عیشال کے خون ناحق سے لال لال فرش اور غم سے نڈھال والدین


پشاور کے علاقے تہکال کے ایک بد قسمت مکاں کی گڑیا کا نام عیشال تھا یا عشال، اب دو نقطوں کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس کے روزہ دار اور خوددار چچا نے اسے حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہے۔ آٹھ سالہ عیشال کی معصوم شرارتیں روزہ دار چچا کی نیند میں خلل ڈال رہی تھیں۔ سو اسے ابدی نیند سلانا لازم تھا۔ اس کے خوشی سے بھرپور قہقہے ہر وقت برا فروختہ رہنے والے چچا کی سماعتوں پر گراں گزر رہے تھے۔ سو ان قہقہوں کو خاموش کرانا ضروری تھا۔ اس کی دھما چوکڑی اور اٹکھیلیاں چچا کے روزے کو کچو کے لگا رہی تھیں۔ اس لیے انہیں روکنا ضروری تھا۔

ادھر چچا کی پستول سے گولی نکلی ادھر ماں کے لبوں سے آہ نکلی۔ ماں اسے چھت سے نیچے بلاتی رہی مگر چچا نے تو اسے زمین سے بھی چھ فٹ نیچے پہنچا دیا۔ عیشال کا شور تو یک دم ختم ہو گیا مگر اس کے بعد شور قیامت برپا ہو گیا۔ خون میں لت پت ننھی پری نے حرماں بخت ماں کے بازٶوں میں جان دے دی اور عیشال کے شور سے نالاں رہنے والے روزہ دار چچا کو سکون مل گیا۔

آج سے صدیوں پہلے عرب کے سنگدل اور بے رحم قبائلی جب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرتے ہوں گے تو آخری وقت میں ان ظالموں کا دل بھی کچھ پسیج جا تا ہو گا۔ ان کی قبریں کھودتے ہوئے جب اپنے انجام سے بے خبر مٹی کے گھروندے بنا کر کھیلتی بنت حوا کے معصوم چہرے پر دلکش ہنسی دیکھتے ہوں گے تو ایک بار ان کا کلیجہ بھی منہ کو آ جاتا ہو گا۔ جب انہیں قبر میں اتارتے ہوں گے تو اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتے ہوں گے۔ جب مٹی ڈالتے ہوں گے تو ان کی پیشانیاں بھی عرق ندامت سے معمور اور آنکھیں اشک بار ہوتی ہوں گی۔

مگر یہ کیسا سفاک اور پتھر دل چچا تھا کہ اپنی پھول جیسی بھتیجی کے سینے پر گولی چلاتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں ذرا بھی لرزش نہیں آئی۔ اس کی روح ذرا بھی نہ کانپی۔ اس درندہ صفت روزہ دار نے سیدھی گولی اس کے سینے میں اتار دی۔ اس ظالم کا کلیجہ تو ٹھنڈا ہو گیا مگر یہ روح فرسا خبر سن کر ہر ایک کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ پھول کی نرم و نازک پتی پر بھی کوئی اتنی بے باکی اور سفاکی سے گولی چلا سکتا ہے؟ اب کے بولی تو سیدھی ماروں گا سینے میں گولی۔

ماں نے سمجھایا بھی تھا کہ تیرے چچا کا روزہ بڑا کرارا اور سر پھرا ہوتا ہے۔ وہ ہر رمضان میں ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسے روزہ بہت سخت لگتا ہے۔ باہر جاتا ہے تو دو چار سے بھڑ آتا ہے۔ گھر آتا ہے تو غصے سے بے قابو ہو کر کبھی کسی کو تھپڑ مارتا ہے کبھی کسی کو لات رسید کرتا ہے۔ کبھی بیوی کو پیٹتا ہے کبھی بچوں کو ڈانٹتا ہے۔ رمضان میں تو اوپر نہ جایا کر۔ عیشال نے ماں کی سنی ان سنی کر دی اور چچا نے اسے اوپر پہنچا دیا۔

بچوں کی شرارتیں، چہلیں، ہنسی کھیل اور شور و غوغا کب کسی پابند ی کو قبول کرتا ہے؟ معصوم گڑیا نے کب سوچا ہو گا کہ چچا کا روزہ اتنا بھاری ہو گا کہ میری جان پر ہی بن آئے گا؟

عیشال نے اوپر جا کر اپنے خون ملے چہرے کے ساتھ یہ دہائی ضرور دی ہو گی کہ اے رب کائنات! اگر میرا نازک و نحیف وجود روزہ داروں کو اتنا ہی کھلتا اور پرہیز گاروں کے پارسا دامن کو اتنا ہی داغدار کرتا ہے تو مجھے کائنات کا بوجھ بنا کر دنیا میں بھیجتا کیوں ہے؟ شعر میں معمولی تحریف کے ساتھ

پھول دیکھے تھے جنازوں پر ہمیشہ شوکت
کل میری آنکھ نے اک پھول کا جنازا دیکھا

Facebook Comments HS