اونٹوں والے اور میری پرنانی


اونٹ عید سے تین دن پہلے لا کر گلی میں باندھ دیا گیا، یہ یہاں ہر سال ہوتا تھا۔ گلی والے اجتماعی طور پر عید کے موقع پر اونٹ کی قربانی کرتے تھے۔ بڑا سا صحت مند اونٹ لایا جاتا، اس کے گلے میں رنگین کپڑا ڈال دیا جاتا، پیروں میں بچے گھنگرو ڈال دیتے، گلے میں گھنٹی لٹکادی جاتی۔ گلی کے ہر گھر کے بچے، لڑکیاں لڑکے، چھوٹے بڑے آکر اونٹ کو دیکھا کرتے، اسے چارہ دیتے، ایک دائرہ سا بن جاتا جس کے تقریباً درمیان میں اونٹ کبھی بیٹھا ہوتا کبھی کھڑا ہوتا۔ بچے بڑی پابندی سے روز اس اونٹ کا معائنہ کرتے۔

اونٹ کو قربان کرنے کا طریقہ عجیب وغریب تھا۔ قربانی کے وقت تین چار مضبوط قسم کے قصاب آتے، اونٹ کی گردن میں دو رسیّاں ڈال دی جاتیں اوربیٹھے ہوئے اونٹ کے ایک آگے والے پیر کو موڑ کر باندھ دیا جاتا۔ اب اونٹ اپنے تین ٹانگوں پر کھڑا تو ہوسکتا تھا مگر بھاگ نہیں سکتا تھا۔ لیکن اونٹ جیسے لحیم شحیم جانور کو لٹا کر گرا کر اس کا گلا کاٹنا کوئی آسان بات تو نہیں تھی۔ اونٹ کا کمزور ہونا بہت ضروری ہے اورکمزور کرنے کے لیے اونٹ کے گردن پر باری باری نیزے مارے جاتے۔

ہر نیزے پر اونٹ چیخ چیخ کر بین کرتا، بھاگنے کی کوشش کرتا تو گلے سے بندھے ہوئے رسے اسے روک لیتے اور تین ٹانگوں پر تو بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔ نیزوں کے لگنے سے خون رسنا شروع ہوتا اور بہتا رہتا۔ اونٹ صحرا کا جہاز، اونٹ مال و اسباب اٹھانے والا انسان کا ساتھی، بے کسی، بے بسی، بے قراری کے ساتھ چیختا ہوا ڈھپر ہوجاتا۔ کمزور دلوں والے انسان اور بچے اس مرحلے سے پہلے ہی بھاگ جاتے، بزدل کیا قربانی دیں گے۔ جیسے ہی بے بس اوربندھا ہوا اونٹ زمین پر گرتا ویسے ہی بہادر قربانی دینے والوں کا نمائندہ بڑا سا چھرا لے کر بے بس اونٹ کی گردن کاٹ دیتا۔

اس طرح سے سات جانوں کی قربانی ہوجاتی ہے، ان کے لیے جنت کا راستہ صاف ہوجاتا ہے، گلا کٹنے سے کم از کم یہ ضرور ہوتا کہ اونٹ کی چیخ پکار بند ہوجاتی ہے کہ جان جانے کے ساتھ درد کا احساس، زخم کا احساس، تکلیف کا احساس بھی ختم ہوجاتا ہے۔ قربانی کا وہ پورا منظر میرے دماغ میں ایک طویل درد کی طرح محفوظ ہے۔ اس دن کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ کبھی بھی اس قسم کی قربانی کا عینی گواہ نہیں بنوں گا۔

لیکن خلیج ٹائمز میں بقرعید کے چوتھے دن ایک چیختے ہوئے چنگھاڑتے ہوئے درد و کرب سے مضطرب و بے قرار اونٹ کی تصویر دیکھ کر مجھے وہ سب کچھ یاد آگیا، کراچی کے برنس روڈ پر ہر سال ہونے والی اونٹ کی قربانی کی تصویر خلیج ٹائمز میں نمایاں جگہ پر چھپی تھی۔

