تاریخ کا فلسفہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی کہتا ہے تاریخ بڑی ظالم ہے تو کسی نے کہا انسان تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتا ہے۔ ہمارے ملک میں آنے والی ہر حکومت اقتدار حاصل کرنے کے لیے نئے نئے وعدے کرتی ہے۔ ہر امیدوار عوام کو نئے نئے خواب اور دور کے ڈھول دکھاتا ہے۔ اور عوام ہر دفعہ ان میں سے کسی ایک کو ووٹ دے کر کامیاب کر دیتے ہیں۔

الیکشن کے بعد عوام کا رونا ہوتا ہے کہ امیدوار ہماری امیدوں پر پورا نہیں اترا اور اپنے وعدوں سے پھر گیا ہے۔ ان پر کرپشن، اقرباپروری اور ٹھیک سے کام نہ کرنے کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ کچھ امیدوار اپنے وعدے پورا کرتے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔

تاریخ کے تناظر میں کس وقت کیا ہوتا ہے، کیوں ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے، یہ سمجھنے کے لیے مفکروں نے مختلف ادوار میں مختلف فلسفے متعین کیے ۔ ان فلسفوں پر مفکروں اور تاریخ دانوں کے زمانے کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔

نظریہ تسلسل

یہ تاریخ کا سب سے قدیم نظریہ ہے اور کسی زمانے میں بہت مقبولیت رکھتا تھا۔ مغربی دنیا میں یہ نظریہ بابائے تاریخ ہیروڈوٹس کے زمانے سے قرون وسطٰی تک رائج رہا۔ اس نظریے کے مطابق دنیا میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات ایک بار پھر ظہور پذیر ہوں گے لیکن کسی نئی شکل میں۔ واقعات کا تسلسل اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ صرف وقت تاریخ اور مقام تبدیل ہوتے ہیں اس کے علاوہ دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اس نظریے کا دائرہ کار بہت وسیع تھا اور وہ لوگ اس کا اطلاق اقوام عالم پر بھی کرتے تھے۔ روم کے زوال کے بعد آہستہ آہستہ نظریہ تسلسل بھی تنزلی کا شکار ہونے لگا۔

نظریہ قدرت
چھٹی صدی عیسوی میں اس کی جگہ ایک نئے فلسفے نے لے لی۔ یہ نظریہ زمانہ قبل مسیح میں بھی چند اقوام کے ہاں رائج تھا جن میں یہودی پیش پیش تھے۔ قرون وسطٰی میں اس نظریے کی ترویج میں چرچ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس نئے فلسفے کے مطابق دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے پیچھے قدرت اور قسمت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ قدرتی آفات تو چاہے وہ جنگیں ہوں، زلزلے ہوں یا دوسری آفات، دراصل قدرت کی طرف سے انسان کے گناہوں کی سزا گردانی جاتی تھیں۔ اسی طرح معاشی خوشحالی اور امن کا زمانہ بھی قدرت کی طرف سے انسانوں کی نیکیوں کا صلہ قرار دیا جانے لگا۔

سائنسی سوچ اور فکرکے عروج کے ساتھ اس نظریے کا زوال شروع ہو گیا۔ جب یورپ میں مذہب کی جگہ سائنس نے لے لی تو یورپ بھی قرون وسطٰی کے زمانے سے نکل کر عصر جدید تک پہنچ گیا۔ یورپ نے یہ سفر نیوٹن، گلیلی، ڈاؤنچی جیسے سائنسدانوں کے کندھوں پر شروع کیا۔

نظریہ ترقی پسندی

اس زمانے میں سارے یورپ میں نئے اصول و قوانین رائج ہونے لگے اور سائنس و آرٹ کی جگہ جگہ ترویج ہونے لگی۔ سائنس نے ثابت کیا کہ دنیا میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کے پیچھے کچھ اصول و قوانین کار فرما ہوتے ہیں۔ دنیا کا نظام اور اس میں رہنے والی مخلوقات بھی سائنسی اصولوں پر کاربند ہیں۔ اس نظریے کا بانی ایک جرمن فلسفی تھا۔ اس نظریے نے اہل یورپ میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی۔ اس نظریے کے مطابق انسان بہتری اور ترقی کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ ہر آنے والی نسل پہلے گزرنے والی نسل سے زیادہ بہتر، زیادہ مہذب ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ پچھلی نسل کے تجربات اور مشاہدات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ دیکھا جائے تو دنیا میں آج تک ہونے والی ترقی اسی نظریے کی مرہون منت ہے۔ اس نظریے کے مطابق بنی نوع انسان مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

اس حوالے سے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر یہ ترقی کہاں جا کر ختم ہوگی۔ اس حوالے سے ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ ترقی لا محدود ہے اور انسان مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ ترقی ایک ایسی جگہ تک پہنچائے گی جہاں پہنچ کر معاشرہ زمین پر مثالی معاشرہ بن جائے گا اور مزید ترقی اور ایجادات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments