وبا، جنگ و جدل کے میدان اور صحافی کا قلم



انسان اشرف المخلوقات ہے، اس سے ڈرنے کی بجائے دل میں انسانیت کا خوف ہونا ضروری ہے۔ انسان کا خوف نہیں احترام درکار ہوتا ہے، درحقیقت یہی درس انسانیت ہے، یہی انسانیت کی تعریف ہے۔ شاعر نے یہی آفاقی درس دیتے ہوئے کہا تھا

یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں، انسان کے انساں
حضرت اقبال کی شاعری آفاقی ہے، اس کی کئی جہتیں ہیں، کئی سمتیں ہیں، بے پناہ منظر ہیں، لاکھ پس منظر ہیں۔ یہ غورو فکر کرنے کی زمیں ہے، اس کے بغیر دانائی و یکتائی کے پودے نمو نہیں پاتے۔ ان کے پیغامات امت کو بیدار کرنے کا تیر بہدف نسخہ ہیں۔ جو ہر عمر کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا باعث ہیں۔ ایک پیغام ان کا بظاہر بچوں کے نام ہے جس کا عنوان ہے ”مکھی اور مکڑا“ اقبال کی یہ درسی نظم بانگ درا میں موجود ہے۔ انہوں نے اس نظم میں مکھی کی لاپروائی، خوشامند اور بیوقوفی کا تزکرہ کیا ہے۔

ساتھ ہی یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اپنی صلاحیتوں سے بھی آپ کو آگاہی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ زور بازو پر بھروسہ کرنا بھی کامیاب زندگی کی کنجی ہے۔ جدید دور ہے تو ترقی اور سائنس کا دور مگر اس میں سستی اور کاہلی کا بھی سامان موجود ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جو اس وقت کامیاب ترین صنعت کہلاتی ہے۔

اس صنعت کے راج کرنے سے سوچ و فکر اور کتاب بینی کو شکست ہوئی ہے، اس کو صدی کی سب سے بڑی شکست بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس ارتقائی عمل میں معاشرہ اس کو گرفت میں لینے میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ دیکھا جائے تو پرنٹ میڈیا کی وقعت کم ہو رہی ہے۔ نئے اذیان اس طرف آنے کی بجائے برقی میڈیا کی دوڑ میں پیش پیش ہیں۔ اگر قلم وقرطاس کا حسن مانند پڑتا گیا تو نہیں معلوم کیا ہو گا۔ قوم کے معماروں کے لیے یہ سوچنے کا مقام ہے۔

برقی میڈیا کے عام ہونے سے پہلے قلم کی بول چال نافذ رہی ہے جو خاموش ہو کر بھی شکیب جلالی والا ”کہرام“ مچا دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ موجودہ دور تصویر کے بولنے کا دور ہے۔ مخاطب ہونے والے باریک اور تند وتیز نوک والے قلم کی بجائے اونچا سنائے دینے والی زبان کا سہارا لیتے ہیں۔ سمجھ کے لیے اتنا کافی ہے کہ قلم کی نوک کو زبان کی تیزی پر برتری حاصل رہی ہے۔ قلم کی حفاظت پہرہ مانگتی ہے، آسانی سے چل جانے والا یہ کوئی کاروبار زندگی ہرگز نہیں۔ فیض صاحب نے پکار کر کہا تھا

متاع لوح و قلم چھن گئی، تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں، انگلیاں میں نے

قلم کی حرمت کو ہر دور میں تار تار کرنے لیے سعی کی جاتی رہی ہے۔ ”فرییڈم آف سپیچ“ کی بات اور اس کو عام کرنے کا اظہار سب کرتے ہیں مگر بڑی قوتیں اس پر قدغن باندھنے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ اس معاملے میں وسطی ایشیائی ممالک کی حالت پتلی رہی ہے۔ بھارت ”جمہوریت“ کا سب سے بڑا علمبردار ہے مگر آزادی اظہار رائے کے انڈیکس میں نیچے کے ممالک میں موجود ہے۔ یہ شماریات صرف بھارت کے اندرون سے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اس سروے میں شامل نہیں جہاں وہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔

