بلوچستان میں سیاسی گٹھن سے جنم لینے والی امیدافزا ہوائیں


یہ کالم خاص کر مکران ڈویژن ( جو تین اضلاع یعنی کیچ، بنجگور اور گوادر) اور کولواہ آواران کے چند علاقوں کے حالات کے پس منطرمیں تحریر کیا گیاہے۔ یہ علاقے بلوچستان میں گزشتہ دو دہائی سے جاری کی شورش کا ایک اہم گڑھ اور سب بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح اب بظاہر مکران میں بھی امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ مگر لوگ اب بھی ایک غیر یقینی سی صورتحال کا شکار ہیں اور ایک انجانے سے خوف میں مبتلا ہیں۔ وہ اظہار خیال سے ڈرتے ہیں، ہر کوئی دوسرے سے مشکوک دکھائی دیتاہے اور جیسے لوگوں نے خود پر سیلف سینسرشپ کا اطلاق کر دیا ہو (جو مکمل طوربلاجواز بھی نہیں ہے ) ۔

سنہ 2000 کے ابتدائی دو تین سال تک بلوچستان کے طول و عرض میں سیاسی گرمیاں عام تھیں۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی سرکل اور سیاسی و ادبی اجتماعات کا انعقاد روز کا معمول تھا، کارکنان کو اپنے خیالات کے اظہارکی آزادی تھی، تنقید اور شکایتوں کا بھی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ مذکورہ سرگرمیاں نوجوانوں کی سیاسی و علمی صلاحیتیوں کو جلابخشتے تھے۔ مگر اب خاص کر ادبی محفلوں و مشاعروں اور سیاسی موضوعات پر الفاظ کے چناؤمیں محتاط رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس لئے اب ایسا محسوس ہوتا کہ سیاسی اور علمی سرگرمیوں کی سابقہ چاشنی کسی نے چھین لی ہو۔

2008 اور 2013 کی نسبت 2018 کے انتخابات میں شہری علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں اور عوامی جوش و خروش کافی حوصلہ افزا رہا ہے۔ امیدواران و علاقائی رہنما اورسیاسی کارکنان نے عوامی اجتماعات میں خوب حصّہ لیا تھا۔ اس سے امید بندی کہ شایداب شور ش زدہ علاقوں میں پھر سے سیاسی بہار کا آغاز ہونے والا ہے۔ مگر ان انتخابات نے سیاسی گٹھن اور لوگوں کے احساس محرومی میں مزید اضافہ کر دیاہے۔ کیونکہ اکثر حلقوں میں وہ غیر سیاسی امیدوار کامیاب قرار پائے جن کا نہ تو عوام سے کوئی رابطہ تھا، ناہی عوامی و علاقائی مسائل سے کوئی واسطہ۔

ان پولنگ اسٹیشنوں میں وہ ہزاروں ووٹوں سے بازی لے گئے جہاں بمشکل درجن یا سو کے کے حساب سے ووٹ ڈالے گئے تھے (کیوں کہ ایک تو مکران میں اکثر گاؤں یا دیہاتوں کی آبادی انتہائی کم ہے اور دوسرا یہ کہ دوردراز اور بی ایریاز کے علاقوں کے زیادہ تر لوگ مخدوش حالات اور مسلح تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے گھروں سے ہی نہیں نکلے تھے ) ۔ مگر پھر بھی بھاری اکثریت سے مخصوص امیدواروں کی کامیابی ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

اس لئے اب لوگوں کی ایک عام رائے یہی ہے کہ بلوچستان میں عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہ پہلے کبھی تھی اور نہ اب ہے۔ ووٹ کے ذریعے سے تبدیلی کی امید رکھنا ایک سراب ہے۔ انتخابات ایک ڈرامہ بازی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے سیاسی عمل سے مزید بیزاری نے جنم لیا ہے جو بلوچستان کے مخصوص حالات کے پس منظر میں بالکل نیک شگون نہیں ہے۔

امن و امان کی بہتری کے باوجود سیاسی سمیت ادبی و علمی سرگرمیاں اب محدود ہیں۔ اغوا اور ”ٹارگٹ کلنگ“ سے بچ جانے والے کئی بلوچ قوم پرست رہنما و کارکنان، شاعر و ادیب اور دانشور و لکھاری یا تو ملک چھوڑ چکے ہیں یا مایوس ہوکرسابقہ سرگرمیوں سے مکمل طور پر لاتعلق ہوکر گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بلوچی زبان میں لکھنے، پڑھنے، چھاپنے اوربھیچنے والے انتہائی محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں کہ کہیں ان کی محب الوطنی مشکوک نہ ہوجائے۔

