وزارتِ صحت کی کرپشن پر خاموشی کیوں؟


یہ نومبر 2019 کی بات ہے، جب تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کو ایک آرڈیننس کے ذریعے ختم کر دیا اور اس کی جگہ ایک نیا ادارہ پاکستان میڈیکل کمیشن قائم کیا گیا۔ پی ایم ڈی سی کے ملازمین اس آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ گئے، ہائی کورٹ نے یہ آرڈیننس ختم کر کے پی ایم ڈی سی بحال کر دی اور پی ایم سی کو کام کرنے سے روک دیا۔

حکومت نے پی ایم سی کو بند کر دیا، لیکن کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی بلڈنگ میں پی ایم سی کا دفتر قائم کر دیا۔ تمام ڈاکٹرز، میڈیکل طلبہ کو کہا گیا کہ وہ اپنے معاملات کے لیے اس دفتر سے رجوع کریں (حالانکہ یہ دفتر ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد غیر قانونی تھا) ۔

اسی اثناء میں، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کا رزلٹ آ گیا۔ جتنے بھی فریش گریجوائیٹس تھے، انہیں ہاؤس جاب کے لیے پروویژنل لائسنس کی ضرورت تھی، جو کہ پی ایم ڈی سی نے جاری کرنا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ابھی تک پی ایم ڈی سی کو کھولا نہیں گیا تھا۔ تمام فریش گریجوائٹیس کو کہا گیا کہ وہ لائسنس کے لیے اس دفتر میں اپنے فازمز جمع کروا دیں، لائسنس کے حصول کے لیے فی کس 1000 روپے فیس جمع کروانا ہو گی۔

جب فریش گریجوایٹس فارم جمع کروانے اس دفتر گئے، انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر پی ایم ڈی سی دوبارہ کام کرنے لگ گئی تو یہی فارم اور فیس ادھر ٹرانسفر کر دی جائے گی، اگر انٹرکورٹ یا سپریم کورٹ نے پی ایم سی کو بحال کر دیا تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔

سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی کو اس کی اصل حالت میں بحال کر دیا اور جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں نئی کونسل تشکیل دے دی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ، کہ ان تمام فریش گریجوایٹس نے لائسنس کے لیے پی ایم سی آفس میں فارم اور فیس جمع کروائی تھی، وہ پی ایم ڈی سی میں ٹرانسفر ہوتی (جیسے کہا گیا تھا) لیکن بدقسمتی سے ایسا نا ہوا۔ بحالی کے بعد پی ایم ڈی سی نے پریس ریلیز جاری کیا کہ تمام فریش گریجوایٹس ہاؤس جاب کے لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ فارم اور فیس جمع کروائیں۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً بیس ہزار نئے ڈاکٹرز نے لائنسس کے لیے پی ایم سی میں فارم جمع کروائے تھے۔ اگر ڈرافٹ بنوانے کی فیس جمع بھی کریں تو تقریباً ہر ڈاکٹر نے پی ایم سی کے آفس میں فارم جمع کروانے کے لیے 1500 روپے دیے، اس حساب سے 20 ہزار ڈاکٹرز نے کوئی تین کروڑ روپے پی ایم سی میں جمع کروائے۔

فریش گریجوائٹس کے یہ تین کروڑ کہاں گئے، کہاں خرچ ہوئے کوئی نہیں جانتا۔ جو لوگ دور دراز علاقوں سے اسلام آباد فارم جمع کروانے آئے، وہ خرچہ علیحدہ ہے۔

سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ، تمام ڈاکٹرز کو اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آپ کے پیسے ضائع نہیں ہوں گے، تو یہ یقین دہانی پوری کیوں نہیں کی گئی؟ وہ پیسے کہاں گئے؟ پی ایم سی کا وہ دفتر، جس نے پیسے لیے، وہ وزارت صحت کے ماتحت تھا، وزارت صحت اس معاملہ میں چپ کیوں ہے؟

ڈاکٹرز پہلے پی ایم سی فارم جمع کروانے اسلام آباد گئے، اب وہ دوبارہ فارمز جمع کروانے پی ایم ڈی سی جائیں۔ کرونا کی وجہ سے ویسے ہی پابندیاں ہیں اور کورئیر کمپنیاں منہ مانگے دام وصول کر رہی ہیں۔ تمام فریش گریجوائٹس کی حق حلال کمائی پر دن دھاڑے ڈاکا مارا گیا، کسی کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔

وذرات صحت نے دن دھاڑے، تین کروڑ سے زائد کا غبن کیا ہے۔ میں حیران ہوں، نیب جو پچاس لاکھ کی کرپشن پر ریفرنس دائر کر دیتا ہے، وہ اس معاملے میں چپ کیوں ہے؟ تحریک انصاف کا تو نعرہ ہی کرپشن کے خلاف جنگ تھا، اب وزارت صحت نے جو یہ کرپشن کی ہے، اس کا جواب کون دے گا؟

میری وزیراعظم عمران خان، سے درخواست ہے کہ وہ اس سنجیدہ معاملے پر اپنے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مزرا سے جواب طلب کریں۔ تمام ڈاکٹرز کی جیب پر ڈاکا ڈالنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے۔ چیف جسٹس، جسٹس گلزار اس بات کا نوٹس کب لیں گے؟

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل جسٹس (ر) اعجاز افضل سے بھر خصوصی درخواست ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔ جن ڈاکٹرز نے لائسنس کے لیے فیس دوبارہ بھری ہے، ان کو ان کی پہلی فیس واپس کی جائے یا کسی اور طریقے سے ان کے نقصان کی تلافی کی جائے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر شافع صابر

ڈاکٹر شافع صابر سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں، آرتھوپیڈک سرجری میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کر رہے ہیں

shafay-sabir has 70 posts and counting.See all posts by shafay-sabir