مزاحمتی بیانیہ پر مبنی بلوچ ادبی روایات

دھرنے کے اختتام اور اسلام آباد سے کوچ کر نے سے پہلے ڈاکٹر ماہ رنگ بلو نے کہا کہ ”آپ نے بلوچ عورت کو دہشت گرد قرار دے دیا، اسے اسلام آباد کے زندان میں رکھا۔ آپ نے اپنے اس برتاؤ سے بلوچ قوم کو جو پیغام دیا ہے ہم اس پیغام کو وہاں (بلوچستان) کے گھر گھر میں پہنچائیں گے۔ ہمارے یہاں (بلوچوں میں ) ہماری تاریخ اور تہذیب سے جڑی یہ روایت رہی ہے کہ ہم لوگ اشعار

Read more

بلوچ خواتین کے ساتھ سلوک کو بلوچ روایات کے تناظر میں کیسے دیکھا جا رہا ہے

کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئے متاثرہ فریق کے مزاج و نفسیات اور روایات کو سمجھنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ناواقفیت میں مسائل سلجھانے کی کوشش میں بھی اکثر اُلجھ کر مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ دروغ گوئی اور وعدہ خلافی اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی طرح محکوم کو مزید دبانے اور مکمل زیر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال اکثر اوقات محکوم کو ”تَنگ آمد بہ جنگ آمد“ کے مصداق طاقت ور کے مدمقابل

Read more

”گوادر کو حق دو تحریک“ – سوال در سوال

ایک ماہ سے گوادر شہر میں اپنے مطالبات کے حق میں ”گوادر حق دو تحریک“ کا دھرنا گوادر کا مقامی جناب مولانا ہدایت الرحمان کی سربراہی میں جاری ہے۔ مذکورہ تحریک کے مطالبات دراصل بلوچستان اور خاص کر مکران و ملحقہ علاقوں کے محکوم و مظلوم عوام کے وہ حل طلب مسائل ہیں جن کی وجہ سے یہاں کی محدود معاشی ذرائع اور کاروباری سرگرمیاں مزید محدود ہو کر رہ گئی ہیں، ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں،

Read more

گوادر کی خاموش چیخیں

جب میں شمبے سماعیل ( گوادر شہر کا ایک محلہ) سے نکل کر ساحل سمندر پہ پہنچا تو حسب معمول میری نظر بنتی مٹتی سمندر کی لہروں پر پڑی، جو گیلی ریت پر میری قدموں کو چوم کر میرے لمس میں اتر جاتیں۔ مگر اب کی بار ساحل کے نظارے اور لہروں سے سرشاری کے بجائے دل میں ٹھیس اٹھنے کا احساس ہوا۔ یہ ٹیسیں جیسے پورے وجود میں پھیل جاتیں۔ پھر بھی دل چاہ رہا تھا کہ ساحل کی گیلی ریت پھر ٹہلتے ہوئے چند قدم مزید آگے بڑھوں۔مگر اس خیال نے قدم روک لئے کہ آگے جانا منع ہے۔ کیونکہ آگے اب ایک چیک پوسٹ ہے جہاں سیکیورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔ یہیں کھڑے ہو کر حسرت بھری نگاہوں سے تا حد نظر پھیلے نیلے سمندر کو دیکھنے لگا، تو جیسے ماضی کی یادوں نے تمام احساسات اور جذبات پر جیسے شکنجہ کس لیا ہو۔ میں سوچنے لگا کہ یہ وہی ساحل ہے جس کی لہروں پر کھیلتے کھیلتے ہم جوان ہوئے۔ مچھیرے مچھلی پکڑنے کے لئے اپنے جال اور دیگر اسباب گدھوں پر لاد کر اسی ساحل پر لاتے اور پھر انہی سامان کے ساتھ کشتیوں میں سوار ہو کر مچھلی کے شکار پر روانہ ہوتے تھے۔

Read more

وزیراعظم کا دورہ تربت، عوامی توقعات اور ”جنوبی بلوچستان“

وزیر اعظم عمران خان نے 13 نومبر کو اپنے دورہ تربت (جو مکران ڈویژن کا مرکزی شہر ہے ) میں ”جنوبی بلوچستان“ کے لئے 600 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا ا علان کیا تھا۔ 19 نومبر کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و سماجی ترقی اسد عمر نے وفاقی وزراء مراد سعید اور محترمہ زبیدہ جلال کے ساتھ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے مذکورہ ترقیاتی پیکج کی تفصیلات بیان کر تے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ رقم کا زیادہ تر حصہ شاہراہوں، 16 نئے ڈیم کی تعمیر، 57 فیصد آبادی کو بجلی کی فراہمی، گیس کی فراہمی کے لئے ڈسٹری بیوشن سنٹرز کے نظام کا قیام، 3 لاکھ 20 ہزار نئے گھروں کا اضافہ اور صحت کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔

یہ اعلانات انتہائی خوش آئند ہیں مگر ہمیشہ سے وسائل کی عدم دستیابی کا رونا رونے والی حکومت کے وزراء نے یہ نہیں بتایا کہ 600 ارب روپے کی اس خطیر رقم کا حصول کیسے ممکن ہوگا؟ وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال (جو قومی اسمبلی میں کیچ مکران کے نمائندے ہیں ) نے پریس کانفرنس میں بتایاہے کہ فوجی قیادت بھی ”جنوبی بلوچستان“ کے اس ترقیاتی پیکج میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ مگر موصوفہ نے یہ نہیں بتا یا کہ کتنا حصہ ڈالے گی۔

Read more

پنجاب میں بلوچ طلبا کا لانگ مارچ

بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی ناگفتہ صورتحال، بنیادی ضروریات و سہولیات کی عدم فراہمی اور دیگر کئی مسائل کے حل کے آرزو مند چند باہمت اور دور اندیش طلباء کو تقریباً آج سے چھ یا سات برس پہلے ”بلوچ سٹوڈنٹس کونسل“ کے قیام پر ابھارا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ( بی ایس سی ) مکمل طور پر غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا مقصد بلوچستان سمیت ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچستان کے (بلوچ) طلبا و طالبات کے

Read more

بلوچ خانہ بدوشوں کا نوحہ

اپنی سر زمین پر صد یوں سے آباد بلوچ قوم کو آج ایسی صورتحال کا سامنا ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ دور کے ذرائع ابلاغ، علاقائی و عالمی صورتحال سے مکمل بے خبر، ہر طرح کی سہولیات سے محروم اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی تگ و دو میں مصروف ایک عام بلوچ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟ میرا گردوپیش، ذریعہ معاش اور معمولات زندگی کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟

انسانی تہذیب کی ابتداء مال مویشی پالنے اور کاشتکاری سے ہوئی ہے۔ بلوچستان میں آج بھی ہزاروں خاندان پر مشتمل خانہ بدوش طبقہ موجود ہے جن کا گزر بسر مالداری (غلہ بانی) نظام سے منسلک ہے۔ بلوچی زبان میں ان کو ”کوہی بلوچ“ یعنی پہاڑی بلوچ اور ”پہوال“ کہا جا تا ہے۔ اس طبقے کا مستقل مسکن پہاڑی بیابان ہیں۔ جدید معاشی ذرائع اور طریقوں سے مکمل طور پر انجان یہ بلوچ خانہ بدوش خاندان اپنی (درجنوں سے سیکڑوں تک ) بھیڑ بکریوں، گدھوں اور اونٹوں کی خوراک کے لئے چراگاہوں کی تلاش میں مختلف پہاڑی بیابانوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔

Read more

بلوچی غیرت اور بلوچ تاریخی روایات

مکران ( انتظامی لحاظ سے نہیں، تاریخی و جغرافیائی لحاظ سے ) کو بلوچستان کے دیگر علاقوں سے معتدل مزاج سمجھا جا تا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر علاقوں کی نسبت سخت قبائلی طرز معاشرت اور روایتی سرداری نظام سے کافی حد تک یہ آزاد تعلیم یافتہ ہے اور باقی علاقوں کے بڑے جاگیرداروں کی نسبت اس کی آبادی مختلف متوسط بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ کچھ عرصہ سے گوادر میں سی پیک اور مختلف نا خوشگوار واقعات و حالات کی وجہ سے ملکی میڈیا میں اس کا نام آتا رہتا ہے۔

چند مہینوں سے مکران کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بلوچستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تربت میں ڈکیتی کے دوران خواتین ( ملک ناز بلوچ اور کلثوم بلوچ ) کے قتل کے واقعات نے اہل علاقہ سمیت تمام بلوچوں کو ایک غیر معمولی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور نوجوان شہید حیات بلوچ کے ناحق قتل نے اس تشویش اور عوامی غیض و غضب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہید حیات بلوچ کے واقعہ کی ابھی دھول بھی نہیں چھٹی تھی کہ 5 ستمبر کو تربت میں خاتون شاہینہ شاہین بلوچ کی قتل کا المناک واقعہ رونما ہوا ہے۔

Read more

میرا شاگرد حیات بلوچ اور اگست کا جشن ماتم

چھ یا سات سال پہلے تربت کے ایک نجی اسکول میں دوران تدریس شہید حیات بلوچ سے واقفیت ہو گئی تھی۔ اپنے کئی سال کے تدریسی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ یہ ہم بلوچوں کی خوش قسمتی ہے (بد قسمتی بھی کہہ لیں ) کہ ہمارے بچوں کی اکثریت اپنی ذمہ داریوں اور حالات سے واقف ہے، اس لئے جسمانی بلوغت سے کچھ پہلے ہی ذہنی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ذمہ دار اور ذہنی طور پر بالغ طالب علموں میں سے ایک شہید محمد حیات بلوچ تھا۔

Read more

پاگل خانہ

پرانی کہانی ہے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں ایک نجومی حاضر ہو کر یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ اس ریاست کے حدود میں عنقریب بارش متوقع ہے۔ مگر جو بھی اس بارش کے پانی کو پیئے گا وہ پاگل ہو جائے گا۔ نجومی اس متوقع بارش سے پہلے کی چند نشانیاں بتا کر دربار سے رخصت ہوتا ہے۔ بادشاہ مذکورہ پیش گوئی سے فکر مند ہوجاتا ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنے وزیر سے رائے

Read more

بلوچ عورت کی مزاحمت، مہناز سے ملک ناز تک

بلوچستان کے مسائل شاذ و نادر ہی ملکی میڈیا میں جگہ پاتے ہیں۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں براجمان ملکی سطح کی کئی نامور اینکرز، لکھاری، دانشور اور تجزیہ نگاروں کی معلومات بلوچ تاریخ اور سماج کے بارے میں انتہائی سطحی، مبالغہ آرائی اور ر مفروضوں کا مجموعہ ہیں۔ تربت کے ایک این جی او میں ملک کی نامور مصنفہ اور عورتوں کے حقوق کی علمبردار محترمہ ناہید کشور سے ایک دفعہ میری ملاقات ہوئی اور جب انہوں نے بلوچ خواتین کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو مجھے ان کی معلومات پر تعجب کے ساتھ افسوس بھی ہوا۔

جب میں نے عاجزانہ انداز میں تاریخی حوالوں اور موجودہ حقائق کے پس منظر میں بلوچ خواتین کی کردار کا مختصراً احاطہ کر کے جوں ہی بات ختم کی، تو محترمہ نے بے ساختہ مجھ سے سوال کیا کہ ”یہ کتاب مجھے کہاں سے ملے گی؟“ میں نے عرض کیا کہ ”میڈم، اس حوالے سے کوئی کتاب دستیاب نہیں ہے، یہ جاننے کے لئے آپ کو تاریخی بلوچی رزمیہ شاعری کو کھنگالنا ہو گا اور بلوچ سماج کا حصہ بن کر مشاہدہ کرنا ہو گا“ ۔

Read more

تلخیوں کے زیر سایہ جوان ہونے والی نسل

بلوچی میں کہاوت ہے ”ترجمہ؛گنج ( علاقائی پودے کا انتہائی اور ناقابل برداشت حد تک کڑوا پل، جو بناوٹ و شکل میں بالکل چھوٹے خربوزy جیسا ہے ) کا پودا لگانے سے میٹھے خربوزہ پیدا نہیں ہوا کرتے“ ۔ مگر افسوس کہ بلوچستان میں یہ کارنامہ سرانجام دینے کا تجربہ ازل سے جاری ہے۔ تلخ یادوں اور تجربات کے زیرسایہ پرورش پانے والی زندگیوں میں بھی تلخی کی آمیزش انوکھی بات نہیں، بلکہ قدرتی عمل ہے۔ مگر نیم کے دانوں کی کڑواہٹ کو کم کرنے کے لئے اس میں میٹھا گڑ ڈال کر کوٹا جاتا ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تیل یا آتش گیر مادے سے نہیں۔ مگر یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔

Read more

بلوچستان میں سیاسی گٹھن سے جنم لینے والی امیدافزا ہوائیں

یہ کالم خاص کر مکران ڈویژن ( جو تین اضلاع یعنی کیچ، بنجگور اور گوادر) اور کولواہ آواران کے چند علاقوں کے حالات کے پس منطرمیں تحریر کیا گیاہے۔ یہ علاقے بلوچستان میں گزشتہ دو دہائی سے جاری کی شورش کا ایک اہم گڑھ اور سب بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح اب بظاہر مکران میں بھی امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ مگر لوگ اب

Read more