طارق جمیل صاحب کو دو معافیاں اور مانگنی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے کبھی ایسا چاہا تو نہیں تھا کہ مولانا طارق جمیل صاحب سے متعلق اپنی رائے کسی پبلک فورم پر اس طرح پیش کروں۔ لیکن بھلا ہو مولانا طارق جمیل کاجنہوں نے خود ہی موقع فراہم کر دیا۔ اوراس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کے پیچھے فیض احمد فیض کی رہنمائی تھی، جو کہہ گئے کہ

بیداد گر سے شکوہ بیداد کچھ تو ہو
بولو کہ روز حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
بولو کہ روز عدل کی بنیاد کچھ تو ہو

میں یہ بتاتا چلوں کہ میں طارق جمیل صاحب کا حامی ہوں نا مخالف، مگر تسلیم کہ طارق جمیل پاکستان کی سب سے زیادہ مقبول مذہبی شخصیت ہیں۔ گو کہ پاکستان میں ان سے بہتر مذہبی علم رکھنے والے لوگ موجود ہیں، لیکن گفتار کے غازیوں کے سپہ سالار بلاشبہ طارق جمیل صاحب ہی ہیں۔ اور مولانا خود اس بات کا کریڈٹ لینے میں بھی کبھی کنجوسی نہیں کرتے کہ وہ پاکستان کی سب سے زیادہ سنے جانے و الے شخص ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ طارق جمیل صاحب قصہ گوئی میں مذہبی حلقے کے جاوید چوہدری ہیں۔ بات سے بات نکالتے ہیں، قصے پر قصہ سناتے ہیں، دل موہ لیتے ہیں، توجہ بالکل ہٹنے نہیں دیتے۔ اوراس میدان میں کوئِی ان کا ہم پلہ نہیں۔

یہ زبان ہی تو ہے جس سے طارق جمیل صاحب لوگوں کو قابو کرتے ہیں اور یہ زبان ہی ہے جس کو مولانا قابو میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ لیکن زبان ہی تو ہے، کیا جانے کب پھسل جائے۔ مگر منبر پر بیٹھا شخص تو مبرا ہے، اُسے ہر بات کہنے کی آزادی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کے فنڈ ریزنگ پروگرام میں مولانا کلائمکس کے طورپر شامل ہوئے، جیسے کسی فلم یا کہانی کے اہم موڑ پر کسی کردار کا سامنے آنا۔ مولانا اسی طرح سامنے آئے دعا کروائی۔ روئے، گڑگڑائے۔ ان کو دیکھ کر سیکڑوں لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رو دیے۔ یہ مولانا کا ہی کمال ہے کہ رلا دیتے ہیں۔

مگراس بار اور بھی کئی لوگوں کو رونا آیا، اور وہ رونا تھا مولانا کی سوچ پر۔ کہ کیسے انہوں نے کہہ دیا کہ کورونا وبا بے حیا خواتین کی وجہ سے ہے۔ گویا مولانا سمجھتے ہیں کہ پاکستان سمیت پوری دنیا پر جو افتاد ہے، اس کی وجہ خواتین کا ”ناچ گانا، بے حیائی اوربے غیرتی“ وغیرہ ہے۔ یہاں مولانا پدرسری معاشرے کے سفیر کے طور پر ابھرے، اوریہی وہ ذہنیت ہے، جس سے یہاں عام آدمی کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اُسے بتایا جاتا ہے کہ تیری حالت کا ذمہ دار تو خود نہیں کوئی اور ہے۔

لیکن چلیے اگر مولانا کی بات ایک لمحے کومان بھی لی جائے تو بھی حقیقت سے میل نہیں کھاتی، کیونکہ اکثریت ناچ گانے والی خواتین کی نہیں ہے۔ اکثریتی خواتین پوری دنیا میں ایسا نہیں کرتیں اور پاکستان میں تو ایسا کرنے والیاں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔ لیکن پھر بھی مولانا نے محدود ترین اقلیت کو اکثیریت کے عذاب کی وجہ قرار دیا۔ طارق جمیل جیسے لوگ ایسی بات کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح کے ہوائی جملے پھینکنے سے وہ جس آفاقی نظام انصاف کی ترویج کرتے ہیں، اسی نظام انصاف کی توہین ہوتی ہے۔ لیکن زبان جب چلنا شروع ہوتی ہے وہ صحیح غلط کب دیکھتی ہے۔

مجھے مولانا سے پوچھنا یہ ہے کہ مردوں کے کرتوت کیا اتنے اچھے ہیں کہ وہ کسی ”عذاب“ کی وجہ نہیں بنتے؟ دنیا میں، پاکستان میں، زیادہ خرابی کس میں ہے؟ مرد میں یا عورت میں؟ عورت نے مرد کو جنم دیا، عورت کو بازار کس نے دیا؟ یعنی مولانا کہ نزدیک مرد آزاد ہے؟ سانڈ ہے؟ جو چاہے کرے۔ کیا نظام قدرت، نظام فطرت سویا رہے گا؟ ہاں لیکن عورت کچھ نہ کرے، کیوں کہ عذاب آ سکتا ہے۔

طارق جمیل صاحب کیا یہ بتائیں گے کہ لونڈے باز مولوی جب معصوم بچوں کی معصومیت چھین لیتے ہیں تب قہر خداوندی کیوں نہیں آتا؟ جب مولوی حضرات حاکم وقت کی غلط بات پر آمنا صدقنا کرتے ہیں جب کوئی عذاب کیوں نہیں آتا؟ جب کوئی مولوی ٹی وی پر شراب پی کر لائیو گفتگو کرتا ہے، آپ کی حق گوئی کیوں نہیں جاگتی؟ جب منبر سے کفر کے فتوے جاری ہوتے ہیں تب خدا کا جلال کیوں حرکت میں نہیں آتا؟ جب مذہب کے نام پر سر کٹتے ہیں، مساجد میں بم دھماکے ہوتے ہیں تب کورونا جیسی وبا کیوں ہمارے سروں پر نہیں منڈلاتی؟

مزید یہ کہ مولانا گزشتہ چندہفتوں میں دو بار پبلک فورم پر عمران خان کو نیک سیرت کہہ چکے ہیں، باکرداربھی کہہ چکے ہیں، شاید مولانا کا حافظہ کمزور ہے یا مولاناکو حاکم وقت کی چاپلوسی کرنامقصود ہے؟ عمران خان آج جو بھی ہو، اس کا ماضی ایک پلے بوائے کا ہے، گو کہ مجھے ذاتی طور پر اس سے فرق نہیں پڑتا، لیکن طارق جمیل صاحب کے نزدیک مرد مومن کے جو بنیادی خواص ہیں، اس میں تو یہ اجزائے ترکیبی ممنوع ہیں نا؟ پھر آپ کیسے کسی کو سرٹیفکیٹ جاری کر سکتے ہیں؟

مولانا نے صحافت کے بارے میں بھی سویپنگ اسٹیٹمنٹ دی اور اسی رات معافی مانگ لی، اچھی بات ہے کہ معافی مانگ لی، مگر تول کے بولنے کا اصول مولانا پر زیادہ لاگوہوتا ہے۔ لیکن شاید انہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ آپ کی مقبولیت پر کون سا فرق پڑنا ہے۔ اس قوم نے ویسے ہی مولویوں کو ایمنسٹی دے رکھی ہے، وہ کچھ بھی کریں، کرنے دو۔ صحافی طاقتور تھے تو مولانا نے ایک سے زائد بار معافی مانگی، لیکن اس معاشرے کی عورت کمزور ہے۔ یہاں عورت اگر اپنے حق کے لئے مارچ کرے تو بے غیرت، آوارہ بد چلن کہلاتی ہے، اس لیے وہ آپ کے آگے خاموش ہے۔ شاید مولاناصاحب ان سے بھی معافی مانگ لیں، لیکن جس طرح زخم بھرنے کے بعد اس کا نشان رہ جاتا ہے، اسی طرح طارق جمیل صاحب کی زبان سے نکلے اس تیر کے زخم کے نشان پاکستانی خواتین کے دل پر موجود رہے گا۔

مولانا، آپ کا کہنا ہے کہ آپ کی بات پاکستان میں سب سے زیادہ سنی جاتی ہے۔ درست۔ کبھی غور کیجیے گا کہ آپ ہی کی بات سب سے زیادہ ان سنی بھی کی جاتی ہے۔ ورنہ پوری قوم کو آپ ان القابات سے بھلا کیوں یاد کرتے۔ ویسے خواتین کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم سے بھی آپ کی معافی بنتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ناصر طفیل کی دیگر تحریریں

Leave a Reply