٭٭٭     ٭٭٭

مجھے اپنی پَرنانی بھی یاد آگئیں۔ ان کا پہلا دن کراچی میں ان کی پہلی شام کراچی میں اور ان کی پہلی رات کراچی میں۔ وہ مشرقی پاکستان سے آئی تھیں، بنگلہ دیش بننے کے سات ماہ بعد۔

چھوٹا سا قد تھا ان کا، سفید براق سا چمکتا ہوا چہرا، سارے سر پر گھنے سفید چاندی سے بال، قدرتی طور پر اُگی ہوئی پتلی سی بھنویں جو بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کے اوپر قمقمے کی طرح چمکتی تھیں۔ میں اکثر سوچتا، پَرنانی جان اپنی جوانی میں کتنی خوبصورت ہوں گی۔

وہ میری امی کی نانی تھیں میں اپنی امی سے زیادہ اپنی نانی سے فری تھا۔ ان سے ہر طرح کی بات کرنا، ان سے الجھنا، ان سے لڑنا، ان سے شرارتیں کرنا، ان سے ناراض ہونا، ان کو ناراض کرنا، ان سے سننا اور پھر ان کو منانا یہی سب کچھ ہوتا رہتا تھا۔ وہ کئی معاملات میں میری رازدار بھی تھیں اور بہت سے موقعوں پر میری مدد گار بھی، میں ان سے ہر طرح کی بات بغیر کسی تردد کے کرلیا کرتا تھا۔

ایک دن میں نے ان سے پوچھ لیا کہ نانی اماں پَرنانی جان تو بڑی خوبصورت ہوں گی، اپنے زمانے میں صحیح ہے ناں؟

بہت خوبصورت تھیں۔ نانی جان نے بڑے فخر سے کہا، جیسے کوئی ماں اپنی بیٹی یا بیٹے کی خوبصورتی کا ذکر کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ خوبصورت تھیں بلکہ بہت مضبوط بھی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس عمر میں آکر بھی وہ میری امی کی اماں تو لگتی تھیں لیکن میری نانی کی اماں نہیں بلکہ چھوٹی بہن لگتی تھیں۔ کچھ تھا ان میں۔ پوری ذات ہشاش بشاش۔ بڑھاپے کے باوجود سیدھا تنا ہوا جسم، چھوٹے قد کے ساتھ سفید ساری میں ایک عجیب قسم کا elegence تھا ان کی چال ڈھال میں۔

ساری زندگی انہوں نے لڑتے ہوئے گزاری، چھ بچوں کی ماں بنیں اور جب بچے چھوٹے ہی تھے تو پَرنانا کا انتقال ہوگیا، وہ بڑے زمیں دار تھے اور بڑے زمیں دار کی بیوہ کے ساتھ جبکہ وہ خوبصورت بھی ہو تو یہ سماج پرانا ہو یا نیا، اسلامی ہو کہ غیر اسلامی، مذہبی ہو کہ غیرمذہبی سب ایک ہی طرح کا سلوک کرتا ہے۔ قریبی رشتہ دار، کسی نہ کسی بہانے سے زمین و جائداد پر قبضہ کرلینا چاہتے ہیں، دور کے رشتہ دار کوئی رشتہ نکال کرزمین و جائداد کا نظام چلانے میں مددگار بن کر سب کچھ ہضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاندان اور خاندان کے باہر سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے، کوئی عزت لوٹنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ خاندان کے بوڑھے رشتہ داروں کو بھی یکایک سرپرستی کا خیال آجاتا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے دنیا کا نظام اس طرح سے ہی چل رہا ہے۔

ان کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے کی کوشش ہوئی۔ مجھے نانی اماں نے یہی بتایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے پَرناناکے مرنے کے دوسرے دن ہی عدّت پر بیٹھنے سے انکار کردیا، کہتے ہیں کہ پَرنانا کے ہاتھ میں ایک لاٹھی ہوتی تھی جسے وہ ہمیشہ اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے۔ ابھی تعزیت کرنے والے بین کرنے والے، سوگ کا سماں بنا ہی رہے تھے کہ انہوں نے پَرنانا کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں پکڑ کر منشی جی کو بلوایا اور بالکل پَرنانا کے انداز میں ہی زمینوں کی تفصیل پوچھنے بیٹھ گئیں، پانی کی ترسیل پر بات کی، مویشیوں کے چارے کا حساب پوچھا، کسان مزدوروں کی تنخواہوں کی تفصیلات پر الجھیں کی، غلّے اور پھل سبزیوں کا حساب مانگا۔ وہ سب کچھ اسی انداز اور اطوار سے کیا جو پَرنانا کا طریقہ تھا۔

سب ششدر رہ گئے۔ رشتہ داروں کو جو اپنے دماغ میں نت نئے منصوبے بنارہے تھے، جیسے سانپ سونگھ گیا۔ ایسا تو آج تک نہیں ہوا، ایسا تو کسی نے نہیں کیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ عدت پر تو بیٹھنا ہوگا، یہی تو وہ وقت ہوتا ہے جب بڑے زمیں دار کی بیوی کو عدت پر بٹھا کر اسے مرے ہوئے شوہر کے ساتھ آدھا مار کر منظر سے ہٹا کر مضبوط زمیں دار اپنا اپنا علاقہ اور درجہ بڑھا لیتے ہیں، پانی کے منبع پر قبضہ کر لیتے ہیں، مویشی ریوڑ کو بھگوا دیتے ہیں کھلیان میں آگ لگ جاتی ہے، چوری ہو جاتی ہے اور سرکاری کارندے کسی پرانے جھگڑے کے کاغذات یا آبیانے کا کوئی مسئلہ لے کر آجاتے ہیں۔ ایک ساتھ بہت ساری مصیبتیں آکھڑی ہوتی ہیں، پھر مدد کرنے کے بہانے سے وہ سب کچھ ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔

چھوٹے سے گاؤں کی چھوٹی سی مسجد کے معمولی سمجھ بوجھ کے امام صاحب نے پَرنانی کی عدت کے بارے میں کسی سے کچھ کہہ دیا جس کی انہیں بھنک پڑگئی۔ انہوں نے بڑی سمجھداری کے ساتھ اسی وقت منشی صاحب کو بھیج کر انہیں بلایا اور بتادیا کہ اگر وہ عدّت پر بیٹھ گئیں تویہ سارے بچے تو ابھی صرف یتیم ہوئے ہیں وہ صرف بیوہ ہوئی ہیں، تھوڑے دنوں میں وہ سب کے سب فقیر کے ساتھ ساتھ بے سہارا اور بے مکان بھی ہو جائیں گے۔ لہٰذا امام صاحب کو اپنے مسجد کے کام میں رہنا چاہیے، بچوں کوقرآن پڑھانا چاہیے، پانچ وقت کی نماز پڑھانا چاہیے اور ان کے کام میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں پتہ ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ اللہ رسول کا کیا حکم ہے اور یہ بھی کہ مولوی صاحب کی جنت جہنم سے ان کی جنت جہنم جدا ہے۔ انہوں نے منشی صاحب سے امام صاحب کے سامنے ہی کہا تھا کہ ان کا ماہانہ وظیفہ بڑھا دیا جائے۔ امام صاحب نے پھر کبھی بھی کچھ کہا نہیں، کیا نہیں۔

پَرنانی نے ہر ایک سے مقابلہ کیا اور اردگرد کے رشتہ دار، دوست جاننے والے ساہوکار نئے پرانے دشمن ہر قسم کے لوگوں کو تو ایسا ہی لگا جیسے پَرنانا کی موت واقع ہی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے زمینیں سنبھال لیں، بچوں کو پڑھانا شروع کردیا اورمنشی صاحب کے ذریعے سے ہر کام اسی طرح سے ہونے دیا جیسے نانا کرتے تھے۔

کہنے والے تو کہتے ہیں کہ انہوں نے نانا سے بھی اچھی زمیں داری کی۔ وہ نانا کی طرح مذہبی نہیں تھیں، ان میں کوئی رعونت نہیں تھی، ان کی کوئی جھوٹی انا نہیں تھی، وہ اوپر والے سے ڈرتی بھی نہیں تھیں اور اپنے سے نیچے والوں کو ڈرایا بھی نہیں۔ وہ اوپر والے کو مہربان سمجھتی تھیں، اس کی شکرگزار تھیں اور ہمشہ اچھی دعائیں مانگتی تھیں، رحم کی دعائیں، کرم کی دعائیں۔ وہ نیچے والوں پر مہربانی ہی کرتی تھیں، کسی ضرورت مند مزارعے کا قرض معاف کردیا، کسی کی بیٹی کی شادی کرادی، کسی کے بچے کے تعلیم کی ذمہ داری لے لی۔

لیکن اوپر والے نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، ایک دن نانی جان نے بڑے دکھ سے کہا تھا۔ جب پاکستان بننے لگا تو دو بیٹوں کا قتل ہندوؤں نے کردیا، آج تک پتہ نہیں لگا کہ وہ لاشیں کہاں گئیں۔ یہ معمولی غم نہیں تھا، بیوہ کے دو جوان ہوتے ہوئے بیٹے قتل ہوجائیں تو کمر ٹوٹ جاتی ہے، نہ جانے اس پہاڑ سے غم کو کیسے انہوں نے جھیلا۔

یہ پاکستان کے لیے، مسلمانوں کے الگ ملک کے لئے اسلام کے لئے، پہلی قربانی تھی ان کی۔

پاکستان بننے سے پہلے انہوں نے نانی اماں اورنانی اماں کی چھوٹی بہن کی شادی کردی تھی۔ نانی اماں نانا ابا کے ساتھ مغربی پاکستان آگئیں اور چھوٹی نانی چھوٹے نانا کے ساتھ مشرقی پاکستان چلی گئیں۔ پَرنانی اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ گاؤں میں ہی رہیں جہاں انہوں نے زمیں داری سنبھال لی تھی۔ کبھی بھی پاکستان جا کر رہنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا ان لوگوں نے بنگلہ دیش بننے سے پہلے ذرا ہندوستان سے پَرنانی مشرقی پاکستان اپنی دوسری بیٹی سے ملنے گئیں جہاں سے ان کا کراچی آکر ہم لوگوں سے ملنے کا پروگرام تھا پھر وہ مغربی پاکستان سے ہی واپس ہندوستان چلی جاتیں۔

مگر قسمت میں کچھ اور لکھا تھا، مشرقی پاکستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے، خون کی بارش شدید تھی اوراس بارش میں پَرنانی کی دوسری بیٹی، داماد اور دو بچوں کا خون بھی شامل تھا۔ وہ رات وہ کبھی بھی نہیں بھولیں۔ رات گیارہ بجے وہ لوگ آئے، مکتی باہنی کے لوگ۔ پرنانی اور ان کا بڑا نواسہ گھر پر ہی تھے۔ اوپر کی منزل پر حسن ماموں پرنانی کا بستر لگارہے تھے کہ نیچے سے آوازیں آئیں اس سے پہلے کہ وہ دونوں نیچے آتے گولیاں چلی تھیں اور وہ چاروں موت کے گھاٹ اُتاردیئے گئے کیونکہ وہ بہاری تھے۔ بنگلہ زبان نہیں بولتے تھے، پاکستان کے ایجنٹ تھے۔ نانی اور نواسے نے گھر کی اوپری منزل کے چھت پر چھپ کر لیٹے لیٹے جان بچائی تھی۔ نیچے گھر لٹ گیا اور گھر والے موت کے گھاٹ اُتاردیئے گئے۔ وہ رات ان کی زندگی کی طویل ترین رات تھی۔ یہ پاکستان کے نام پر ان کی دوسری قربانی تھی ایک نہیں کئی جانوں کی قربانی۔

کچھ لوگ صرف قربانی دینے کے لیے پیدا ہوتے یہں۔ تمام زندگی جانوں کا نذرانہ دیتے ہیں، خون کی لالی سے دوسروں کی شامیں بنتے ہیں اور آہوں سسکیوں سے اپنی صبح جگاتے ہیں ان کا شمار اسی طرح کے لوگوں میں ہوتا تھا۔

مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کے فوراً بعد پَرنانی کو لے کر ان کے بچے ہوئے بڑے نواسے جو کچھ مال متاع سمیٹ کر لاسکے تھے لے کر کراچی آگئے اور ہمارے گھر میں ہی رہے، امی جان اورابو نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ سالوں کے بعد وہ اپنی بیٹی اور ہماری نانی سے ملی تھیں۔

میں نے اپنی آنکھو ں سے دیکھا اورکانو ں سے سنا، لٹے ہوئے دل شکن ماں بیٹی کا ملاپ جن کے بیٹے بھائی بہن یکے بعد دیگرے قتل ہوتے گئے، لٹتے گئے، ایسی منزل کے لئے جو شاید کبھی تھی ہی نہیں، جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ جس کی وہ مسافر بنی بھی نہیں تھیں۔

ہماری نانی پاکستان آنے کے تیرہ سال بعد بیوہ ہوگئیں، بڑے ماموں نے گھر کو سنبھالا تھا، پَرنانی ہندوستان سے روپے بھیجتی رہیں، تینوں ماموؤں نے تعلیم مکمل کی، امی کی شادی فوراً کردی گئی، ان کے لئے بھی پَرنانی نے ہی ہندوستان سے جہیز کے پیسے بھجوائے تھے۔ ابو کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ قیمتی تحفے بھی وہ بھیجتی رہتی تھیں۔ پَرنا نی لڑرہی تھیں، دنیا سے سماج سے اور نانی جان ایک روایتی بیوہ ہوکر رہ گئیں تھیں۔ یہ بڑا فرق تھا دونوں ماں بیٹی میں۔

کتنی مختلف تھیں وہ دونوں ماں بیٹیاں، ایک میری نانی اور ایک میری ماں کی نانی۔ پَرنانی کے دو بیٹے ہندوؤں نے ماردیے، ایک بیٹی کراچی میں بیوہ ہوگئی، ایک بیٹی اورداماد دو بچوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں قتل ہوگئے، ساری زندگی انہوں نے دُکھ اٹھائے، قربانیاں دیں، پر انہوں نے خدا سے شکوہ نہیں کیا۔ سارے شکوے نانی اماں کے تھے، دونوں کی زندگی سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ ہر وقت کا شکوہ اور ہر وقت کا احساس بے چارگی انسان کو کتنا بے لطف بنادیتا ہے۔

ہمارے ابا انہیں حج کرانا چاہتے تھے، عمرہ پر لے جانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے ان کے پیسوں پر حج کرنے سے صاف منع کردیا۔ نہیں بیٹے داماد کے پیسوں سے حج عمرہ جائز نہیں ہے۔ ہندوستان سے بڑی پابندی سے امی کے ماموں ان کے لیے پیسے بھیجتے اورپَرنانی انہیں اپنے ہی انداز میں خرچ کردیتیں۔ ان کے مرنے کے بہت دنوں بعد امی نے بتایا کہ دو دفعہ انہوں نے حج کا پروگرام بنایا اور سارے انتظامات مکمل بھی ہوگئے، ویزا بھی لگ گیا، ٹکٹ بھی لے لیے گئے لیکن عین موقع پر انہیں کچھ غریب رشتہ داروں کی بیٹیوں کی شادی کی خبر ملی اورانہوں نے ٹکٹ واپس کروا کر ان کے جہیز کے لیے روپے مہیا کردیئے۔

لاوارث بے سہارا لڑکیوں کی شادی کرنے کو وہ حج سے بھی زیادہ افضل سمجھتی تھیں آج کے عالم تو شاید ان کی بات نہ سمجھیں۔ کوئی روایت حدیث لے آئیں گے مگر انہوں نے دنیا دیکھی تھی انہیں پتہ تھا کہ جوان بچی کی غریب ماں کا کیا دکھ ہوتا ہے۔ اس موقع پر ابو نے کہا بھی کہ وہ اُدھار لے لیں جب ہندوستان سے ان کے پیسے آئیں گے تو واپس کر دیجئے گا۔

نہیں بیٹے موت کا کیا بھروسا، مجھے قرض دار نہیں مرنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔
اماں اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو میں معاف کردوں گا حج تو کرلیں۔ ابو نے سمجھانے کی کوشش کی۔
نہیں بیٹے معاف تو بعد میں کرو گے میں تو قرض خوار ہی مرجاؤں گی۔ یہ جواب تھا ان کا۔

ہماری پَرنانی نے اوپر والے کی کبھی شکایت نہیں کی، شاید ان کی محبت میں شکایت تھی ہی نہیں۔ صرف اطاعت تھی، اندر سے ایک لگن تھی محنت کرنے کی، اچھا کام کرنے کی، کام آنے کی، انہیں میں نے کبھی نماز پڑھنے کے لیے بے چین نہیں دیکھا لیکن یہ ضرور دیکھا کہ گھر میں آنے والے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بے چین رہتی تھیں۔ گھر کے بچوں سے، نوکروں سے، نوکروں کے بچوں سے، ہر ایک سے پیار تھا ان کو۔ پرندوں کے لیے باجرہ ڈالنا ہے، کھانا پھیکنا مت گلی کے کتے کے لیے باہر ڈال دو، میری چھوٹی بہن نے خرگوش اور بلی پالی تو اس کے پانی اورکھانے کا خیال ان کو رہتا۔ رشتہ داروں کے گھروں میں قید چڑیوں طوطوں کو دیکھ کر بے قرار ہوجاتی تھیں وہ خود آزاد رہیں تو انہیں قید جانور کیسے اچھے لگتے۔

جب اوپر والا میرا خیال کرتا ہے تو میں ان کا خیال کیوں نہ کروں، یہ زیادہ ضروری ہے میرے لیے۔ ایک دن انہوں نے نانی کو بھی ڈانٹ دیا جو اپنی ماں کو نماز پڑھانا چاہ رہی تھیں۔ جب وہ مشرقی پاکستان سے آئیں تو ہم لوگ ملیر میں رہتے تھے، ملیر ندی کے پل سے پہلے ملیر کے مندر سے فوراً بعد تھوڑا پہلے ایک پرانی سی عمارت میں جس کے آگے ایک بڑا سا کمپاؤنڈ تھا، جس میں ابو نے بڑا سا لان اور پیڑ پودے لگائے ہوئے تھے، یہ عمارت کسی ہندو بنیے کی تھی جو دادا کو کلیم میں ملی تھی، پرانے کراچی کا ٹھنڈا مکان، جعفری کے دروازوں والا بھٹی کی اینٹوں کے دیواروں والا اور لال کھپریل کے چھتوں والا۔ کشادہ ہوا دار جیسے گھر ہونے چاہئیں۔

کراچی میں ان کی وہ پہلی رات تھی۔ دن بھر رشتہ دار ان سے ملنے آتے رہے اور اب وہ لان میں بچوں کے درمیان جمی بیٹھی تھیں اور ان کے ساتھ ہی پَرنانا ابا کی لاٹھی بھی رکھی ہوئی تھی۔ شاید ساڑھے آٹھ یا نو بجے ہوں گے جب باہر سے گھنٹیوں کے بجنے کی آوازیں آنی شروع ہوئیں، روز کا یہی وقت ہوتا تھا، ملیر کے کھیتوں میں اُگی ہوئی سبزیاں پچیس تیس اونٹ گاڑیوں پر لاد کر کراچی کی سبزی منڈی بھیجی جاتی تھی، یہی روز کا معمول تھا۔ ملیر کے کسان اور ملیر کے کھیت کراچی کی ضروریات کا بڑا حصہ اُگاتے تھے، ٹن ٹن کرتی ہوئی اونٹ گاڑیوں میں ساربان سوتے رہتے اور اونٹ رات گئے انہیں سبزی منڈی پہنچادیا کرتے تھے۔

