کتاب سے وابستگی کی بنیاد پہ چنے گئے۔
ہمیں اس شوق نے رہ حیات میں کئی ایسے لوگوں سے ملوا دیا جنہیں ہم کتاب کے حوالے سے تو جانتے تھے لیکن دوبدو صحبت کا خانہ خالی تھا۔ ہما کوکب بخاری نے نوے کی دہائی میں قارئین کے دلوں کو مسخر کیا اور ایسا کیا کہ لوگ آج بھی نام پڑھ کے چونک جاتے ہیں۔
ہمارے دروازے پہ پہنچنے والے پارسل میں دو کتابیں ہیں جو ہما نے اپنی اس دوست کو بھجوائی ہیں جنہیں وہ اپنا جڑواں ساتھی سمجھتی ہیں۔ بس ہوا صرف اتنا ہے کہ پرانی ہندوستانی فلموں کی طرح یہ جڑواں دنیا کے میلے میں کھو جانے اور بھٹکنے کے بعد بہت زمانوں کے بعد ایک دوسرے کو ملے ہیں۔
بین الاقوامی کتاب دن کے موقع پر ان تمام کتابوں کے مصنفین کا شکریہ جنہوں نے ہمیں دنیا میں جینے کا ڈھنگ سکھایا اور ہم اس قابل ہو سکے کہ پردے کے پیچھے جھانک سکیں اور پردہ اٹھانے کی بات کر سکیں۔






