ماما اسلم اور مرشد کامل کی تلاش

میں نے اپنے دوست سے معافی طلب کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگلا مضمون آپ کی مرشد کامل کی جستجو پر لکھوں گا۔ تو آج اس وعدہ کو پورا کرتے ہوئے یہ کالم لکھ رہا ہوں۔
جی ہاں یہ ہیں ہمارے پیارے ہر دلعزیز ماما اسلم۔ لیکن اس ماما اور قدیر ماما کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ماما قدیر اپنے موقف پر ٹس سے مس نہ ہونے والے جبکہ ماما اسلم انتہائی لچکدار موقف والے ہیں، 180 ڈگری تک مڑ جانے والے انسان ہیں۔
ماما اسلم دوست کے ساتھ ساتھ میرے استاد بھی رہے ہیں۔ جب رینجرز کالج میں دونوں پڑھاتے تھے تب مجھے بھی ابوالکلام آزاد کی طرح انگلش سیکھنے کا شوق ہوا۔ اسکول لئبریری سے روزنامہ Dawn اٹھاتا اور فلیٹ پر بغیر سمجھے پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔ ایک دن موٹے چشمے والی مس مونا نے تو ٹوک ہی دیا کہ سر پڑھتے ہو یا صرف کارٹون دیکھتے ہو۔
ُاُس طنز کو میں نے اپنی طاقت بنایا اور چوبیس گھنٹے انگلش سیکھنے میں لگ گیا، نتیجتاً چند ماہ میں اتنا قابل ہو گیا کہ کسی بھی ٹاپک پر دو چار صفحات آنکھیں بند کر کے لکھ لیتا تھا۔
سر یہ بڈگیٹ کے معنی کیا ہے؟ میں نے بھی ایک دن میں پیر علی محمد راشدی بننے کی ٹھان رکھی تھی۔ سر نے حیرانی سے پوچھا ایسا تو کوئی لفظ نہیں ہے۔ میں نے اخبار بڑھایا سر Budget لفظ دیکھ کر ہلکا مسکرائے اور میری رہنمائی کی۔ یقیناً ماما اسلم کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید کب کا بھاگ چکا ہوتا۔
اس کے بعد اسکول انتظامیہ کے سامنے میری انتھک محنت اور میری انگلش کی ایسی تعریف کی کہ پرنسپل نے Peter Moss کی کتاب History مجھے پڑھانے کو دی۔
اسکول کی بہت سی یادیں آج بھی جب ذہن کے اسکرین پر آتی ہیں تو دونوں فون اٹھاکر ماضی کو تازہ کرتے ہیں۔ تین سال تک ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح گزارے۔ جس کے بعد سر فوجی فاؤنڈیشن سانگھڑ چلے گئے۔ تین سال وہاں گزارنے کے بعد پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے اسلم ماما نے دوبارہ کھپرو میں انٹری ماری۔ اب کی بار ہم دوست کے ساتھ ساتھ رقیب بھی تھے۔ سر کو جیون ساتھی کی تلاش تھی اور سنتِ صحابہ ادا کرنے کا شوق مجھے بھی دامنگیر تھا جس کے لئے کبھی غریب آباد کا طواف کرتے تو کبھی کسی پیرنی کے کہنے پر سات کنووں کا پانی لاتے یا طلوع ِ آفتاب سے پہلے چڑیوں کو دانہ ڈالنے چلے جاتے۔ جس کے لئے مجھے بتائے بغیر دوست ساجد حسین کے ساتھ بائیک پر سوار ہو کر کسی چوراہے پر گندم باجرہ پھینک آتے۔
یوں تلاش ہی تلاش میں ہمارے ماما نے پورا ایک البم جمع کر لیا کہیں ہمارے ماما کو کسی کا ناک پسند نہ تھی تو کسی کے قد پر اعتراض یا کسی کا وزن آڑے آجاتا۔
لیکن ماما اب وہ والا ماما نہ رہا تھا اتنا سنگدل ہو گیا کہ ان مسترد رشتوں میں سے بھی کوئی اپنے دوست اور شاگرد کے لئے مانگنے کو تیار نہ تھے۔ لے دے کے میرپور خاص سے ایک مکرانی عورت کی تصویر لایا جو محترمہ پہلے ہی چار بچوں کی ماں تھی۔ میں نے ہاتھ جوڑتے عرض کی گرو جی، بس تسی کر لو ساڈی خیر اے۔ جاتے جاتے ایک احسان کرنا جب آپ کو کوئی پسند آجائے تو یہ البم بھائی کو دینا۔
ماما اپنی عمر کے بارے میں بہت محتاط تھے اپنی اصل عمر مجھ جیسے دوست کو بھی نہ بتائی۔ البتہ باتوں باتوں سے پتہ چل جاتا تھا کہ ماما World War 2 کے چشم دید گواہ ہیں۔
بڑھتی عمر کے ساتھ اب تصاویر آنے کا سلسلہ تھمنے لگا تو ماما کی بے چینی بڑھنے لگی اور ڈمانڈز بھی کم ہوتی گئیں۔ اور استخارے بڑھتے گئے۔
بالآخر چار سالہ محنت شاقہ اور وظیفوں کے بدولت ماما کی مراد پوری ہوئی۔ لیکن شادی کے بعد ماما ہمارے لیے مسنگ پرسن ہوگئے۔ ماما جیسی بے وفائی تو آج کل کی لڑکیاں بھی نہیں کرتیں ہیں وہ بھی بچہ کا ہاتھ پکڑے بولتی ہیں بیٹا ماموں کو سلام کرو۔
کل جب مجھے کال کی تو پوچھا ماما کتنے بچے ہیں بولے ماشاء اللہ دو ہیں۔ ماما بھابی نے آپ کو دوستوں سے ملنے سے روکا ہے کیا؟
سامنے سے وہی پرانا قہقہہ سنائی دیا۔ صالح صاحب! تسی تو جانتے ہو اپن ڈرنے والے نہیں۔
عرض کی لگتا ہے ماما آج گھرپر نہیں ہیں تب اتنی دیدہ دلیری سے بات کر رہے ہیں۔
کہا ہاں میں آج ایکسٹرنل بن کے ایگزام سینٹر جا رہا ہوں۔ تب مجھے ماما میں کیپٹن صفدر کی جھلک نظر آئی وہ بھی شیر ہیں لیکن مریم نواز کی غیر موجودگی میں۔
ہمارے مرشد صوفی بشیر احمد نے ایک بار پوچھا یار یہ محمد اسلم کہاں رہتے ہیں۔ پہلے تو کہتے تھے کہ دعا کریں، شادی ہو جائے تو میان بیوی دونوں آپ کے مرید ہوں گے۔ اب تو سلام دعا سے بھی گئے۔ میں نے عرض کی قبلہ اب انہیں مرشد کامل مل گیا ہے۔
جس نے پیا وہ اپنا نشان ڈھونڈتا رہا
اے جامِ عشق ہم تیری تاثیر کے صدقے
ہم سب دوست دعا کرتے ہیں کہ ماما اسلم اپنے مرشد کے سائے میں زندگی کی سینچری پوری کریں اور ہمیشہ خوش و خرم رہیں اور ہمیشہ کی طرح اپنوں کا خیال کرتے رہیں۔
عائزہ اور علی کے لیے پیار۔

