کیا مولانا طارق جمیل ایک نئی مقدس گائے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا طارق جمیل نے جمعرات کے روز تمام میڈیا کو اس وقت جھوٹا قرار دیا جب وہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے ایک چندہ مہم میں ٹیلی تھون میں شرکت کر رہے تھے۔ ناقدین کا دعوی ہے کہ انہوں اس مہم میں سرکار سے قربت مزید بڑھانے کے لیے عمران خان کی تعریف میں قصیدے بھی پڑھے، جسے کئی حلقے ہدف تنقید بنارہے ہیں۔

حالیہ متنازعہ بیان کے بعد ملک کے کئی حلقے طارق جمیل پر کم اور پاکستانی میڈیا پر زیادہ چراغ پا ہیں۔ ان کے خیال میں ذرائع ابلاغ مولانا کو ایک نئی مقدس گائے سمجھتا ہے۔ انگریزی روزنامہ دی نیوز کے کالم نگار اور تجزیہ کار عامر حسین کا خیال ہے کہ میڈیا طارق جمیل سے خوفزدہ ہے،”طارق جمیل بظاہر بہت خوش اخلاق ہیں لیکن میڈیا کو معلوم ہے کہ ان کی پشت پر طاقت ور حلقے ہیں۔ اور اس ملک میں نہ ہی ان طاقت ور حلقوں پر تنقید ہو سکتی ہے اور نہ ان کے پلانٹڈ مولویوں پر۔ تو میڈیا کو اپنی حدود کا علم ہے۔ اسی لیے انہوں نے مولانا پر سخت تنقید نہیں کی۔‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مولانا کے مقتدرہ حلقوں میں بہت اچھے مراسم ہیں،”میرا خیال ہے کہ میڈیا نے رویہ نرم رکھا کیوں کہ مولانا کے طاقت ور حلقوں کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ وہ تبلیغی جماعت کے خواص سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں کاروباری اور امیر افراد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی پبلک ریلشننگ بھی بہت اچھی ہے اور وہ کئی سیٹھوں سے بھی قربت رکھتے ہیں۔ تو یہ سارے عوامل نے شاید میڈیا کو مجبور کیا تو وہ ہاتھ ہولا رکھے۔‘‘

پاکستانی میڈیا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سیاست دانوں سے بہت سخت سوالات کرتا ہے۔ کئی سیاسی جماعتیں یہ بھی الزام لگاتی ہیں کہ وہ ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کی لائن کو ٹو کرتا ہے اور سیاست دانوں کو بدنام کرتا ہے۔ پی پی پی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مملکت برائے صنعتی پیداوار آیت اللہ درانی کا کہنا ہے کہ اگر ایسا بیان سابق صدر آصف علی زرداری نے دیا ہوتا تو میڈیا ابھی تک انہیں اور پی پی پی کو کافر قرار دے چکا ہوتا،” لیکن طارق جمیل اور تبلیغی جماعت کی طاقت کا لوگوں کو اندازہ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ جنرل محمود کہاں بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ تبلیغی جماعت کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی ہے۔ تو ان پر تنقید کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکریٹری جنرل ناصر ملک کا کہنا ہے میڈیا کا نرم رویہ اس تاثر کو مضبوط کرے گا کہ طارق جمیل ایک نئی مقدس گائے ہیں، جو تنقید سے بالا تر ہیں۔” صحافتی تنظیموں کو فوری طور پر اس بیان کا نوٹس لینا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ بیوروکریٹس سے لے کر آرمی آفیسرز تک طارق جمیل کے چاہنے والوں میں ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیں۔‘‘

تاہم تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد طارق جمیل کا دفاع کرتے ہیں۔ جماعت سے وابستہ ایک کراچی کے عہدیدار سید طارق ہاشمی نے اس مسئلے پر اپنا موقف دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”سوال یہ ہے کہ کیا ان کا بیان حقائق کے منافی ہے۔ کیا میڈیا جھوٹ نہیں بولتا۔ کئی معروف اینکرز دو ہزار آٹھ سے تیرہ تک یہ کہتے رہے کہ پی پی پی کی حکومت آج گرے گی یا کل گرے گی لیکن اس نے پورے پانچ سال حکومت کی۔ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کو بھی کئی مرتبہ میڈیا نے مروایا لیکن وہ درحقیقت زندہ تھے۔ تو کئی کتابیں ایسے جھوٹ پر لکھی جا سکتیں ہیں۔ اور مولانا نے بالکل درست فرمایا ہے۔‘‘

مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت کے ایک اہم رکن ہیں۔ ان کے بقول وہ زمانہ طالب علمی میں کافی جدت پسند ہوتے تھے اور انہیں میوزک سمیت کئی چیزوں سے لگاؤ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور تبلیغی جماعت کی سرکردہ اور اہم شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نامی گرامی شخصیات کو تبلیغی جماعت میں لے کر آئے یا انہیں مذہبی بنایا، جیسا کہ معروف گلوکار جنید جمشید۔ ان کے ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا کرکٹرز پر بھی بہت اثر ورسوخ ہے اور ایک دور میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو کچھ ناقدین نے طنزیہ اسے رائے ونڈ کی ٹیم بھی کہا۔

طارق جمیل صاحب نے مشہور بالی وڈ اداکار عامر خان سے بھی ملاقات کی اور وہ پاکستانی اداکارہ وینا ملک کو بھی مذہب کی طرف راغب کرنے کوشش کرتے رہے۔

طارق جمیل کے کاروباری، عسکری اور سیاسی حلقوں سے بھی قریبی مراسم رہے اور نواز شریف سے لے کر عمران خان تک وہ سب ہی کے قریب رہے۔ وہ اس قربت کو اپنی غیر جانبداری قرار دیتے ہیں جب کہ ناقدین اسے موقع پرستی اور چاپلوسی سے تعبیر کرتے ہیں۔ انہیں کئی سرکاری اداروں میں لیکچرز کے لیے بھی دعوت دی جاتی ہے جب کہ وہ پاکستان کے کئی ٹی چینلوں پر بھی جلوہ گر ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی دعا کا انداز ان کے عقیدت مندوں کو متاثر کرتا ہے جب کہ ناقدین اسے دکھاوا قرار دیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں وہ عمران خان کی حمایت پر خوب تنیقد کا نشانہ بنے۔ یہ تنقید نہ صرف سیاسی اور سماجی حلقوں سے آئی بلکہ جعمیت علماء اسلام سمیت کئی مذہبی تنظیموں نے بھی ان پر نشترکے تیر چلائے۔

بشکریہ: ڈوچے ویلے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply