ہمیں ذہنی بندی خانوں سے نکل کر امن کا راستہ تلاش کرنا ہو گا


کرونا وبا کے موسم میں خبر ہے کہ چرند پرند اور جنگلوں میں رہنے والے جانور انسانوں کے خوف کے حصار سے نکل کر خوشی منارہے ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ اس سال ان کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اور حیرت کا مقام یہ بھی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کے عمل سے مجبوراً باز آ کر اس وبا کا مقابلہ کر نے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ۔

اس وقت پوری دنیا کو کرونا وائرس نے اپنے سیاہ پروں میں ڈھانپ رکھا ہے اور انسانوں کو اپنے پنجوں میں دبوچ کر موت کے گھاٹ اتار رہا ہے۔ جو زندہ ہیں وہ خوف سے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں اور جو مر چکے ہیں، ان کے پیارے انہیں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچا نہیں سکتے۔ غالب کی تمنا کی تکمیل ہو رہی ہے ’نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہو تا‘ ۔ اس وبا نے ایسا کہرام مچا رکھا ہے کہ کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

اس طرح کی خبریں میڈیا اور انٹرنیٹ پر مسلسل آ رہی ہیں مگر اس شور میں ایک دبی دبی سی خبر اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اٹلی کے شہر وینس کی ندیوں کا پانی دو ڈھائی سو سال بعد پہلی بار اس قدر شفاف ہو گیا ہے کہ اس کی تہوں میں پڑے سنگریزے بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ کئی جگہوں پر آسمان نہ صرف نظر آرہا ہے بلکہ اس قدر نیلا ہے جیسے نور میں نیل گھل گیا ہو۔ اور تو اور لاہور کی ہوا بھی سانس لے رہی ہے۔ شہروں میں دماغ پر ضرب لگانے والا شور خاموش ہو گیا ہے۔ آ خر وہ وبا جو انسانوں پر قہر بن کر ٹوٹی ہے وہ خلائے بسیط کے اس ننھے سے کرہ ارض اور اس پر بسنے والی ساری مخلوق کے لئے رحمت کا پیغام کیوں کر بنی؟ اس کی وجہ ہم سب جانتے ہیں۔

پانیوں اور فضا میں آلودگی پھیلانے والی فیکٹریاں، کارخانے، ملیں اور تیل پر چلنے والی گاڑیاں بند ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور کوئلے کا صنعتی استعمال بند ہے۔ جنگلوں میں شکاراور مذبحہ خانوں میں خون کم بہ رہا ہے کیونکہ انسانوں کے معدے جو مدتوں سے مردہ جانوروں کے قبرستان بن چکے ہیں انہیں آج کل تھوڑی بہت فرصت میسر ہے۔ ادسوس زندہ رہنے کے لئے ہمیں اس سب کی ضرورت نہ تھی۔ زندگی کی بنیادی ضرورت صاف ہو ا، صاف پانی، سادہ غذا اور پر سکون ماحول ہے۔ ذرا سوچئے آج کا ترقی یافتہ ا نسان جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے، جس نے اپنے علم و دانش سے ایٹم کو اپنے بس میں کر لیا ہے آخر وہ کیوں ان بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا لالچ اس کے دماغ کو ایک نقطہ یعنی ”ہل من مزید“ پر مرکوز کر چکا ہے۔ ہم اس حقیقت کو جھٹلارہے ہیں کہ اس کرہ ارض پر زندگی ایک نامیاتی کل ہے اور اس کے کسی حصے کو بھی تباہ کر نا نسلٰ انسانی کی تباہی کا سامان ہے۔ ہم ترقی اور انڈسٹری کے نام پر جو کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں وہ دراصل ہماری بد نصیبی کی داستان ہے۔

یہ زمانہ ماڈرن ازم اور انڈسٹریل ازم کے عروج کا زمانہ ہے۔ مادی ترقی اپنی انتہاوں کو چھو رہی ہے۔ انسان زمین اور مظاہرٰ فطرت کا حاکم ہے اور اپنی فتح پر نازاں ہے۔ اس کے شہر، خریداری اور لذت کام و دہن کے مراکز اپنی چمک دمک سے کسی دوسرے سیارے کی اجنبی مخلوق کو مر عوب کردیں تو حیرت کی بات نہیں کیونکہ اسے یہ خبر نہیں کہ مادی ترقی کے سنہرے سکے کے دوسری جانب غربت اور بیماری کا مہیب اندھیرا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک پچھڑے ہو ئے ملکوں کی معاشی، سیاسی اور معاشرتی پسماندگی کے ذمہ دار ہیں۔ انڈسٹریل ازم کی بنیاد ہماری دھرتی اور اس کی گود میں پلنے والی زندگی کی غارت گری اور زمین کی آغوش میں چھپی دولت کی لوٹ کھسوٹ پر اٹھائی گئی ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور انسان خسارے میں ہے۔