مگر مذکورہ بالا سخت اور غیر یقینی حالات میں اپنی سیاسی، ادبی اور علمی تشنگی کو اعتدال میں لانے کے لئے پڑھے لکھے اور زیرتعلیم باشعوربلوچ نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو دیگر مثبت سرگرمیوں پر خرچ کرنا شروع کردیا ہے اور عوام سے اپنے تعلق کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

اب کئی نوجوان سماجی کاموں کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ کسی ناگہانی آفت، مشکل صورتحال اور شدید ضرورت کے تحت یہ نوجوان بغیر کسی منظم تنظیمی ڈھانچے کے، اپنے ذاتی تعلقات اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا مضبوط نیٹ ورک تشکیل دے کر بلوچستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت پاکستان بھر کے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچ نوجوانوں کی مدد سے چندہ کمیٹیاں بنا کر چندہ اکٹھاکرتے ہیں اوراپنی بساط کے مطابق مستحقین کی مدد کرتے ہیں۔

بلوچستان میں علاج معالجے کے سہولیات کی عدم دستیابی اور کراچی و دیگر شہروں میں جاکر علاج سمیت رہائش، خوراک اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ اٹھانا ایک عام اورانتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ پھر دوسرے زبان اور متعلقہ جگہوں سے ناواقفیت اس کے علاوہ ہیں۔ مگریہ نوجوان اب تک رضاکارانہ چندہ کمیٹیوں کی مدد سے کئی کینسر سمیت دیگر بڑی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریضوں کی مالی مدد کرچکے ہیں جنہیں دو وقت روٹی کی بھی میسر نہیں۔ ان نوجوانوں میں سے کئی ایسے رضاکار بھی ہیں جو مریض کے خاندان کو ہسپتال اور متعلقہ ڈاکٹر کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

امدادی این جی اوز و خیراتی اداروں سمیت ڈاکٹر سے اپوائنٹسمنٹ، مطلوبہ لیبارٹریز دیگر ٹیسٹ اور خون کے عطیات کے حوالے سے ضرورتمند، دیہاتی و ناخواندہ خاندان اور تیمارداروں کی مکمل رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔ نام و نمود اور خودنمائی سے ناآشنا یہ نوجوان عام حالت میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں اور روزمرّہ ذمہ داریوں میں مصروف رہتے ہیں۔

بلوچستان سمیت ملک کے مختلف بڑے شہروں کے تعلیمی درسگاہوں میں زیر تعلیم بلوچ طلبا و طالبات پر مشتمل تنظیم ”بلوچ طلبا ایکشن کمیٹی“ کا قیام ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ اس تنظیم کا مقصد تعلیمی اداروں میں بنیادی ضروریات اور سہولتوں کی فراہمی، مسائل کے حل کے لئے کوشش کرناؤ آواز اٹھانا اور بلوچ طلبا و طالبات کی تعلیمی حقوق کا تحفظ ہے۔ اس کے علاوہ ملکی تعلیمی اداروں تک (بغیر کسی صنفی تفریق کے ) بلوچ نوجوانوں کی رسائی، ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنابھی شامل ہیں۔

بلوچستان بھر اوراس سے باہر کئی زیر تعلیم نوجوان سوشل میڈیاز (وٹس ایپ گروپ، پیجز) اور ویب سائٹس کے توسط سے اپنی ذاتی کوششوں سے طلبا کے کو تعلیمی مواقع سے باخبر رکھتے ہیں، تیکنیکی اور رسائی کے حوالے سے ان کی مدد کرتے ہیں۔ انہی کوششوں کی وجہ سے نا صرف، کوئٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں زیرتعلیم بلوچ طلبا و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ امریکہ، کنیڈا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، ملائشیا سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی متوسط و غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بلوچ نوجوان (جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ) اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ایک خواب سا لگتا ہے۔

خلائی سائنس سے کے حوالے سے پاکستان کے پہلے نوجوان سائنسدان یارمحمد بلوچ کا تعلق بھی مکران ڈویژن کے ضلع کیچ کے دوردرازکے انتہائی پسماندہ علاقہ ”بلیدہ“ کے ایک غریب خاندان سے ہے جن کے والد نے اپنے کھیتی باڑی کی زمین بیچ کر انھیں پڑھایا تھا اور بعدمیں اسکالرشپ کی بنیاد پر انہوں نے نامور بین الاقوامی سائنسی جامعات و تحقیقی اداروں سے تعلیم مکمل کی ہے۔ آج کل وہ ایک بین الاقوامی ادارے سے منسلک ہیں ۔

بڑے شہروں سے تعلیم یافتہ انہی نوجوانوں کی ذاتی کاوشوں سے بلوچستان خاصکرمکران میں چنیدہ شہروں کے علاوہ اب کئی گاؤں اور دیہاتوں میں بھی انگلش لینگویج سنٹرز اور انگلش میڈیم پرائیویٹ اسکولز اور آئی ٹی و کمپیوٹرز کوسز کے ادارے کھل چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ جہاں انتہائی محدود وسائل اور سخت حالات کے باوجود جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کی تیاری اوران کے تعلیمی پہنچ کو وسعات دینے کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔

کئی گاؤں و دیہاتوں میں نوجوان نے اپنے مہمان خانے لائبریریوں کے لئے مخصوص کردیئے ہیں، باز علاقوں میں نوجوانوں نے روایتی تعمیراتی اشیا چندہ کرکے ایک ایک کمرے پر مشتمل لائبریاں قائم کی ہیں جہاں نوجوان بچے و بچیاں اپنا علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ بلوچستان کی مخصوص صورتحال کی اساسیت کو مدنظر رکھ یہ نوجوان ان سرگرمیوں کے لئے گنجائش پیدا کر رہے ہیں۔

بلوچستان اپنے مخصوص جغرافیہ، بلند و بالا چٹیل پہاڑ، خشک بیابان، انتہائی سخت موسمی حالات، بنیادی انفراسٹکچر کی عدم موجودگی، مواصلاتی لحاظ سے دور افتادہ و کٹا ہوا، محدود تعلیمی شرح، ذرائع ابلاغ کی قلت اور اپنی مخدوش سیاسی صورتحال اور تلخ تاریخی حقائق کے باوجود اہل بلوچستان اور خاص کر اہل مکران اپنے حقوق اور سیاسی شعور کی آبیاری کے لئے ہمیشہ متحرک رہے ہیں۔ خاندانی بیٹھکوں سمیت سماجی تقریبات و اجتماعات میں علمی و سیاسی شخصیات کا تذکرہ، علاقائی صورتحال، اہم شخصیات و قبائل کی تاریخی پس منظراور ان سے جڑے ( اچھے اور برے ) کارنامے، جدی پشتی رشتہ داریوں و شجرہ نسب پر تبصرے، حالات حاضرہ پر سیر حاصل گفتگو اور سیاسی موضوعات پر تجزیے ہمیشہ بلوچ روایت کا حصّہ رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی علاقی معتبرین اور صاحب حیثیت لوگوں کی جانب سے علاقائی سطح پر شعر و شاعری، موسیقی اور روایتی حمدو ثنا کی محفلوں کی سرپرستی و انعقاد، پڑھے لکھے طبقے (خاصکر نوجوانوں میں ) میں مختلف کتابوں خاصکر سیاسی، ادبی اورتاریخی شخصیات اور موضوعات پر مشتمل گفتگو عام روایات ہیں۔ ان مذکورہ وجوہات سمیت علاقائی کلاسیکل ادب اور تاریخی شاعری وداستانیں وہ سرچشمے ہیں جو بلوچوں کے سیاسی شعورکی آبیاری کرتے رہے ہیں اوران سے تحریک ملتا رہا ہے۔ یہ بلند ہمّت، ہار نہ ماننے اور آگے بڑھنے کی روش دراصل ازل سے سختیوں کا سامنا کرنے والی اس سرزمین اور مٹی کی دین ہے جو اپنے فرزندوں کو سختیوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہونے دیتا۔

میں اس مضمون کا اختتام بلوچی قدیم تاریخی نطم سے کروں گا کہ
ترجمہ : میں اس ”گز“ (علاقائی خود رو درخت) کی طرح ہوں
سخت موسموں اور طوفانی ہواؤں کا سامنا سر اٹھا کے کیا ہے
مگر شدید دریائی سیلاب کے آگے عارضی طورپر سرجھکا بھی دیتا ہوں
اور یہ طوفان کبھی میری جڑوں کو اکھاڑ نہیں سکتے
سیلاب کے تھم جانے کے بعد میں مزید مضبوط
اور سرسبز و شاداب ہوکر پھر سے سراٹھالیتا ہوں۔

Facebook Comments HS