نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا


بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی فی الوقت کسی ایک ملک کا مسلئہ نہیں ہے۔ دنیا کے جتنے بھی ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک ہیں ان سب کے مسائل کم وبیش یہی ہیں اور ایک مدت سے ان مسائل کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا یا پھر ان کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ کورونا وبا سے پہلے اس جدید ترین دنیا میں بھی انسان قابل علاج بیماریوں کے باوجود علاج نا ہونے کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں مگر یہ المیہ نہیں ہے المیہ تو یہ ہے کہ ان اموات کو بھی تقدیر کا نام دے کر مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا۔

پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر آج بھی انسان پینے کے صاف پانی، باعزت روزگار، بنیادی تعلیم کے حصول اور جان ومال کے تحفظ کے لئے سسک رہا ہے۔ مگر سات دہائیوں سے یہی چند چیزیں اس کو حاصل نہیں ہوسکیں۔ ہر تخت نشین ہونے والے جمہوری حکمران نے کہا کہ اس کو سابق حکمرانوں کے بھاری قرضے، بدترین تباہ حال معیشت اور کروڑوں غریب ورثے میں ملے ہیں اور وہ ان کی بہتری کے لئے کوشش کررہا ہے اورانکی یہ کوشش صرف اور صرف عالمی مالیاتی اداروں سے نئے قرض کے حصول تک محدود ہوتی ہے اورنتیجہ یہ کہ ملک قرض کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔

اس بات کا اقرار کرلینا چاہیے کہ موجودہ حکمرانوں کو بیمار معیشت ورثے میں ملی قرضوں کا نا اٹھنے والا بوجھ ملا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف انہی کو ملا ہے اس سے پہلے جو حکمران تھے ان کو بھی تو قرضے ورثے میں ملے تھے اور اس سے پہلے جو تھے ان کو بھی ایسا ہی ورثہ ملا تھا۔ تو پھر کس کو مورد الزام ٹھہرائیں؟ کس کو دہائی دیں؟ اپنی مناجات میں ایسے کون سے لفظ اداکریں جس سے ہماری مشکلات میں کمی ہو۔ اور ویسے بھی عام آدمی کی زندگی کو بہتر کرنے کے لئے کیا محض دعائیں ہی کافی ہیں یا پھر عملی طورپر بھی کچھ کرنا ہوگا۔ اور شاید ان ہی عملی اقدامات کے لئے سرکار تبدیل ہوئی اور موجودہ تبدیلی سرکار نے 2018 میں اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے وعدوں اور دعوؤں سے عوامی توقعات کا ہمالیہ کھڑا کرکے اسی بلندوبالا پہاڑ کی چوٹی پر فتح کا جھنڈا لہرا دیا۔

نئی حکومت کی تشکیل سے عوامی توقعات کو پہلی منزل تک رسائی نصیب ہوئی اطمینان ہوا کہ اب جلد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا اور وعدوں کی تکمیل کا ایک اچھا دور آئے گا۔ مگر کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد اگلا مرحلہ ہمیشہ واپسی کا ہوتا ہے۔ اور یہی کچھ ہوا کپتان نے سابق حکمرانوں کی معاشی بداعمالیوں اور قرضوں کے بوجھ کے ساتھ ساتھ اپنے وعدوں کا اضافی بوجھ اٹھا کر واپسی کا سفر شروع کردیا۔ مزید نئے قرضے حاصل کیے گئے اور معیشت کی بہتری کے لئے کام شروع کردیا گیا۔

عوام کو نوید سنائی گئی کہ اب معیشت سنبھلنے لگی ہے کرپشن کا دروازہ بند ہوچکا ہے مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کہ مترادف معیشت کی بہتری کی خبریں سنتی ہوئی عوام کی اپنی معاشی حالت دگرگوں ہونے لگی۔ بے روزگاری میں اضافہ ہونے لگا مہنگائی کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور اضطراب بڑھنے لگا۔ اپوزیشن نے حکومتی ناکامی کا شور مچانا شروع کردیا۔ حالانکہ اپوزیشن کا یہ شور بے جا ہے کیونکہ اگر آج ان کو ملکی معیشت دے دی جائے تو وہ بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔ اس کی بہت اہم اور ایک بنیادی وجہ ہے اور وہ یہ کہ ہماری آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں جب تک ان میں توازن نہیں ہوتا کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ اور اسی وجہ سے موجودہ حکومت جب معاشی میدان میں ناکامی کے قریب تھی جس کا اظہار وفاقی وزیر شیخ رشید نے بھی کیا ہے تو دنیا میں کورونا وبا پھوٹ پڑی۔

کورونا جہاں ایک آفت ہے وہاں ناکام معاشی پالیسیاں بنانے والوں حکمرانوں کے لئے کسی رحمت سے کم نہیں ہے کیونکہ اس وبا سے ان کی نا اہلیوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ اور یہ صرف پاکستان کے ساتھ نہیں ہے اس وبا کا فائدہ بہت سے ممالک کو ہوا ہے۔ اب جبکہ کورونا کے سبب دنیا بھر کا معاشی پہیہ رک چکا ہے تو ان حالات میں پاکستان کے مقتدر حلقوں کوچاہیے کہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ایک بارپھر ملکی صورتحال کا جائزہ لیں، ملک کی معاشی، سماجی صورتحال کو بدلنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کریں۔

کورونا کے بعد کی دنیا ایک مختلف دنیا ہوگی اوربہتر ہے کہ اس کی تیاری ابھی سے شروع کردیں۔ ترقیاتی کاموں کے بنیادی اصول وضح کریں یاد رکھیں اورنج لائن، میٹرو اور پشاور کی بی آر ٹی جیسے منصوبے ہماری ضروریات نہیں ہیں ان سیاسی ڈراموں کو روکنے کے لئے ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دیں تاکہ پھر کوئی حکمران اس طرح کے بے فیض منصوبے شروع نا کرسکے۔ کرپشن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور قرضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ کرپٹ عناصر سے لوٹی گئی ملکی دولت واپس لی جائے، اپنی آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کیاجائے۔ اگر نیت کرلی جائے توکچھ بھی ناممکن نہیں ہے سب کچھ ہوسکتا ہے اور بہت بہتر ہوسکتا ہے مگر اس کے لیے پہلے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنی ہوگی اور ٹھیک سمت کا تعین کرنا ہوگا۔

رہی بات موجودہ حکومت کی تو یہ طے ہوچکا ہے کہ موجودہ بحران سے اکیلے نمٹنا اس کے یاپھرکسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے ایک نیا سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے اور یہ نیا سیاسی ڈھانچہ کیسا ہونا چاہیے اس کے خدوخال پر بحث کا آغاز ہوجائے تو اچھا ہے وگرنہ ہونا تو یہی ہے چاہے پھر با امر مجبوری ہی سہی۔

Facebook Comments HS