پسماندہ اقوام پر حیات تنگ ہے مگر ترقی یافتہ ممالک کے عوام بھی خوشگوار زندگیاں نہیں گزار رہے۔ وہ مشین کی طرح کام کرتے کرتے زندگی کا اصل چہرہ بھول چکے ہیں۔ ان کی بہت بڑی تعداد ذہنی امراض اور شدید تنہائی کا شکار ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایک بہت بڑا گروہ ہر طرح کی پسماندگی کا شکار ہے یعنی نام نہاد پہلی دنیا کے اندر اس کی اپنی ایک تیسری دنیا ہے جو موجودہ نقطہ ہائے نظر کی فطری بے انصافی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اکیسویں صدی میں جب کرہ ارض پر دولت کے انبار لگے ہیں اور ماڈرن ٹیکنالوجی نے اس دنیا کے باسیوں کو ایک دوسرے کی شہ رگ سے بھی قریب کر دیا ہے تو انسان اتنا بے یارو مدد گار اور تنہا کیوں ہے؟ ہر طرح کے وسائل ہو تے ہو ئے بھی انسان خسارے میں کیوں ہے؟ یہ لمحہ فکریہ ہے مگر افسوس کہ آج کا دور معلومات کا دور ہے، تفکر کا نہیں۔ مادہ پرستی کی دوڑ اور ایسی تعلیم کا جو صرف ذرائع معاش کے حصول کے لئے ہے، تفکر سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔

تفکر انسان کی باطنی صلاحیت ہے جسے وہ اپنے باطن کی تربیت کے نتیجہ میں حاصل کر تا ہے اور پھر یہی تفکر اس کی ظاہری اور باطنی زندگی میں مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔ افسوس ہمیں تفکر کی عادت نہیں ہے۔ حالانکہ آج کی دنیا کے مسائل ڈھکے چھپے نہیں ہیں انہیں ہر خاص وعام دیکھ سکتا ہے، پہچان سکتا ہے مگر سوائے چند اہل علم جو مغرب کے علمی اداروں میں ان موضوعا ت پر سنجیدگی سے تحقیق کر ہے ہیں اور ان میں سے معدودے چند جو نیا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی بھی ان مسائل کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتا۔

تین چار دہائیاں پہلے تو یہ مسائل موضوع گفتگو بھی نہ تھے۔ اب کچھ پڑھے لکھے لوگ ڈرائینگ روم ٹاک میں ان موضوعات پر کبھی کبھار سر سری سی بات کر لیتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو سنجیدگی اور وفاداری سے اپنے معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں موجودہ نقطہ ہائے نظر یعنی سوشل ازم، کیپٹل ازم یا ان کی ہی کسی شکل سے باہر کی سوچ نہیں رکھتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بدلے ہو ئے زمانے میں انسانی سوسائٹی کے پرانے نقشے بعینہہ استعمال نہیں کیے جا سکتے۔

ہم انسانوں کو، ہماری دھرتی ماں کو، اس کی گود میں پلنے والے حیوانات، نباتات اور جمادات سب کو امن و سکون کی ضرورت ہے۔ موجودہ نقطہ ہائے نظر پر مبنی زندگی کی روش نے جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کے پاس ان مسائل کا کو ئی حل نہیں ہے کیونکہ یہ ان کی ساخت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے ہمارے شعور کو اپنے سانچے میں ڈھال لیا ہے۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے جو حل پیش کیے جاتے ہیں وہ ایسے ہیں کہ جیسے کاربنکل پھوڑے پر بینڈ ایڈ لگا دی جائے۔

کرونا کا زور ختم ہو تے ہی اسی مہلک طرز حیات کو پھر زور شور سے شروع کر لیاجائے گا۔ کرونا کے ذریعے قدرت نے ہمیں ایک کشف دکھایا ہے کہ کیسی بھلی دنیا ہم کو دی تھی اور ہم نے اس کا کیا حال کر دیا۔ جس ٹہنی پر ہمارا آشیانہ ہے ہم اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ ہمیں اپنی بنیادی اور اشتہاری ضرورتوں کے فرق کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی بقا چاہتے ہیں تو ہمیں ذہنی بندی خانوں سے نکل کر امن کا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “ہمیں ذہنی بندی خانوں سے نکل کر امن کا راستہ تلاش کرنا ہو گا

  • 28/04/2020 at 10:22 صبح
    Permalink

    ہم اپنے ہی بنائے خواہشوں کے سکّوں کے اسیر ہو چکے ہیں، اتنے کہ افسوس مگر آپ کی یہ باتیں سن کر لوگوں کو خلائی معلوم ہوتی ہیں اور پڑھ کر بھی نہیں پڑھتے. آپ کی تحریر آج کا سب سے بڑا سچ ہے، کاش اس وبا ہی میں ذہنوں پر سے دھوئیں کی تہ ہٹ جائے. بہت شکریہ اور بہت خوب

Comments are closed.