وفاقی حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے توسیع کا فیصلہ
ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی اور صوبائی وزراء نے شرکت کی، اجلاس میں لاک ڈاؤن میں توسیع سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے توسیع کا فیصلہ کیا ہے جب کہ صوبائی حکومتیں صوبوں میں صورتحال کے مطابق فیصلہ کریں گی۔
اس سے قبل پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے آئندہ 15 روز بہت اہم ہیں لہذا عوام گھروں میں رہیں اور اسے ہی عبادت گاہ بنا لیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ دعا ہے رمضان کی برکت سے پاکستان اور دنیا کو کورونا سے نجات ملے، آرمی چیف نے رمضان میں سول اداروں سے مل کر تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی مدد سے لاک ڈاؤن کے لئے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم لانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بڑھی، ہمیں لاک ڈاؤن کے ساتھ کاروبار بند نہیں کرنے چاہیے تھے، کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا کب تک رہے گا لیکن تعمیرات کھل رہی ہیں، اب ہم جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم پورے پاکستان میں شروع کریں گے، جس علاقے میں کورونا ہو، صرف اسے لاک ڈاؤن کیا جائے گا، باقی میں کاروبار چلتا رہے گا۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا تھا۔
چینل 92 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے پورا لاک ڈاؤن بھی کر دیں تو کورونا وائرس رک نہیں سکتا، ہمیں اس کے ساتھ رہنا پڑے گا، ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جاناپڑے گا، لوگوں کے لئے دکانیں کھولنا پڑیں گی۔ کوروناریلیف فنڈکے لئے ”احساس ٹیلی تھون“ کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے اور مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا انہوں نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں ملک کی مدد کی۔
ہم مستحق لوگوں کے لئے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔ جو وقت آگے آ رہا ہے ہم سب کو یکجا ہونا ہوگا۔ قوم سے کہتا ہوں پوری طرح احتیاط کریں، کوشش کریں سماجی فاصلہ اختیار کریں اور احتیاط کریں۔ سندھ حکومت نے ایک دم کرفیو جیسا لاک ڈاؤن کردیا حالانکہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا ہمیں متوازن لاک ڈاؤن کرنا ہے۔ مغرب میں سمارٹ لاک ڈاؤن شروع ہوچکا، امریکہ بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کاسوچ رہا ہے۔
ہمیں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جاناپڑے گا، سمارٹ لاک ڈاؤن کامطلب ہے جہاں کورونا پھیلا تو وہاں کنٹرول کریں گے، اگرسمارٹ لاک ڈاؤن میں بھی لوگوں نے ذمہ داری کامظاہرہ نہ کیاتو کارروائی کریں گے۔ چین نے ووہان میں سب کو گھروں میں کھانا پہنچایا تھا لیکن ہمارے اتنے وسائل نہیں ہیں، مجھے خوف ہے اگر لاک ڈاؤن کر دیا تو لوگ بھوک سے نہ مر جائیں۔ شروع دن سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف تھا۔ کورونا امیراورغریب میں فرق نہیں کرتا۔
مئی کے وسط سے ہمارا مشکل وقت شروع ہوگا۔ ابتک جوٹرینڈنظر آ رہا ہے اس سے لگتا ہے زیادہ کیس نہیں ہوں گے۔ فرنٹ لائن پرڈاکٹرزہیں ہمیں ان کاپورا احساس ہے، ڈاکٹرزکے تحفظات کوسمجھتاہوں۔ جیسے جیسے چیزیں کھلتی جائیں گی کوروناوبابڑھتی جائے گی، اگراحتیاطی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے تو کورونا کیسز میں اضافہ نہیں ہوگا۔ پوری قوم کوملکراس چیلنج کامقابلہ کرناہوگا، قوم کواحتیاطی تدابیرپرعمل کرناچاہیے، جووقت آرہا ہے پوری قوم کومشقت کرنی پڑے گی، عوام کوکہوں گا جتنی بھی احتیاط کی جائے کم ہے، جتنابھی ممکن ہوسکے سماجی فاصلے رکھیں۔
لاک ڈاؤن کے اثرات ابھی آئیں گے، غریب بستیوں کے اندر حالات مزیدبگڑیں گے۔ پاکستان میں 75 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں، ان تک پہنچنا ہے۔ خوف ہے چھوٹا کاروبار کہیں مکمل ختم نہ ہوجائے، حکومت تنہا اس چیلنج کامقابلہ نہیں کرسکتی، کوشش ہے شرح سوداور کم ہو جائے۔ ہم نے ملکی تاریخ کاسب سے بڑامعاشی پیکج دیا۔ کورونا ریلیف فنڈ کے تحت سب سے زیادہ پیسہ سندھ میں تقسیم ہواجہاں ہماری حکومت بھی نہیں ہے۔ ٹائیگرفورس کوسیاست زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یقین دلاتا ہوں شفاف انداز میں لوگوں کو پیسے مل رہے ہیں۔ ایف آئی اے اور آئی ایس آئی سمیت تمام ادارے شفافیت یقینی بنانے کے لئے ساتھ دے رہے ہیں۔ احساس پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، جن کوپیسے دیے جارہے ہیں سب کاریکارڈ موجود ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاڈیم فنڈوہیں کاوہیں ہے وہ ادھرہی جائے گا۔ کوئی بھی فیصلہ کرناہے توپورے پاکستان کے لئے ہوناچاہیے، ایلیٹ کے لئے نہیں، 70 سال سے ایلیٹ کلاس کے مفادمیں فیصلے ہوتے رہے، ایلیٹ کلاس صرف اپنے لئے فیصلے کرتی ہے غریبوں کے لئے نہیں، آنے والے وقت میں پوری قوم کومتحدہوناہوگا۔ وزیراعظم نے کہا رمضان میں گھرمیں عبادت کرنی چاہیے، لوگوں کوباہرنہیں نکلناچاہیے۔ اگر مساجد میں 20 نکات کی خلاف ورزی ہوئی تو پھر ان کو بند کر دیں گے۔ جب لوگ مساجد میں جائیں گے تو یہ رسک ہے لیکن حکومت ڈنڈے مار کر سب کچھ نہیں کرا سکتی، قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا


