آج کے دور کا مسلمان، وبا اور ماورائے فطرت کا تصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺷﺮﯾﺪ ﺑﻦ ﺳﻮﯾﺪ ﺛﻘﻔﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻨﻮ ﺛﻘﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﮌﮪ ﺯﺩﮦ ﺍٓﺩﻣﯽ ﺍٓﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﮮ، ﻣﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺍﻡ ﺯﺩﮦ ﺍٓﺩﻣﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻭٔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ۔

ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺬﺍﻡ ﺯﺩﮦ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﮈﺍﻻ ﮐﺮﻭ۔

ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺬﺍﻡ ﺯﺩﮦ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﻼﻡ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺰﮮ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔

ﻋﻮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﺸﮩﻮﺭ ہے کہ ﺟﺬﺍﻡ ﺯﺩﮦ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﻧﯿﺰﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ / ﻧﯿﺰﮦ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮧ ﺳﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔

ﯾﮧ ﻭﮦ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﺑﺎﺋﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﮯ ﺯﻣﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﺾ ﺳﮯ ﺍﺣﺘﺮﺍﺯ ﻭ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺑﺮﺗﻨﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﻣﺰﯾﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺻﺎﺩﺭ ﻓﺮﻣﺎﮰ ﺟﻮ ﺭﮨﺘﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺸﻌﻞ ﺭﺍﮦ ﮨﯿﮟ۔

ﻭﺑﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﻣﺘﻌﺪﯼ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ انسان ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﺎؤ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﯽ سماجی ﻣﯿﻞ ﺟﻮﻝ ﮐﻮ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﺑﺎﺋﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﻧﮓ، ﻧﺴﻞ، ﺟﻨﺲ، ﻣﺬﮨﺐ، عقیدہ، ﻋﻼﻗﮧ، ﺯﺑﺎﻥ ﯾﺎ ﻧﻈﺮیہ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ میں امتیاز روا نہیں رکھتے۔ تادم تحریر، وبا نے دنیا کے تمام ممالک میں بغیر ویزہ کی شرط کے سفر کیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وبا کسی کو خاطر میں لائے بغیر اپنے غیر متعین اہداف کی تکمیل کے لیے رات دن ایک کر رہی ہے۔ ﯾﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﭘﺴﻤﺎﻧﺪﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮ رہی ہے ﺑﻠﮑﮧ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ خاموشی سے فتح کرتی جا رہی ہے۔ ایک طرف وبا کی دہشت ہے اور دوسری طرف انسان جو بے بسی کی تصویر بنا پھر رہا ہے۔

ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻃﯿﺒﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﻤﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ، آپ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻣﻄﺎﮨﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﻌﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ مشعل راہ ﮨﮯ۔ ﺁپ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻭﺑﺎ سے ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﺒﻖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻭﺑﺎ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﺎؤ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔

وبا نے جب چین میں قدم گاڑے، ہم طرح طرح کی ٹھٹھہ بازی میں مشغول ہو گئے، ہم انہیں وضو نہ کرنے کے طعنے دینے لگے، ﺟﺒﮑﮧ ﻭﺑﺎ ﻧﮯ ﺣﺮﻡ ﺷﺮﯾﻒ، ﮐﻠﯿﺴﺎ، ﻣﻨﺪﺭ، ﮔﺮﺟﺎ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺎﮨﯿﮟ ﺗﮏ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻭﺍ ﺩیں۔ مقدس ہستیوں کے مزارات اور درگاہیں تک بند کر دی گئی ہیں اور نیک سیرت روحانی پیشوا سماجی دوری کے اصول پر عمل پیرا ہیں۔

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ وبا کے بارے میں ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯿﺎﮞ ﮔﺮﺩﺵ ﻣﯿﮟ تھیں، ﮨﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ماورائے فطرت مخلوق ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﮯ تھے ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﺑﺎ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ سکتی تھی، ﮨﻤﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺯﺵ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، یہ چین اور امریکہ کے مابین کوئی تجارتی اونچ نیچ کی جنگ ہے، جوں ہی چین چاروں شانے چت ہو گا امریکہ ویکسین کی ڈگڈگی بجاتا بجاتا آئے گا اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا جیسے یہ ویکسین نہ ہوئی الہ دین کا چراغ ہو گیا، وبا چین کو ٹھیک ٹھاک زک پہنچانے کے بعد امریکی حدود کی پامالی کرنے کے لیے حملہ آور ہوئی۔

امریکی پسپائی کے بعد یہی واہمہ چین کی طرف موڑ دیا گیا کہ نہیں دراصل یہ چین کا امریکہ پر ایک حیاتیاتی حملہ ہے، اب جبکہ موجد چین نے پروگرام کے تحت وائرس کو دبوچ لیا ہے تو وہ امریکی کمپنیوں کو ہتھیا کر پھر ویکسین متعارف کروائے گا اور امریکہ کو مہنگے داموں بیچ کر امریکہ کو دیوالیہ کر دے گا۔

ﻭﺑﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﯾﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﮨﮯ۔ جب نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر جان نچھاور کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وبا کی وجہ سے شہید ہو گئے، جب حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ جیسے جری، بہادر اور عادل حکمران نے وبا سے متاثرہ علاقوں میں جانے سے اللّٰہ کی پناہ مانگتے ہوئے گھوڑے کا رخ موڑ لیا تو آج ہم کس زعم میں مبتلا ہیں۔ ہمارے یہ پیدا کردہ واہمے جن میں ہم ماورائے فطرت یا سپر نیچر ہیں وبا کی چکی میں بری طرح پس رہے ہیں۔ ہمیں کائنات کے تغیر و تبدل کے اصول کے لیے خود کو مائل کرنا پڑے گا۔

کسی کے عقائد ونظریات سے اختلاف کا یارا نہیں مگر واقعات اپنے مجموعی طور پر نتائج دیتے وقت مسلمان کافر کی تمیز نہیں کرتے۔ ہم اللّٰہ کی مخلوق ہیں جس سے وہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ ہمارا خالق ہم سے چاہتا ہے کہ ہم تدبیر اختیار کریں، جب ہم تدبیر اختیار کریں گے تو وہ فضل و کرم فرمائے گا، ہم اس کی مرضی کے خلاف عمل کریں گے تو یہ طے شدہ بات ہے کہ تباہی ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔ بحثیت مسلمان ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ اللہ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻃﯿﺒﮧ ﺳﮯ ﺳﺒﻖ ﺳﯿﮑﮭﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *