ایمان، نماز اور اعمال صالح کی ترجیہاتی درجہ بندی


پہلے تو ہم سب کے لئے قرآن کا پیش کردہ وہ قطعی اور کلیدی اصول جان لینا ضروری ہے کہ جس کی بنا پر عاقبت بھی سنور جائے اور دنیا بھی سدھر جائے۔ اس سلسلے میں صرف دو ایسی آیات مختص ہیں کہ جن کا آغاز اللہ نے خود ‘وعدہ’ کے کلمے سے باندھ کر کیا ہے۔ اپنے ہر وعدہ کے ضمن میں بندوں کو یہ یقین دہانی بھی ازبر کرانی یاد دلا دی کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں جاتے ؛ تو اب ہم سب عاقبت سنورنے اور دنیا سدھرنے کا الگ الگ کلیدی اصول دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کیا ہے؟

اللہ کا وعدہ ہے ان سے جو ایمان لائے اور اعمال صالح کی ادائیگی پر
کاربند رہے، ان کے لئے آخرت میں مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
(سورت المائدہ آیت نمبر 9 )

، اور اسی طرح
اللہ نے وعدہ دیا ہے ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور
اعمال صالح کی انجام دہی میں لگے رہے کہ ضرور انہیں
درجے کے مطابق) زمین میں خلافت دے گا۔ )
(سورت النور آیت نمبر 55 )

دونوں متذکرہ آیات میں صرف ایمان اور اعمال صالحہ کے علاوہ نماز یا کسی دوسری فرضی عبادت کا بیان موجود نہیں ہے کیونکہ قرآن کی اپنی طے کردہ رو سے ایمان، اعمال صالحہ اور نماز کی اپنی اپنی ترجیحاتی درجہ بندی مختلف اور باہم جدا ہے۔ اس بابت قرآن کا پیرایہ استدلال یہ ہے کہ،

، بلاشبہ وہ جو ایمان لائے اور اعمال صالح کی انجام دہی میں لگے رہے
اور نماز قائم کی اور زکٰوۃ دی۔ ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے اور
نہ انہیں کچھ اندیشہ لاحق ہو اور نہ کچھ حزن و ملال۔
(سورت البقرہ آیت نمبر 277 )

اس آیت میں ایمان، عمل صالح، نماز اور زکٰوۃ پر مشتمل چار ترجیحات کا الگ الگ تعین گنوایا گیا ہے، تاہم زکٰوۃ کی ادائیگی صرف صاحب نصاب کے لیے لازمی ہوتی ہے سب کے لیے لازمی نہیں ہوتی۔

ان سطور میں پیش کردہ ہر آیت کی ترجیح میں پہلا درجہ ایمان کا ہے، دوسرا درجہ اس کے بعد اعمال صالحہ کا ہے اور تیسرا درجہ نماز کا آیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام کی قبولیت ایمان سے مشروط ہے۔ قرآن میں ایمان کا مطلب عالم غیب کی عملداری کا زبانی، ذہنی اور قلبی اقرار ہے۔ اللہ کی توحید کا اقرار، یوم آخرت کا اقرار پورے سلسلہ نبوت و رسالت کے خاتمے تک ہر نبی اور رسول کا اقرار، قرآن سمیت تمام آسمانی کتابوں کا اقرار اور اللہ کے فرشتوں کے اقرار تک۔

اقرار کے اس سارے تلازم کو اپنانا ایمان کا درجہ ٹھہرتا ہے۔ ایمان کے بغیر کوئی بھی اعلیٰ اور مفید عامہ کی نمایاں کارکردگی محض کارہائے خدمت انسانی بجا لانے کا وصف تو ہوسکتی ہے، جس کا کوئی اجر دنیا میں ملے تو ملے، لیکن اللہ کے ہاں بطور عمل صالح عاقبت سنوارنے میں پسندیدہ شمار نہیں ہوتا۔ اس سے اگلا درجہ ایمان سے محبت اور عملی لگن دکھانے کا آتا ہے۔ محبت کے ضمن میں چونکہ انسان اپنے مال و دولت اور آل اولاد کی محبت کو اولیت دیتا ہے، اس لیے اس کے ایمان سے محبت جانچنے کا پیمانہ حاجت مندوں اور ضرورت مندوں کی خاطر مال خرچ کرنا طے کیا گیا، جس کی آزمائش صرف صاحبانِ نصابِ زکٰوۃ کے لئے ہی نہیں بلکہ سب ایمان والوں کے لیے یکساں رکھی گئی ہے۔ جہاں تک آل اولاد کی محبت کا تعلق ہے، قرآن میں اسے تسلیم شدہ تو قرار دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی اعمال صالح کے ترجیہاتی نصب العین کی مزید یاد دہانی کا سبق بھی یوں ازبر کرا دیا گیا کہ

