رمضان مبارک کا بابرکت مہینہ اور اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


رمضان کا مہینہ بہت اہمیت کا حامل ہے اس مہینے میں قرآن پاک نازل کیا گیا۔ اس مہینے میں رحمتوں اور نعمتوں کی بارش کی جاتی ہے۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں ’توبہ کے دروازے کھل جاتے ہیں ایسے میں ہمارے لئے سنہرا موقع ہے کہ ہم اپنے برے اعمال ( جھوٹ‘ غیبت ’کینہ پروری‘ گالی گلوچ ’ذخیرہ اندوزی‘ مہنگے داموں ضرورت کی چیزیں فروخت کرنا اور لڑائی جھگڑا ) ترک کر دیں اور اللّہ کے بنائے ہوئے اصولوں کو اپنا لیں ’اپنی زندگی کو سنوار لیں تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے۔

جب رمضان کی آمد ہوتی ہے تو ہم مسلمان ہونے کے ناتے خود کو تیار کرتے ہیں اللّہ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ اپنا نام لینے کی اور عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

رمضان کی رونقیں ہی الگ ہوتی ہیں سحری کے لئے اُٹھنا ’تہجد پڑھنا‘ سحری کرنا ’نمازِ فجر ادا کرنا اور پھر قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔ خود سوچیں جب گھر کے سبھی افراد مل کر ایک ہی وقت میں اُٹھیں‘ سحری کریں ’نماز پڑھیں اور تلاوت کریں تو کتنا خوبصورت سماں ہو گا۔ اس لیے یہ مہینہ بہت خاص ہے۔

رمضان ہماری زندگی میں نظم و ضبط لاتا ہے ہمیں اپنے نفس کو قابو کرنا سکھاتا ہے۔ ہم نہ صرف اپنے جسم کو بلکہ اپنے دل کو ’اپنی زبان کو بھی پاک صاف رکھتے ہیں۔

روزہ رکھ کر کوئی سو جاتا ہے ’کوئی قرآن پڑھتا ہے‘ کوئی گھر کے کام سمیٹتا ہے تو کہیں کوئی اپنے دفتر کے لئے نکلتا ہے جب روزہ رکھتے ہیں تو خود کو ہر وقت باوضو رکھتے ہیں ہر وقت زبان پر اللّہ کا نام ہوتا ہے اور خود کو گالی گلوچ ’برے کاموں اور لڑائی جھگڑوں سے دور رکھتے ہیں۔ ایسا کوئی کام نہیں کرتے جس سے ہمارا روزہ ٹوٹے یا مکروہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ اس ایک مہینے کے بعد بھی ہم اپنی اسی روش کو برقرار رکھیں اور خود کو بہترین بنانے کا عمل صرف اس ایک مہینے تک محدود نہ کریں۔

جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو سارا دن صرف اللّہ کی رضا کے لئے بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن ایسے بھوکے پیاسے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جس میں ہم سارا سارا دن سوئے رہیں یا ٹی وی کھول کر لیٹ کر مختلف پروگرام یا فلمیں دیکھ کر گزار دیں بلکہ چاہیے تو یہ کہ اس ایک مہینے میں قرآن کو تفسیر سے پڑھیں اس پر عمل کریں جب ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ترجمے کا نہیں پتہ ہوتا جس کی وجہ سے ہم اس کے لفظوں کے سحر میں کھو نہیں پاتے نہ عمل کر پاتے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ نہیں کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں لہذا اس قرنطینہ میں ترجمے سے قرآن کو پڑھیں تاکہ ہم اپنی زندگی کو اللّہ کے احکامات کے مطابق گزار سکیں یہ ایک بہترین موقع ہے اللّہ کا قرب حاصل کرنے کا۔ اس کو راضی کرنے کا۔

اس مہینے میں خاص طور پر اپنا دل اور دسترخوان بڑا کرنا چاہیے۔ اپنے اردگرد لوگوں کا خیال کریں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ وہ باآسانی روزے رکھ سکیں راشن فراہم کریں تاکہ ان کو کھانے پینے کی پریشانی نہ ہو۔

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کسی پر کام کا بوجھ نہ ڈالیں کیونکہ روزہ کی حالت میں بھوک پیاس کی وجہ سے زیادہ محنت مشقت کا کام نہیں ہو پاتا گرمی کا بھی موسم ہے خلقِ خدا کا خیال کریں گے تو اوپر والا ہمارا خیال کریں گے۔

اس بابرکت مہینے میں گھریلو خواتین کا کام بھی کافی بڑھ جاتا ہے سحری بنانے سے لے کر افطاری بنانے تک سارے کام بخوبی سرانجام دیتی ہیں گھر کے روٹین کے کاموں کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال کی بھی ذمی داری انہی کی ہوتی ہے قرنطینہ کی وجہ سے بچوں کے اسکول کا آن لائن کام بھی کروانا ہوتا ہے اور عبادت بھی کرنی ہوتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے آرام کا بھی خیال رکھا جائے ہو سکے تو ان کا ہاتھ بٹا دیا جائے نہیں تو ان کے کام کو سراہا ضرور جائے جب ہم کسی کے کام کی تعریف کر دیتے ہیں کہ آپ بہت اچھے سے سنبھال رہی ہیں سب کام تو یہ الفاظ بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ہمت و حوصلہ بڑھا دیتے ہیں۔ ہمارے لفظوں کا انتخاب بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

اچھا سنیں ’اچھا بولیں‘ اچھا دیکھیں اور اچھا کھائیں۔ غریبوں ’مسکینوں اور یتیموں کو خاص طور پر یاد رکھیں اور حسبِ توفیق مدد کریں لیکن خدارا اس مدد کی تصاویر سوشل میڈیا پر نہ لگائیں اپنی نیکی کو ضائع نہ کریں اجر دینے والی ذات تو اللہ کی ہے لوگوں کو دکھاوا کر کے اپنی نیکی ضائع نہ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *