ہے اگر جذبہ تعمیر زندہ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کے اس ُپرآشوب دور میں ہر شخص مسائل کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مہنگائی اور بیروزگاری کا ایک طوفان ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ہر مکتب فکر ان حالات سے پریشان حال دکھائی دیتا ہے اور خاص طور پرنوجوان عدم تخفظ کا شکارہیں۔ ایسے حالات میں بھی ایسے درد دل رکھنے والے وہ نوجوان قابل تحسین ہیں جولوگوں کے دُکھ درد سمیٹنے اور ان میں آسانیاں بانٹنے کے لیے ہماوقت عملی طور پر میدان میں سرگرم عمل ہیں۔

ایک دوسرے کے کام آنا ان کے دُکھ درد میں شریک ہونا ہی انسانیت اور عبادت ہے۔ جو انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتے ہیں اور اس کے دُکھ درد کو ختم کر دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آنا ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثریت اس وقت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ انسان کی بنیادی سہولیات تعلیم، صحت، لباس، کھانا پینا اور گھر ہے۔ جو کہ کسی بھی فرد کی بنیادی ضرورت ہے۔ مگر زیادہ تر لوگ اس سے بھی محروم ہیں۔ اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

آج کے اس پرفتن دور میں جہاں بیشمار مسائل موجود ہیں مگر ان میں ایسے بھی موجود ہیں جو دوسروں کے لیے روشنی کی ایک کرن ہیں۔ جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ”میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں مگرآپ کے جوش و جذبے نے مجھے ابھی تک جوان رکھا ہوا ہے۔ آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنادیا ہے۔

“ نوجوان ملک و ملت کا مستقبل ہوتے ہیں قوم کے معمار اور قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں۔ وہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ ہر معاشرے میں ایسے کچھ نوجوان بھی موجود ہوتے ہیں جو بڑی خاموشی کے ساتھ فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں۔ جن کا مقصد صرف و صرف رضا الہی کا حصول ہے نا کہ ذاتی نمودنمائش۔ ایسے افراد کو شہرت کی فکر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے اندر کسی قسم کا کوئی لالچ ہوتا ہے۔ ایسے درد دل رکھنے والے نوجوان ہمارے معاشرے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جو ہمارے مسائل میں گھیرے افراد کی مدد کے لیے درددل اور تڑپ رکھتے ہیں۔

ایسے درد دل رکھنے والے نوجوان ہمارے معاشرے کی شان اور آن ہیں۔ جن کی بدولت نوجوان نسل میں شعور ی بیداری اور انسانیت کی فلاح کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہمارا بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ جہاں اچھے کام کو دیکھو اُس کو ضرور سامنے لانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ معاشرے میں اور لوگوں کو بھی ترغیب مل سکے اور وہ بھی اسی طرح کا جذبہ لیے قوم و ملت کی آبیاری کریں۔ ہمیں اپنے اندر اور معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے ہر وقت کوشش کرنی چاہیے تاکہ معاشرے میں موجود مسائل اور وسائل دونوں کو کم کیا جا سکے۔

جہاں بے شمار مسائل ہوں وہاں مثبت اور تعمیری سوچ بھی جنم لیتی ہے جس کی روشنی سے پورا معاشرہ جگمگا اُٹھتا ہے۔ ایسی ہی ایک تعمیری سوچ کا نام سیف فاؤنڈیشن ہے۔ سیف فاؤنڈیشن کا آغاز 2015 ء میں ہوا۔ اس سوچ کے ساتھ کہ ہمارے اردگرد کتنے ایسے خاندان موجود ہوں گے جن کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ کیوں نا رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں ان مستحق خاندانوں کے لیے فوڈ پیکج کا انتظام کیا جائے۔ یوں ایک دوست کے مشورے کے ساتھ اس کام کا آغاز ہوا۔

پہلے مرحلے میں 50 خاندانوں تک مخیر حضرات کے تعاون سے راشن کا ا نتظام کرنا تھا۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور مخیر حضرات کے تعاون سے پہلے سال ہی 100 سے زائد خاندانوں میں راشن کی تقسیم کا عمل مکمل کیا گیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے عید گفٹ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ڈونرز جو کہ لوکل کمیونٹی سے تھے ان سے اپیل کی گئی کہ اپنے بچوں کے کپڑے خریدتے وقت ان بے سہارا یتیم بچوں اور بچیوں کے بارے میں بھی سوچا جائے تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکے۔

اس میں پانچ سال سے پندرہ سال کے بچوں کو شامل کیا گیا اور اسی سال لوکل کمیونٹی کے تعاون سے تقریباً 56 بچے / بچیوں کے لیے کپڑے خرید کر عید پر تقسیم کیے گئے۔ یوں اس سفر کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور بعد ازاں اس کا نام سیف فاؤنڈیشن (SAFE ) سوشل الائنس فار فارسٹ انوائرمنٹ اینڈ ایجوکیشنل سپورٹ) رکھا گیا۔ سیف فاؤنڈیشن نے سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کے تعاون سے پہلی بار ارتھ آور بھی منایا۔

