غیر جانبدارصحافت کا تصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سر آپ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ صرف گلگت کے صحافی ہیں کیونکہ آپ گلگت بلتستان سے باہر نکلتے ہی نہیں، صحافی کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ادھر پنجاب کے مختلف دیہاتوں میں بھی اس طرح کے مسائل ہیں آپ ان کے بارئے میں بھی کچھ لکھیں اور بولیں۔ ان کے اس تبصرے پر پہلے زور دار قہقہہ لگایا پھر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں موجود نیوز چنیلوں کی تعداد دیکھیں ان میں کتنے چینلز پر گلگت بلتستان کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔ اگر کرونا کا مسئلہ درپیش نہ ہوتا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ گلگت بلتستان میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ کہتے ہوئے انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

ان کے اس تبصرے کے بعد سوچا تھا کہ کچھ عرصے کے لئے گلگت بلتستان کے حوالے سے خاموشی اختیار کر لی جائے مگر چند واقعات نے صحافت میں غیر جانبداری کے تصور کو ہی ڈ ھونڈنے پر مجبور کیا۔

گلگت بلتستان دنیا کا وہ عظیم خطہ ہے جہاں پر ”ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا، یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی“ وہاں کے لوگ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھنے میں پابندی کرتے ہیں تو ریاست اسی پابندی سے انہیں متنازعہ قرار دیتی ہے۔ یہ متضاد تصورات تو اپنی جگہ مگر گلگت بلتستان بھیجی جانے والی بیوروکریسی وہ وہاں پہنچ کر عوام کے جذبات ہی مجروح نہیں کرتے بلکہ ریاستی بیانیہ کے خلاف بھی بیان دیتی ہے پھر بھی ریاست ان سے باز پرس کرنے سے کتراتی ہے۔

ریاست کی جانب سے اس کھلی چھٹی کی بدولت اب بیوروکریسی عوامی مینڈیٹ کو ہی کسی خاطر میں لانے کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔ اس کی واضح مثال صوبائی کابینہ کا گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے فیصلے میں صوبائی سیکریڑی داخلہ کی مبینہ مداخلت سے دلبرداشتہ صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال کا استعفیٰ اورضلع گانچھے کے مختلف علاقوں چھوربٹ اور مچلو عوام کے اجتماعی دانش کے نتیجے میں قائم ہونے والے قرنطینہ سنٹروں کو چیف سیکریڑی کے بیک جنبش فون سے ختم کرانا ہے۔

گانچھے کے ان علاقوں کے عوام نے کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر اپنی مدد آپ کے تحت بعض سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کو اندورن اور بیرون ملک سے آنے والوں کو اپنے گھروں میں جانے سے پہلے مخصوص مدت تک ٹھہرانے کے لئے قرنطینہ سنٹر بنانے کے فیصلہ کیا تھا۔ اگرچہ ان قرنطینہ سنٹروں میں انتظامات کے حوالے سے نقائص کی شکایت بھی تھی۔ تاہم ان نقائص کو ٹھیک کرنے کے بجائے پورے نظام کو ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔

عوام کی یہ اجتماعی دانش دراصل کرونا کے خلاف جنگ میں حکومت کا ہاتھ بٹانا ہی نہیں بلکہ حکومت کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے مترادف تھی۔ اگر خاتمہ ناگزیر بھی تھا تو انتظامیہ کواس وبا سے ممکنہ طور پر پیدا ہونے والی صورتحال کی نزاکت کا احساس کرنے پر انہیں تھپکی دے کر حکومتی مجبوریوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔

ضلع گانچھے کے ان علاقوں سے عوامی قرنطینہ سنٹروں کے خاتمے کے واقعے کو سیکریڑی داخلہ کی کابینہ کے فیصلے میں مبینہ مداخلت سے موازنہ کرنے پر ان سرکردگان کو جیل کی راہ نہ دکھانا ہی بیوروکریسی کا احسان عظیم لگتا ہے۔ کیونکہ یہاں پر مابدولت اور عزت مآب کے لبوں کی جنبش کے نتیجے میں ادا ہونے والے الفاظ ہی قاعدہ قانون اور اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں کیا صحافی غیر جانبدار رہیں؟

صحافی کے پاس اختیارات نہیں ہوتے۔ مناسب اجرت نہ ملنے کے سبب فاقوں کے ڈر سے صحافتی اوزار تک فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بیماری کی صورت کی علاج کی پریشانی اس کے علاوہ ہے۔

ان سب مجبوریوں کو ایک طرف رکھ کر خار زار صحافت میں قدم رکھنے والے سے غیر جانبدار رہنے کی خواہش صحافیوں کو صرف اپنے حق میں لکھنے کی خواہش رکھنے والو ں کا پڑھایا ہوا سبق ہے۔ اس لئے جب کسی صحافی کے قلم سے کسی کے حق میں دو چار الفاظ تحریر ہو جائیں تو وہ اپنے ممدوح کا لفافہ خور اور اگر مخالفت میں کوئی تحریر سرزد ہو جائے تو لفافہ نہ ملنے کا غصہ قرار پاتا ہے۔ یہاں تک کہ ا گر کسی آخبار کی پالیسی پر تنقید ہوجائے تو اپنی رپوٹ اور مضامین شائع نہ ہونے کا انتقام تصور کیا جاتا ہے۔ ان مشکلات کو عبور کرنا آگ کا سمندر عبور کرنا ہے۔ اب ان آگ کے دریاؤں اور سمندروں کو عبور کرنے کے بعد بندہ صحافی کیونکر غیر جانبدار رہ سکتا ہے۔ لہذا غیر جانبدار صحافی وہی ہے جو صحافی نہیں ہے اگر کوئی صحافی ہے تو وہ جانبدار ہی ہو گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments