مولانا پھر بازی جیت گئے
کورونا کی وبا نے جب دنیا کو تگنی کا ناچ نچانے کے لیے چین کے صوبے ووہان سے اپنے مشن کا آغاز کیا تو وہاں پر میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور حکومتی اداروں، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور عوام کی انتھک محنت اور جدوجہد سے اسے چھٹکارا حاصل کرلیا گیا۔ اسی طرح جیسے جیسے جہاں جہاں اس وبا نے اپنے قدم جمائے، وہاں وہاں اس سے نبٹنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات اٹھائے گئے۔ جس میں لاک ڈاون کا اطلاق، زیادہ سے زیادہ کورونا کے ٹیسٹ کرنا اور وبا کا شکار ہو جانے والے لوگوں کو بہتر سے بہتر علاج کا حصول ممکن بنانا شامل تھا۔
اب لاک ڈاون کا اطلاق ہر طرح کے اجتماعی مراکز، بشمول مذہبی مراکز پر مکمل طور پر کیا گیا۔ جن میں چرچز، مساجد، مندر اور دیگر عبادت کے مراکز شامل تھے۔ حتیٰ کہ سعودی عرب نے مسلمانوں کے سب سے مقدس مذہبی مقام مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو بھی عبادت کے لیے بند کردیا۔ مذہبی مقامات پر ان پابندیوں پر اکا دکا جگہوں سے اعتراض کیا گیا۔ مگر مجموعی طور پر اس حوالے سے حالات سازگار رہے۔
مگر جس وقت اس وائرس نے ہمارے پیارے دیس کا رخ کیا تب ہم اس کے بارے میں میمز بنانے اور اس کو چین کی دنیا پر حکمرانی کرنے کے لیے تیار کی گئی سازش قرار دینے میں مصروف تھے۔ اور ہماری وفاقی حکومت بھی سندھ حکومت کے کہنے کے شور مچانے کے باوجود غفلت کا شکار ہو کر مطمن بیٹھی تھی۔ پھر جب اصلی صاحب بہادروں کا ایک اجلاس ہوا تو انھوں نے ہمارے عظیم وزیراعظم عمران خان صاحب کو کچھ سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا کہا۔ جس پر ان کی وفاقی حکومت نے کچھ اقدامات تو ضرور اٹھائے مگر خان صاحب سنجیدہ نہ ہوسکے اور لاک ڈاون کی مختلف تعریفیں بیان کرتے رہے۔ آخر تنگ آکر صاحب بہادروں نے سندھ کے بعد باقی صوبوں مِیں خود ہی لاک ڈاون کروادیا۔
اب ظاہر ہے جب یہ فیصلہ کروایا گیا تو اس کا اطلاق مسجدوں پر بھی ہونا تھا۔ پہلے پہل تو کئی علمائے کرام جن میں مفتی تقی عثمانی، مولانا خادم رضوی، مفتی منیب، علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر، ناصر مدنی اور دیگر نے مسجدوں کی بندش پر برہمی کا اظہار کیا۔ علامہ ابتسام نے تو تمام لوگوں کو مسجدوں میں آکر نماز پڑھنے سمیت کورونا کا رخ کافر ملکوں کی طرف موڑنے کی دعا بھی کردی۔ قبلہ ناصر مدنی اور خادم رضوی صاحب سمیت کئی اور نے مسجدوں میں آکر نمازیں پڑھنے کی ترغیب اپنے پرجوش خطبات میں کمال طریقے سے دی۔ مدنی صاحب سمیت کچھ کا تو سافٹ ویر اپ ڈیٹ کردیا گیا جس کے بعد وہ وضاحتی ویڈیوز میں کورونا سے احتیاطی تدابیر بتاتے نظر آئے