اس کے ساتھ ساتھ پلانٹیشن کی مختلف ایکٹویٹز میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پہلے سال کے بعد گلوبل سپورٹ ٹرسٹ ( جو کہ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے ) کہ تعاون سے دوسرے سال کم از کم تین سو خاندانوں کو راشن تقسیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک میں مزدور طبقہ اور مسافرحضرات کے لیے افطار پروگرام کا انعقاد بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ سیف فاؤنڈیشن گلوبل سپورٹ ٹرسٹ اور قطر چیرٹی کے تعاون اجتماعی قربانی کا اہتمام بھی کرتی ہے تاکہ مستحق افراد کو عید قرباں پر بھی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے۔ قطر چیرٹی کے تعاون سے سیف فاؤنڈیشن کی ٹیم نے رضاکارانہ طور پر تین سو خاندانوں میں کمبل، گدے، تکیے اور دیگر اشیاء تقسیم کی اور پروگرام کے انعقاد میں بھرپور رتعاون کیا۔

تعلیم کے میدان میں بھی سیف فاؤنڈیشن پیش پیش رہی ہے۔ لوکل کمیونٹی کے تعاون سے سیف فاؤنڈیشن یتیم اور بے سہارا بچوں اور بچیوں کے تعلیمی اخراجات میں بھی مالی معاونت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیف فاؤنڈیشن نے بے گھر افراد کے لیے گھر بنانے میں بھی اپنی بساط کے مطابق مالی امداد کی۔ یہ سب کچھ لوکل کمیونٹی کے جو ڈونرز حضرات ہیں ان کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

سیف فاؤنڈیشن کی ٹیم رضاکارانہ طور پر اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے دن رات اپنے کام میں مصروف ہے۔ رمضان پیکج پراجیکٹ ہو یا قربانی پراجیکٹ ہو سیف فاؤنڈیشن کی ٹیم بلامعاوضہ سب کام سرانجام دے رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ رمضان المبارک میں راشن کی پیکنگ سے لے کر تقسیم کے عمل تک جتنے بھی اخراجات آتے ہیں وہ سیف فاؤنڈیشن کی ٹیم اپنی جیب سے خود برداشت کرتی ہے۔ ڈونرز حضرات کے فنڈ میں سے اس مد میں اخراجات نہیں کیے جاتے۔

اس سال بھی رمضان المبارک میں سیف فاؤنڈیشن گلوبل سپورٹ ٹرسٹ کے تعاون سے 350 خاندانوں میں راشن کی تقسیم کرے گی۔ اب تک سیف فاؤنڈیشن تقریباً 2000 گھرانوں کو ان کی دہلیز پر راشن پہنچا چکی ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں جہاں پوری دنیا لاک ڈاؤن کی صورت حال سے دوچار ہے سیف فاؤنڈیشن کی ٹیم کا جذبہ اور ہمت میں کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ پہلے کی طرح اسی جوش و جذے اور ولولے کے ساتھ سیف فاؤنڈیشن کی ٹیم رمضان المبارک کے اس مہینے میں بھی لوگوں کے گھر گھر راشن پہنچانے کا اہتمام کر رہی ہے۔

میں ان کے مخلص جذبے اور ولوے کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں۔ اگر یہی جذبہ اور ولولہ ہمارے معاشرے کے باقی نوجوانوں میں بھی موجود ہو تو اس قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ یہ لوگ ہمارے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے۔ اور نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر ان کا ساتھ تعاون بھی کرنا چاہیے۔ تاکہ مستقبل کے پراجیکٹ میں مستحقین کی مزید بڑھ چڑھ کر مالی معاونت کے سلسلے کو جاری رکھا جائے۔

تحریر لکھنے کا مقصد کسی کی نمود و نمائش ہرگز نہیں ہے جہاں کہیں بھی اچھا کام دیکھو کوشش کرو کہ اس کو دوسروں تک بھی پہنچاؤ یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کیا آپ اور میں بھی ایسا نہیں کر سکتے اپنے ادرگرد ایسے لوگوں کو دیکھیں جو اس وقت مجبور اور لاچار ہیں۔ ان کی داررسی کرنے کی کوشش کی کریں۔ اگر نیکیاں اور اجروثواب آپ اور میں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کمانا ہے تو اس بار کوشش کریں کم از کم ایک فیملی کو ضرور سپورٹ کریں تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شامل ہو سکیں۔

اللہ رب العزت قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتے ہیں۔ ”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سودانے ہوں۔ اس طرح اللہ جس عمل کو چاپہتا ہے افرائی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست ہے اور علیم بھی۔“

آخر میں گلوبل سپورٹ ٹرسٹ اور لوکل کمیونٹی کا بھی شکرگزار ہوں جن کے تعاون سے ہر سال سیف فاؤنڈیشن رمضان المبارک کا اہتمام کرتی ہے اور زیادہ سے زیادہ خاندانوں تک راشن کی ترسیل کو یقینی بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ سب مخیر حضرات سے بھی التماس ہے کہ اس نیک کام میں بڑھ چڑھ کر سیف فاؤنڈیشن کے ساتھ جانی و مالی طور پر تعاون کیجیے تاکہ مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ مستحقین کو راشن کی فراہم کیا جا سکے۔ یہ جو پودا امجد میرصاحب (جو کہ اس فاؤندیشن کے بانی بھی ہیں ) نے لگایا ہے اس کو پانی دینا ہم سب کا فرض ہے۔ اس پودے کو ایک تناور درخت بنانے میں سیف فاؤنڈیشن کا ساتھ دیجیے تاکہ بے سہاروں کا چولہا چلتا رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply