ٹیٹوال کے کتوں کے پٹے کہاں ہیں؟

ٹیٹ۔ وال کے کتے، قریہ قریہ بستی بستی ان سے آباد ہے۔ کسی گاڑی میں محو سفر ہوں، ٹرین کی چھکا چھک سے لطف اندوز ہو رہے ہوں یا ہوائی جہاز میں سوار ہوئے بادلوں کو للکار رہے ہوں، ٹیٹ۔ والیے آپ پر ٹکٹکی باندھے بیٹھے ہوں گے۔ کون کہاں جا رہا ہے، کیا کھا رہا ہے، کون سی لڑکی کالج اور یونیورسٹی میں کس سے بات کرتی ہے، موبائل فون کون سی کمپنی اور ماڈل کا رکھتی ہے، کس گاڑی یا رکشہ پر سفر کرتی ہے، الغرض ہر قسم کی معلومات اکٹھی کرنا اور اپنی ’وال‘ پر لگانا ٹیٹ۔ والیوں کی خدمات کے اہم پہلو ہیں۔

Read more

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

یوں تو فیض صاحب نے عبادت کا سودا سویرے سویرے نہیں کیا تھا مگر عصر حاضر کی سب سے بلند قامت دعا اسی مرد حر نے مانگی تھی،

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں

ہم جنہیں سوز محبت کے سوا

کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں۔ ۔ ۔ الخ

فیض احمد فیض ایک مہذب شاعر گزرے ہیں، انہوں نے ہر شے کو تمیز کی نگاہ سے دیکھا، مقید ہوئے تو جیل کی سلاخوں کو ادب سے تھاما، صرف اخلاقی ادب ہی نہیں جیل کی سلاخیں ان کے اردو ادب سے بھی مستفید ہوئیں۔ سچ ہے کہ کم صلاحیت والوں میں اگر کوئی باصلاحیت فرد نازل ہو تو اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں اسے کال کوٹھڑی ضرور دکھائی جاتی رہی ہے تاکہ اس عبرت کے نشان سے عبرتوں کی لو پھوٹے اور کوئی ہم سا سامنے نہ آئے، آئے بھی تو عبرت کا بوجھ کاندھوں پر لاد کر آئے کہ ہمیں کام چہار دن کی زندگی میں اور بھی بہت ہیں۔

Read more

کرونا وبا بھی، مارکیٹ بھی

کورونا کی جارحیت میں اب واضح طور پر شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ تحریر شائع ہونے تک ملکی اعداد و شمار کہیں سے کہیں پہنچ چکے ہوں گے۔ کورونا ہماری جان ہمیں مکمل طور پر تہ تیغ کرنے سے پہلے چھوڑنے پر تیار نہیں ہے اورہم بہادر بھی کورونا سے بچنے میں کسی طور سنجیدہ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کورونا کے مطالبات کہ ہجوم نہ بنائیں، فاصلہ اختیار کریں، ماسک پہنیں، ہاتھ دھوئیں، چہرے کو نہ چھوئیں

Read more

مجھے سانس لینے دو

بھائی صاحب، گاڑی میں اگر سگریٹ نوشی سے اجتناب کر لیں تو بہتر ہے یہ طبیعیت کو خرابی دے رہا ہے۔
جواب: آپ اپنی گاڑی لے لیں اگر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کر سکتے۔

مشوروں سے بھرپور اس طرح کے مکالمے ہمیں پبلک ٹرانسپورٹ میں دوران سفر سننے کو ملتے ہیں۔ جہاں اگر ایک شخص سگریٹ سلگا لے اور دوسرا اس سے منت سماجت کرے تو اسے بعینہ لہجے میں مختلف مگر ملتے جلتے مشوروں سے نوازا جاتا ہے۔ اور کہیں کہیں یہ مکالمے باقاعدہ ہاتھا پائی پر منتج ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوشی آلودگی کا وہ مہلک ہتھیار ہے جو آج تقریباً سبھی جیبوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ انگلیوں کا وہ باسی ہے جو بستر پر بھی دستیاب ہے، یہ ہونٹوں سے لگتے ہی منہ، حلق، پھیپھڑوں، جگر اور معدہ کو مہلک اثرات سے سیراب کرنے لگتا ہے۔

Read more

نقش فریادی ہے اور کاغذی ہے پیرہن

اٹھارہویں صدی میں برصغیر پاک و ہند میں بادشاہت کا دور تھا۔ میڈیا نام کی کوئی چیز پائی بھی جاتی تھی تو وہ تخلیے کی خبروں تک محدود تھی۔ کس کا سر قلم ہوا، بادشاہ سلامت کو کیا پسند ہے کیا ناپسند ہے، بادشاہ سلامت کس سے خوش ہوئے کس سے ناراض، کس کو سزا دی کس کو انعام دیا وغیرہ۔ تصویر اور ویڈیو کے بغیر یہ خبریں صرف زیرلب ہی شائع ہوتیں اور پیٹ میں پہنچنے سے پہلے پہلے

Read more

غربت اور سماجی عدم احساس

روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے غربت کی وجہ بیان کی تھی، یہ ایک مستند اور جامع وجہ ہے، چنانچہ ٹالسٹائی کہتا ہے کہ، ”ﻏﺮﺑﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻣﺮﺍﻋﺎﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﺮ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺟﺎﺋﺰ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺮﺍﻋﺎﺕ ﺯﺩﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭﯼ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻞ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺴﺘﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﻮﮞ۔“

غربت کی بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں، آبادی میں بے ہنگم اضافہ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، جنگیں، قدرتی آفات اور حکومتی غیر سنجیدہ حکمت عملیاں وغیرہ۔ مگر امیروں اور جاگیر داروں کے دلوں میں غریب لوگوں کی مجبوریوں کے احساس کا جنم نہ لینا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ معاشرے میں عموماً دو ہی طبقات پائے جاتے ہیں، ایک امیر اور دوسرا غریب۔ امیر ہر قیمت پر مزید امیر بننا چاہتا ہے جبکہ غریب غربت کے منحوس چکر سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔

Read more

انڈیا والے ایک کیمرے والی لڑکی سےڈرتے ہیں

بچپن سے ہی مجھے اخبار پڑھنے اور اخبار میں چھپی تصاویر دیکھنے کا شوق رہا ہے، اکثر اوقات کسی اخبار میں یا ٹی وی پر جنگ کے دوران برستے بموں، اڑتے انسانی چیتھڑوں، گولیوں، گرتے فوجیوں، زمیں بوس ہوتی عمارتوں اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کی تصاویر یا ویڈیوز دیکھ کر میں بہت سوچتا تھا کہ یہ کون ہو گا جو یہ تصاویر اتارتا یا ویڈیوز بناتا ہو گا، یہ یقیناً ان جنگجوؤں سے بھی زیادہ بہادر ہو گا۔ شاید ان

Read more

آج کے دور کا مسلمان، وبا اور ماورائے فطرت کا تصور

ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺷﺮﯾﺪ ﺑﻦ ﺳﻮﯾﺪ ﺛﻘﻔﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻨﻮ ﺛﻘﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﮌﮪ ﺯﺩﮦ ﺍٓﺩﻣﯽ ﺍٓﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﮮ، ﻣﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺟﺬﺍﻡ ﺯﺩﮦ ﺍٓﺩﻣﯽ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍٓﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻭٔ

Read more

فطرت اور انسان، معاہدہ بقائے باہمی کی ضرورت

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی بندہ صحرائی یا مرد کہستانی انسان شاید فطرت کی گود میں پناہ لینے والی آخری مخلوق ہے۔ خالق حقیقی نے اپنی اس مخلوق کو فطرت کے سپرد کرنے سے پہلے تمام ضروری احسانات سے مزین فرمایا تھا، پھر اسی کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نمائندے بھی بھیجے، یوں خالق حقیقی نے اپنی طرف سے کوئی کسر سر نہ اٹھا رکھی کہ کل کلاں انسان دنیامیں فطرت کے

Read more