مرشد خادم رضوی کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے کی شاید ہمت نہیں تھی۔ پھر ہمارے صدر محترم عارف علوی صاحب نے مولانا تقی عثمانی اور مفتی منیب سمیت دیگر علماء کو بلا کر بالآخر اس بات پر قائل کرلیا کہ مسجدوں میں جماعت کو چار سے پانچ لوگوں تک محدود کردیا جائے۔ مگر اس پر نہ تو درست طریقے سے عمل درآمد ہو سکا اور نہ ہی علماء کے تحفظات دور ہوسکے۔ یہاں تک کہ مولانا فضل الرحمٰن اور سراج الحق صاحب نے بھی سلیم صافی کے پروگرام میں تشویش کا اظہار کردیا۔ کیونکہ مسجد الحرام، مسجد نبوی اور باقی تمام اسلامی ملکوں کی مسجدوں سے زیادہ مقدس شاید ہمارے ملک کی مسجدیں تھیں۔
اس سب کے بعد ہمارے پیارے کپتان نے عوام الناس سے کورونا سے نبٹنے کے لیے عطیات جمع کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے دعا کروانے کا فیصلہ کیا تو ان کی نظر اوپر بتائے کسی اور عالم دین کی بجائے اپنے محبوب اور ہمارے پیارے مولانا طارق جمیل پر جا کر ہی ٹھہری۔ اور مولانا صاحب نے بھی اپنے مخصوص انداز میں رو رو کر ہمارے ایمان دار وزیراعظم اور تمام سپہ سالاروں کے لیے ایسی لاجواب دعا فرمائی کہ سب عش عش کر اٹھے۔ اسی نے ہی پیارے کپتان کو پھر مجبور کیا کہ 23 اپریل کو کورونا کے لیے دوبارہ ہونے والی ٹیلی تھان میں پھر ہمارے ہردل عزیز مولانا طارق جمیل کو ہی دعا کے لیے مدعو کریں۔
اس موقع پر مولانا نے دعا تو جو فرمائی لیکن اس سے پہلے جو ایک بیان دیا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ جس میں سب سے پہلے مولانا نے فرمایا کہ اس وائرس سے ہم چاہ کر بھی لڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے ایک عذاب ہے۔ اور اس سے چھٹکارا صرف اللہ سے معافی مانگ کر ہی مل سکتا ہے۔ مولانا کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ چین نے بھی اس وائرس سے لڑنے کی بجائے اس پر اپنے گناہوں سے معافی مانگ کر ہی قابو پایا ہے۔ اور باقی ممالک بھی ایسا کررہے ہیں۔
پھر انھوں نے اس عذاب کی وجہ بھی بتائی کہ دراصل یہ عذاب ہم پر عورتوں کے گندے لباس پہن کر فحاشی پھیلانے کی وجہ سے مسلط کیا گیا ہے۔ اس کو مزید سمجھانے کے لیے قوم لوط پر آنے والے عذابوں کا بھی ذکر کیا۔ مولانا نے یہ بھی بالکل بجا فرمایا۔ دنیا میں اس سے پہلے آنے والی وبائیں بھی تو شاید عورتوں کی فحاشی کی وجہ سے پھیلی۔ ہاں بس جب ان کی ویکسین بن گئی تو ان سے پتا نہیں کیسے لوگ بچنا شروع ہو گئے۔ بس مولانا یہاں مثال کچھ غلط بیان کرگئے کیونکہ قوم لوط پر عذاب عورتوں کی فحاشی کی وجہ سے نہیں بلکہ شاید جو کچھ یہاں مدرسوں میں اور باقی مقامات پر بچوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اس وجہ سے آیا تھا۔ اور ہاں یہ تو ہے ہی جھوٹا پروپیگینڈہ کہ ہمارے ہاں کورونا ایران اور عمرہ سے آنے والے زائرین، تبلیغی جماعت کے اجتماعات اور ان کی سرگرمیوں اور عوام کی بد احتیاطی کی وجہ سے پھیلا۔
اس کے بعد مولانا نے تمام پاکستانیوں کے مقابلے میں جو پیارے کپتان کو سب سے سچا قرار دیا اس نے تو مجھ سمیت کتنے ہی لوگوں کے دل ہی جیت لئے۔ ہمارے پیارے کپتان سے سچا بھی بھلا کوئی ہوسکتا۔ اپنے ہر بیان سے مکر جانا ہی تو دراصل سچے پن کی نشانی ہے۔ اور پھر میڈیا اینکرز کے سامنے تمام میڈیا چینلز کو بھی جھوٹا کہہ کر جو سچ انھوں نے بولا ہے اس کی تو مثال ہی نہیں ملتی۔ ظاہر ہے جن بیچارے صحافیوں نے اپنی ڈیوٹی کرتے ہوئے اپنی جان تک گنوا دی۔ وہ سب بھی تو جھوٹے ہی تھے ناں۔ اور پھر کچھ فضول سے اینکرز کے تنقید کرنے پر مولانا نے میڈیا کے بارے میں اپنے بیان پر معافی مانگ کر اپنے بڑے پن کا کیا اعلیٰ ثبوت دیا ہے۔
اس سب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ملک کے باقی علماء چاہے جیسے بھی بیانات دے لیں، صدر صاحب کے ساتھ میٹنگز کرکے جتنے مرضی اپنے آپ کو اہم ثابت کرنے کے جتن کرلیں۔ جس طرح پچھلی حکومتوں کے ادوار میں مولانا کا ہی ڈنکا بجتا رہا، کورونا کے خلاف جنگ میں بھی بازی وہ ہی مار گئے ہیں۔ ان کے ہمارے قومی عالم میں ہونے پر ذرا برابر بھی شک نہیں رہا۔ جو لوگ ان پر فضول میں تنقید کر رہے ہیں ان کو اللہ سے غضب سے ڈرنا چاہیے۔ اور تمام ڈاکٹر حضرات کو بھی سکون سے بیٹھ جانا چاہیے کیونکہ مولانا نے گناہوں سے معافی کی دعا کروادی ہے۔ اور بس اگر ہم نے فحاشی پر قابو پا لیا تو انشا اللہ کورونا پر بھی قابو پا لیں گے۔


بودلہ صاحب امید ہے آپ خیریت سے ہونگے۔۔ٓاج پہلی مرتبہ آپکی اس ویب سائٹ کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک نظر میں تو ایسا لگا کہ سب کے سب لکھاری یہاں پر یک جا ہو کر مولانا طارق جمیل کو اس ملک سے باہر پھینک دینے کی مسشقیں کر رہے ہیں۔بہر حال آپ کی ویب سائٹ ہے آپ جو مرضی ہے لکھ دیں۔
ویسے یہ کوئی مقابلہ بنتا نہیں ہے۔ کہاں وہ بےچارہ اکیلا ایک ان پڑھ مولوی اور کہاں درجن کے درجن ذی شعور اور صاحب علم و قلم و عقل۔۔۔۔
اس ان پڑھ مولوی کو کیوں آپ لوگوں نے اتنا سر پر سوار کیا ہوا ہے۔ وہ ایک لفظ بول دے تو آپ جیسے صحافت کے بڑے سے بڑے برج اسکے خلاف ہو جاتے ہیں۔۔جناب یہ آپکو ذیب نہیں دیتا۔۔۔
جہالت چاہے دین کی ہو یا دنیا کی ہوتی بہت بری چیز ہے۔ اللہ بچائے جاہلوں سے۔
ویسے آپکی تحریروں سے آپکی جانبداری بھی خوب جھلکتی ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے، کھل کر اپنی جانبداری ظاہر کرنی چاہیے۔ کیونکہ غیر جانبداری بھی ایک طرح کا مرض ہوتا ہے جسکا کوئی علاج نہیں ہے۔
اللہ آپکو سلامت رکھے
دعا میں یاد رکھیے گا۔
برادر محترم
بجا فرمایا۔
جہالت چاہے دین کی ہو یا دنیا کی ہوتی بہت بری چیز ہے۔ اللہ بچائے جاہلوں سے۔