حقائق کی عوام تک دسترس میں رکاوٹیں کھڑی کرنا جمہوریت اور جمہوری رویوں کی نفی ہے۔ صحافی کسی بھی قبیلے کے پہرہ دار ہوا کرتے ہیں۔ جس معاشرے صحافیوں کو پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں آسانی ہو تو اس کو کسی مضبوط معاشرے کا لٹمس۔ ٹیسٹ کہا جا سکتا ہے۔ درحقیقت یہ روایت عوامی حقوق کی آزادی کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔

کرونا کی عالمی وبا کے باعث ڈبلیو۔ ایچ۔ او نے تمام برسرپیکار قوتوں سے اپیل کی تھی کہ فی الفور جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔ شام میں جاری جنگ و جدل میں دس لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ میدان ایران بلاک اور سعودی بلاک کے درمیان سجا پے۔ حوثیوں کو ایران بلاک کی مدد حاصل رہی ہے۔ مگر عالمی ادارہ صحت کی اپیل پر فی الحال جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے جس کو مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی اس کوشش کو دنیا نے خوش آمدید کہا ہے۔

امن کی کوششوں کے لیے بھارت ہمیشہ الٹی سمت محوسفر رہا ہے۔ اس نے وباء کے ان مشکل حالات میں بھی وادی میں جبر برپا کر رکھا ہے۔ پانچ اگست کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی تھی تاکہ دنیا بھارتی افواج کے مظالم سے ”بے خبر“ رہ سکے۔ بھارت کے حالیہ اقدام میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی سعی جاری ہے جسے وہ ”قانون“ بنا چکا ہے، چند تکلفات کے بعد بھارت کی کثیر آبادی پھر وادی کی رہائشی اور باسی بن جائے گے۔

ان اقدامات کے بعد سوشل میڈیا جو جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا، کے استعمال کرنے والوں پر گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ سرینگر میں مسرت زہرہ ایک تصویریں محفوظ کرنے والی صحافی ہے۔ جو کیمرے کی آنکھ سے منظر نوٹ کر کے عوام تک پہنچاتی ہے۔ بھارت ان مناظر سے گھبرا کر اسے گرفتار کر رہا ہے۔ مقبوضہ وادی کے پولیس سربراہ وی جے کمار اسے ریاست کے خلاف ”بغاوت“ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جمع کی گئیں یہ غالب والی ”چند تصویر بتاں“ پولیس سربراہ کے نزدیک ایک ناقابل معافی اقدام ہے اور جو دس لاکھ سپاہی وادی میں موجود ہیں اس پر وہ اور اس کے اکابرین مہر بہ لب ہیں۔ کشمیر کے باسیوں کے لیے حالات روزبروز مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ آبادی کا تناسب اور وادی کا اصل تشخص بدلنے کے بعد زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم کرتے جانا انسانی المیے کی جانب گامزن ہے۔

وادی میں کرونا سے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ حالات کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو صحت کی مکمل سہولیات فراہم کی جاتیں۔ ان مزید پابندیون کا ایک مقصد حالیہ اقدامات سے توجہ ہٹانا ہے۔ کیونکہ بھارت پہلے ہی اپنا مکروہ کھیل کامیابی سے کھیل چکا ہے۔ عالمی برادری بذات خود کرونا کی لہو رت کا شکار ہے۔ جاں گسل کوششوں کے باوجود حالات بے قابو ہو رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ تاریخ کی بدترین تنزلی کا شکار ہو چکی ہے۔ صحت کے عالمی ادارے کی اپیل پر خوثیوں اور سعودی عرب جنگ بندی کے اعلان داغ چکے ہیں۔ افغانستان امن کی جانب بڑھ رہا ہے مگر بھارت باز آنے سے یکسر قاصر ہے۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ علامہ اقبال کی نظم ’مکھی اور مکڑا ”کے مرکزی کردار‘ مکڑے ’نے اپنی حرکتوں اور اعمال سے باز نہیں آنا۔ ویسے بھی کسی کی فطرت یوں ہی نہیں بدل جاتی۔ اس کو راہ راست پر لانے کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

Facebook Comments HS