پَرنانی اس آواز سے چونک گئیں۔

یہ کیا ہے بیٹا، انہوں نے پوچھا۔

میں نے انہیں بتایا کہ اونٹ گاڑیاں سبزیاں لے کر کراچی جارہی ہیں۔

اچھا، انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا اور نہ ہی اندازہ تھا کہ مشرقی پاکستان اورہندوستان کے صوبہ بہار میں اونٹ نہیں ہوتے۔ ان کے چہرے پر عجیب قسم کی حیرت اور ایک عجیب طرح کا ایکسائٹ منٹ اور حیران کردینے والی جستجو تھی۔ آنکھوں میں ایسی چمک میں نے کبھی بھی نہیں دیکھی تھی۔ میں ان کے حیران چہرے کو حیرت زدہ ہوکر دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ آناً فاناً اپنی لاٹھی کو پکڑ کر بڑی چوکسی کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں اور تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھتی چلی گئیں۔

ہم سارے بچے ان کی تیزی پر حیران ہوکر ان کے پیچھے پیچھے گیٹ پر آگئے۔ وہ منظر میں آج تک نہیں بھول سکا ہوں۔

انہوں نے اپنا ڈنڈا گیٹ کے پلر کے ساتھ ٹکا دیا تھا، دونوں ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے تھے، گیٹ پر لگے ہوئے سفید ٹیوب لائٹ کی روشنی ان کے چہرے پر جیسے نور کی برسات برسارہی تھی جس نے ان کے چہرے کی چھوٹے بڑے جھریوں کو ایک عجیب سا رنگ د ے دیا تھا۔ دمکتا چمکتا ہوا چہرہ اور ان کی بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھیں پھیلی ہوئی ایک ہی سمت مرکوز تھیں۔ وہ آنکھیں پھاڑے ساکت اونٹوں کے قافلے کو تک رہی تھیں۔

کیا ہوا نانی جان میں نے پوچھا، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جیسے کسی نے ان کی زبان بند کردی ہو اور ہونٹوں پر تالے لگا دیے ہوں۔ ہم سب بچے حیرت سے ان کے فق چہرے کو تک رہے تھے۔

جب آخری اونٹ گاڑی بھی سامنے سے گزر گئی تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی ساری کے پلو سے اپنی آنکھیں خشک کی پھر بڑے پیار سے گزرتے ہوئے اونٹ گاڑیوں کے رستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

بیٹا ان اونٹوں کے دادا کے نانا کے دادا کے نانا کے نانا کے دادا کے دادا کے اوپر حضور بھی بیٹھے ہوں گے۔

میں حیران ہوگیا اور آج تک حیران ہوں۔

آج بھی اکثر ان کا وہ عقیدتوں بھرا تمتماتا، جگمگاتا، سنسناتا چہرہ میری نظروں کے سامنے آجاتا ہے تو مجھے جیسے ایک عجیب سا کرنٹ سا لگتا ہے۔

وہ دس سال مزید زندہ رہیں اور زندگی کا ہر وہ دن، ہر وہ شام جب وہ ملیر میں رہیں رات کو مخصوص اس وقت پہ اسی احترام سے ان اونٹوں کودیکھتی رہیں، جن کے دادا کے نانا کے دادا کے نانا کے نانا کے دادا کے دادا کے اوپر حضور بیٹھے ہوں گے۔

خلیج ٹائمز کے صفحے پر شہید ہوتے ہوئے اونٹ کی تصویر دیکھ کر اس دن پَرنانی بہت یاد آئی تھیں۔

Facebook Comments HS