مال اور بیٹے دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والے وہ
کارہائے صالح ہیں (جو بعد میں ) رب کے آگے ثواباً و امیداً باعث خیر ہیں۔
(سورت کہف آیت نمبر 46 )
کیونکہ اسی سورۃ کی آیت 30 کے مطابق اہل ایمان کے عمل صالح کا اجر اللہ ضائع
نہیں ہونے دیتے۔

ایمان اور نماز دونوں روحانیت کا باب ہیں جن کا تعلق ہے شخص کی ذات تک محدود ہے۔ جبکہ اعمال صالحہ دنیائے حیات کا عملی باب ہے جس کا تعلق انسان کی اجتماعی زندگی سے ہے۔ ایمان کی روحانی تصدیق صاحبِ ایمان اللہ کے حضور اپنی ہمہ وقتی خود سپردگی کے آداب نماز سے پیش کرتا ہے، جبکہ اس کی عملی توثیق اعمال صالحہ کے نقوش سے ثبت کر کے مناتا ہے۔ نماز اللہ کے حضور انسانی زندگی کی نعمت کا شکرانہ ہے تو اسی طرح انسانی زندگی کے تحفظ و تفوق کا نذرانہ اعمال صالح کی تحریک میں مضمر ہے۔ یہ تحریک نظامِ حیات کے ہر شعبے کا حصہ ہوتی ہے۔ نماز بحالت اضطراب قصر یا قضا ہو سکتی ہے لیکن خطرۂ موت سے گھرے کسی انسان کی زندگی بچانے کی ساعت رائیگاں نہیں ہونے دی جاسکتی۔ اس لیے اعمالِ صالحہ کا عملی باب قرآن نے وہاں سے کھولنا چاہا جہاں ایک انسان کی زندگی گویا پوری انسانیت کی جامع ہوک بن کے پکار اٹھتی ہے۔ شرف انسانیت اللہ کو اپنی عبادت سے بھی بڑھ کر اتنا عزیز تر ہے کہ اس نے فرشتوں کو بھی آدم کے حقِ خلافت کے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم دے ڈالا، اور اس سے سرتابی پر عزازیل بھی ابلیس کر دیا گیا کہ جسے اللہ کے سوا کسی اور کے آگے سجدہ ریز نہ ہونے کے قصد پر بڑا ناز ملحوظ خاطر تھا۔ اعمال صالحہ کا جامع اور کلیدی اصول انسانی زندگی کے تحفظ میں مضمر ہے جس کا ترجمان خود قرآن یوں ہے کہ،

جس نے کوئی جان کسی (دوسری) جان کے بدلے کے بغیر قتل کی
یا زمین میں فساد کیے، تو گویا اس نے سب انسانوں کو قتل کیا اور
جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی، گویا سب انسانوں کی زندگی بچائی۔
(سورت المائدہ آیت نمبر 32 )

ایمان، نماز اور اعمالِ صالحہ کے مندرجہ بالا سیاق و سباق کا عملی اطلاق اگر کسی کرونا وائرس جیسے وبائی فساد میں آ پڑے کہ جو انسان سے انسان کو لگنے کا عارضہ ہے، تو ایسے اطلاق کے سمجھنے کا کلیدی اصول بھی قرآن نے فراہم کر رکھا ہے۔ دور قدیم میں بنی اسرائل کے ایک علاقے میں طاعون کا وبائی فساد پھوٹ پڑا تھا، تو لوگ اس کے سبب موت کے ڈر سے علاقہ بدری پر آگئے۔ چونکہ ان کی وجہ سے طاعون ایک علاقے سے اگلے علاقوں کو متاثر کرنے کا باعث تھا، تو اس بنا پر اللہ کو ان کی یہ علاقہ بدری سخت ناپسندیدہ لگی جس پر انہیں اللہ نے یوں تنبیہ کی کہ،

اے نبی کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں
تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مر جاؤ پھر انہیں زندہ کر دیا۔
(سورت البقرہ آیت نمبر 243 )

بعد ازاں وہ اپنے پیغمبر حرقیل کی دعا سے زندہ کیے گئے، تو گویا پہلے مار کر انہیں انتباہ کردیا گیا تھا۔ آخر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم علماء کے سپرد صرف اتنی سی ذمہ داری کا سوال ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم لوگوں کو سورہ الماعون کے کلمہ ویل لّلمصلّین اور حٰم سجدہ کی آیت نمبر 6 کے کلمے ویل لّلمشرکین کی

معنوی یکسانیت کا ابہام دور فرما دیں۔

Facebook Comments HS