نیویارک میں موسمِ بہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کرونا کے ڈر سے کئی دنوں سے گھر میں دبکے رہنے کے بعد آج چمکیلی دھوپ دیکھ کر رہا نہیں گیا۔ اور باہر نکل آیا۔ کرونا کا خوف اور دہشت اپنی جگہ مگر نیویارک میں آئی بہار اپنے پورے جوبن پر ہے۔ خوش رنگ پھولوں سے لدے درخت عجب سحر انگیز نظارہ پیش کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو ماہ سے نیویارک کے دیدہ زیب پارکوں میں اداسی اپنے ڈیرے جمائے ہوئے ہے۔ اس کے سنٹرل پارک میں بھی ٹنٹوں کی صورت پورا ایک ہسپتال آباد ہے۔ لوگ ہی اپنے پارکوں اور شہروں کی رونق بڑھاتے ہیں۔ بہار تو آئی ہے مگر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ یہ کڑا وقت بھی آخر گزر جائے گا۔ اور پھر وہی گہماگہمی لوٹ آئے گی۔

آج نیویارک میں اپنی پسندیدہ جگہ لانگ آئی لینڈ سٹی میں واقع ہنٹر پوائنٹ پارک میں کچھ دیر دھوپ میں بیٹھنے کو جی چاہا تو اندر کے خوف اور باہر کے ماحول میں پھیلی سوگواری نے عجیب کیفیت طاری کیے رکھی۔

ایسے میں فطرتی شاعری کے ”کنگ“ ولیم ورڈزورتھ بہت یاد آئے۔ جن کا قول ہے کہ
”شاعری منہ زور جذبات کا بے ساختہ بہاؤ ہے۔ وہ اپنی روح کو سکون میں یاد آنے والے جذبات سے جنم لیتی ہے“۔

اسی سوگوار سی حالت میں بیٹھے بیٹھے چند الٹی سیدھی لائنیں ذہن میں آتی رہیں۔ جن کو اپنی اس پہلی نظم کی صورت میں ڈھالا ہے۔

کرونا میں سیاہ گلاب
۔ ۔
کرونا کے جان لیوا موسموں میں
جب ہر طرف رقص کرتی موت
اور بیماری کی خبروں نے
ہر سُو سراسیمگی پھیلا رکھی ہے
ایسے میں اپنی رعنائیوں پر نازاں
وفرحاں موسم بہار کے کِھلتے پھول
نیل گگن، محبت، چاندنی
سٗریلے نغمے، رم جھم برستی بارش
تتلیاں، جگنو، اور مدھر
گیت گاتی کوئلیں
کچھ بھی اچھا نہیں لگتا
اوربنی آدم کو اپنے سر وں پر
منڈلاتی موت کے خوف نے
چاروں سمت سے جکڑ رکھا ہے
وبا کے ایسے موسموں میں
لفظوں کے امرت رس
گھولتے گلابوں سے لیکر
میٹھی محبت کے سرخ گلاب بھی
سیاہ رنگ نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply