ہندوستان کے مسلمان اور موجودہ رمضان
بگ برادر اور میڈیا کی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔ میڈیا مسلمانوں پر عقاب کی طرح نظر رکھے گی۔ جھوٹ پھیلانا، فرضی خبروں کو پروموٹ کرنا اس کا پیشہ ہے۔ سمبٹ پاترا، سدھیر چودھری، چورسیا، ارنب گو سوامی اور گوڈی میڈیا رمضان کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ فرض کیجئے، ہم گھر میں رہے، گھر میں تراویح کے لئے خاص انتظام کیا، میڈیا کی نظر اس بات پر بھی ہوگی۔ میڈیا اس بات کو فرضی خبر بنانے کی کوشش کرے گی کہ مسلمان کورونا پھیلا رہے ہیں اور آٹھ دس محلے والوں کے ساتھ گھروں میں تراویح پڑھ رہے ہیں۔ با جماعت۔ ابھی حال میں ایک تصویر میڈیا نے وائرل کی، جس میں چھت پر کچھ مسلمان نماز کی ادائیگی کر رہے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تصویر دبئی کی تھی۔ ٹی وی چینلز والے خاموش نہیں رہیں گے۔ مسلمانوں کے خلاف سازش کی ذمہ داری انھیں دی گئی ہے۔ وہ اپنا فرض نبھائیں گے۔ کیونکہ اس کے بدلے انھیں پیسے ملتے ہیں۔ اس لئے ان کے پاس اب شرم و حیا نام کی چیز باقی نہیں بچی ہے۔ سمجھنا ہمیں ہے۔
لیکن ہم نہیں سمجھیں گے۔ کیونکہ ہم اب بھی ایک خوبصورت یوٹوپیا میں جی رہے ہیں۔ حقیقت ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد پوری دنیا تبدیل ہو جائے گی۔ ہندوستان جیسے ممالک خوفناک اندھیرے میں گم کر دیے جاہیں گے۔ آبادی کو کم کرنے کا مسئلہ اٹھے گا تو مسلمان نشانہ پر ہوں گے ۔ قیامت کا سماں ہوگا۔ افراتفری کا بازار گرم ہوگا۔ اس وقت حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہ ہوگی۔ کہوں خرابے کا دور شروع ہو جائے گا۔ قیمتیں آسمان پر ہوں گی۔
ملک کی آدھی سے زیادہ بڑی آبادی بیکار اور بے روزگار ہو جاے گی۔ مگر کیا یہ سب ہم سوچ رہے ہیں؟ ملک معاشی اور اقتصادی طور پر کہاں کھڑا ہوگا۔ ہم نہیں سوچ رہے۔ ہم خوش ہیں کہ بحر ظلمات میں اب بھی گھوڑے دوڑاے جا سکتے ہیں۔ مگر وقت تبدیل ہو چکا ہے۔ اب آشیانے بھی لٹ جاییں گے۔ کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ کچھ دن قبل بیداری مہم شروع ہوئی۔ آشیانے کو محفوظ رکھنے کی باری تھی۔ ملک کے دانشور اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور اس لئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ایک شخص گوولکر کے راستے پر چلتا ہوا پریوگ کر رہا تھا۔ برہمن واد کا قیام۔ مسلمانوں کو ہٹاؤ پھر دلتوں کو یا تو ہٹاؤ یا پاؤں کے نیچے رکھو۔ کچھ دانشوروں نے اس پریوگ کو سمجھا تو دلتوں اور مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلے۔ ہندو بھائیوں نے بھی دیکھا کہ فسطائی طاقتیں مسلمانوں کو بھی کھوکھلا کریں گی، ان کو بھی۔ جمہوریت اور آئین کا خاتمہ ہوا تو زندگی مشکل ہو جائے گی۔ وہ بھی احتجاج میں کود پڑے۔ گاندھی نے مثال پیش کی تھی۔ ملک بدلو ڈرامہ کا پریوگ شر پسند طاقتوں نے کیا۔
اور یہ کوئی سنجوگ نہیں۔ اس ڈرامہ کی ریہرسل یہ لوگ 2002 میں کر چکے تھے۔ 2002 میں میڈیا گجرات حکومت کے خلاف تھی۔ پریوگ تو کامیاب رہا لیکن ان دو سیاست دانوں کے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ یہ پریوگ ہندوستان میں کرنا ہے تو پہلے تخت پر بیٹھنا ہوگا۔ پھر میڈیا کو ہاتھ میں لینا ہوگا۔ تخت کیسے حاصل ہو، یہ حساب صاف تھا۔ پچیس کروڑ مسلمانوں کو الگ کرو اور سو کروڑ کا ووٹ حاصل کرو۔ مودی نے ٹوپی نہیں پہنی۔ یہ علامت کام کر گئی۔
ہندو راشٹر کی تعمیر کے لئے مودی کا سکہ چل گیا۔ لیکن پانچ برسوں میں گجرات جیسا پریوگ آسان نہیں تھا۔ اس کے لئے سیاست کی دوسری اننگ کی ضرورت تھی۔ دوسری اننگ کی شروعات ہوتے ہی گجرات ماڈل پوری طرح سامنے آ گیا۔ میڈیا کو خرید لیا گیا۔ زہر کی کھیتی ہونے لگی۔ ہندوستان سلگنے لگا۔ فسادات بڑھنے لگے۔ پھر کورونا آ گیا۔ یہ واقف ہی نہیں تھے کہ کورونا کیا کر سکتا ہے۔ مسلم مخالفت کو ٹارگٹ کیا۔ یہ کھیل چل رہا ہے۔ مگر اب اس کھیل میں حکومت الجھ گئی۔ پیسا نہیں۔ بھیانک مندی۔ مودی نے پرائم منسٹر کیر کے نام پر پیسے مانگے۔ لیکن اس کھیل میں شکار کون ہوگا؟ کون سب سے زیادہ مارا جاے گا۔ رمضان میں کیا ہوگا؟ گوڈی میڈیا، بگ برادر کی طرح آپ پر نظر رکھ رہی ہے۔
مسلمان کورونا کے خطرے کو سنجیدگی سے لیں۔ میں نے سنا کہ پاکستان میں مسجدوں میں نماز پڑھنے کا اعلان ہوا۔ یہ صحیح نہیں۔ ہم اپنے پیارے نبی کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کا مطالعہ کریں تو ساری باتیں خود بہ خود صاف ہو جاییں گی۔ ابھی امریکا سے ایک تصویر وائرل ہوئی جہاں ایک دیوار پر پیارے نبی کے کلمات درج ہیں کہ وبا کے دنوں میں باہر نہ نکلو۔ بار بار اپنے ہاتھوں کو پانی سے تر کرو۔ یہ آزمائش کا وقت ہے اور دشمن ہماری تاک میں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈاریکٹر جنرل نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا خطرناک ہے اور یہ طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔ کوئی غلطی نہ کریں، ہمیں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ یہ وائرس طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔ اب تک 160000 سے زیادہ افراد خوفناک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور کورونا دوبارہ پلٹ کر بھی حملہ اور ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پذیر گھر کے احکامات اور دیگر جسمانی فاصلاتی اقدامات نے بہت سارے ممالک میں وائرس کی پھیلنے کو کامیابی کے ساتھ ختم کر رہے ہیں۔ اب ہمیں سب سے بڑے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، مطمئن ہونا نہیں ہے۔ ایسے ممالک میں جو لوگ گھروں میں رہنے کی ہدایات دے رہے ہیں، ان پر عمل کرنا بہتر ہے۔
یہ سب کچھ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ کشمیر نے لاک ڈاؤن کو طویل وقت تک دیکھا ہے۔ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے، جب مہینوں تک ہم اپنے گھروں میں قید رہیں۔ جب رمضان بھی گھر پر ہو۔ عید کی نماز بھی گھر پر ہو۔ اگر یہ عذاب ہے تو ہم اس عذاب کی زد میں ہیں۔ ہم آرام سے گھر میں عبادت کر سکتے ہیں۔ مذہب نمائش نہیں۔ شام کے وقت ٹولی بنا کر سامان خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم خود کو سمجھا لیں کہ نہ رمضان عام برسوں کی طرح ہوگا، نہ اس بار کی عید پہلے کی طرح ہوگی۔ ہم اشرف المخلوقات ہیں اور سب سے پہلے ہماری زندگی ضروری ہے۔
سمبت پاترا جیسے لوگوں کو فرضی خبروں کی چھوٹ دے دیی ہے۔ ارنب زہر اگلتے ہیں۔ اپنے حادثے کی فرضی کہانی گڑھتے ہیں۔ ابھی تک پتہ نہیں کہ حادثہ 8.30 بجے پیش آیا یا رات 12.30 بجے۔ سمبٹ پاترا کو پہلے سے ہی حادثے کی خبر کیسے تھی۔ سمبٹ پاترا مستقبل کا حال جاننے والے ناسترو دومس کب سے بن گئے۔ یہ ذکر اس لئے ضروری کہ گوڈی میڈیا رمضان کے مقدس مہینے غلط فہمیوں کا بازار گرم رکھنے کی کوشش کرے گی۔ ہم کورونا کے خطرے کو سمجھیں، گھر میں رہیں، گھر میں رہ کر عبادت کریں، بے وجہ افطار کے لئے گھر سے باہر نہ نکلیں“ ہم خود ہی ٹائم ٹیبل بنا لیں تو دشمن ناکام ہو جائے گا۔ وہ فرضی خبروں سے کام لے گا۔ لیکن آج کے دور میں فرضی خبروں سے نقاب جلد اٹھ جاتا ہے۔





