ماورائے عدالت قتل کرنے والے ہیرو کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیس برس پہلے کی بات ہے۔ میں نے اتفاقاً پولیس کے چند نوجوانوں کا پنجاب یونیورسٹی لاہور کے چار غنڈا نما طالب علموں کو کو گرفتار کرنے کا تماشا ایکشن دیکھا۔ یہ واقعہ پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس سے کوئی دو سو گز دور نہر کے کنارے رونما ہوا تھا۔ کافی تعداد میں راہ گیر رک کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ اس لڑائی کا سکرپٹ لکھنا تو بہت مشکل ہے بس یوں سمجھ لیں کہ سب دیکھنے والے شدید خوف سے سہمے ہوئے تھے۔ پولیس والے بھی بمشکل چار پانچ لوگ ہی تھے لیکن وہ بہت دلیری سے لڑے۔ کسی طرف سے کوئی اسلحہ یا ڈنڈا استعمال نہیں کیا گیا لیکن باقی کوئی کسر باقی نہ رہی۔ آخر کار پولیس والے ان میں سے دو کو گاڑی میں ڈال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس والوں نے یقیناً یہ کام جان پر کھیل کر کیا۔

میں ٹارچر اور جسمانی تشدد کا بہت مخالف ہوں۔ لیکن اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ ہماری پولیس کو بہت ہی مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ اتنے مشکل حالات میں ٹارچر کا راستہ اختیار نہ کرنا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔

پولیس والوں کو ایک جائز سرکاری ذمہ داری نبھانے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا پڑا۔ ایک شدید لڑائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد تھانے جا کر ان ملزموں پر تشدد کرنے سے اپنے آپ کو روکنے کے لیے ایک خاص قوت برداشت اور بہت اعلی انسانی ظرف اور طاقت درکار ہے۔ وہ طاقت اور قوت برداشت عام طور پر انسانوں مین قدرتی طور پر نہیں پائی جاتی بلکہ اسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کے کچھ ممالک میں پولیس کے نوجوانوں نے وہ طاقت اور قوت برداشت حاصل کر لی ہے۔ ایسا کیسے ممکن ہوا؟

یہ ایسے ممکن ہے کہ پولیس کے نوجوانوں کی بہترین پیشہ ورانہ تربیت کی گئی ہو اور یہ تربیت مسلسل جاری رہتی ہو۔ انہیں اپنی حفاظت کے لیے بہترین سازو سامان مہیا کیا گیا ہو۔ قوم انہیں اور ان کے کام کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہو۔ انہیں اپنی خدمات کا بہترین معاشی معاوضہ ملتا ہو جس کی ان کی اپنی زندگیوں میں سکوں ہو۔ انہیں غیر قانونی کام کرنے پر مجبور نہ کیا جاتا ہو اور انہیں اپنے محکمے اور اپنی قوم سے انصاف کی قوی امید ہو۔ اگر ایسا ہو سکے تو پھر پولیس کا نوجوان کسی ملزم کی متشدد مزاحمت کے بعد بھی اپنے حواس قابو میں رکھ سکتا ہے اور اپنے آپ کو تشدد جیسے جرم سے بچا سکتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ہماری پولیس کے لیے تو ایک خواب ہی ہے۔

ہماری پولیس کے پاس یہ سب کچھ نہیں ہے اور اس کے بغیر اسے مجرموں سے ڈیل کرنا پڑتا ہے جو اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ مہلک ہتھیاروں سے لیس بھی ہوتے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری پولیس ہر لحاظ سے نہتی اور بے یارومددگار ہے۔ انہیں کوئی مادی سپورٹ ہے نہ اخلاقی۔ پولیس کا نوجوان اکیلا جان پر کھیلتا ہے اور اسے ایک شکریے کی توقع نہیں ہے۔ تو پھر ظاہر ہے کہ پولیس اپنے غصے کو نہیں روک سکتی اور پھر جو بھی اس کے ہتھے چڑہتا ہے اس پر تشدد کرتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو اس بات کا علم ہے اور اپنے اندر وہ تشدد کے خلاف بھی نہیں ہیں۔

ایک اچھا محکمہ پولیس ہماری ترجیح بھی نہیں ہے۔ پولیس جرائم کو روکنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا کام تو طاقت ور کی حفاظت کرنا ہے تاکہ وہ اپنی من مانی کرتا پھرے۔ اس کام کے لیے پولیس کو کچھ سرکاری بجٹ ملتا ہے اور باقی وسائل کا بندوبست وہ خود کرتی ہے۔ وہ وسائل شریف لوگوں اور جرائم پیشہ دونوں ہی ادا کرتے ہیں۔ اگر پولیس تشدد نہ کرے تو پولیس کی شریف شہریوں سے اکٹھے کی جانے والی آمدنی بھی کم ہو جائے گی۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اس کی آمدنی کم ہو۔

پولیس کی دوسری فرسٹریشن یہ کہ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر خطرناک ملزموں کو گرفتار کرتے ہیں اور وہی ملزم چند ہی دنوں ضمانت پر رہا یا باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ اس میں پولیس عدالتوں سے ناخوش ہے۔

پاکستانی عدالتوں سے ناخوش تو بہت لوگ ہیں۔ عدالتی نظام کو آزاد اور خود مختار بنانے پر کافی کام ہوا ہے۔ اب عدالتیں قانون کے مطابق تو صرف قانون ہی کے ماتحت ہیں لیکن کچھ ان دیکھے دباؤ کے خلاف بھی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔

ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت سمیت تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون پر عمل کرتے نظر نہیں آتے۔ آئین بننے اور ٹوٹنے کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ جب ادارے ہی قانون پر عمل نہ کریں عام عوام کے لیے قانون پر عمل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ موجودہ ماحول کوئی شخص قانون پر عمل کرنا بھی چاہے تو وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ سسٹم اسے ایسا کرنے ہی دیتا۔

باقی رہ گئے عام عوام تو وہ کبھی انصاف کا مطالبہ بھی نہیں کرتے۔ سر تن جدا یا سر عام پھانسی کے مطالبے ہی عام ہیں۔ قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ تو شاید ہی کبھی کیا گیا ہو۔
ایسے ماحول میں ماورائے عدالت قتل جیسا شدید جرم بھی عوام کو انصاف ہی لگے گا اور یہ جرم کرنے والا ہیرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 228 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *