حقائق کی دنیا بہت تلخ ہوتی ہے
انسانی شعور وبالیدگی کے ارتقائی سفر کے تسلسل کے دوران ایک وقت ایسا بھی تھا جب آسمانی سچ کو اولین حیثیت حاصل تھی اور مذہبی پیشواؤں کی باتوں پر آنکھ بند کر کے بھروسا کیا جاتا تھا۔ علمی ذرائع بہت ہی محدود تھے اور تحصیل علم کے ان وسائل پر بھی ایک طرح سے مذہبی کلاس کی اجارہ داری تھی۔ یہ مذہبی طبقہ ریاست کے معاملات میں بھی بھرپور طریقے سے دخل اندازی کرتا تھا اور ریاست کے ہر مضبوط ستون کے ساتھ ان کا گہرا گٹھ جوڑتھا دوسرے لفظوں میں دونوں ایک دوسرے کا حفاظتی لحاف تھے اور آڑے وقت میں ایک دوسرے کی ڈھال بن جاتے تھے۔
ریاستی سقم اور انتظامی ناکامیوں پر یہ مذہبی طبقہ اللہ کی طرف سے عذاب کا کہہ کر اور عوام کو صبر و شکر کا وظیفہ بتا کر ”مٹی پاؤ“ کا کردار ادا کیا کرتے تھے اور آج کل کی مذہبی کلاس بھی قرون وسطٰی کی اسی ذہنیت کو پسماندہ اور مفلوک الحال لوگوں میں سرایت کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور حکمران طبقے کو دیانت داری کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے۔ آج کی دنیا ماضی کی دنیا سے بالکل ہی مختلف ہے اور آج کا علم کثیرالجہت اور لاتعداد شاخوں میں تقسیم ہو کر ہمارے سامنے ظہور پذیر ہو چکا ہے۔
آج آپ ایک ساتھ بہت سارے علوم میں مہارت حاصل نہیں کر سکتے بلکہ آپ کو اپنی دلچسپی کی ایک ہی فیلڈ چننا ہوتی ہے اور اسی میں آپ سپیشلسٹ ہوتے ہیں۔ وسیع العلمی کے اس دور میں آگہی کا دائرہ بہت وسیع ہوچکا ہے اور کوئی بھی شخص بہت سارے علوم میں مہارت رکھنے کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔ اب ہم ایمانیات کے دور سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور آج کے باشعور انسان کو ایمانیات کے لفظی گورکھ دھندے میں الجھانا بہت مشکل ہو چکا ہے۔
آج سوال کا دور ہے اور بنے بنائے جوابات اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ آج کی مذہبی کلاس کے آگے بہت سارے سوالات کا ڈھیر ہے مگر وہ ان کا منطقی جواب دینے کی بجائے ہمیں حکمرانوں کا دیانت دار ہونے کا بتا رہے ہیں اور بائیس کروڑ عوام کو میڈیا سمیت جھوٹا ہونے کا بتا رہے ہیں۔ ہمیں تو آج پتا چلا ہے کہ زمیں پر عذاب عورتوں کی وجہ سے آتے ہیں۔ اس قسم کی سلیکٹڈ گفتگو سے اجتناب کر کے آپ کو آج کی دنیا کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے اور آج کے باشعور اذہان کے سوالوں کا جواب منطقی انداز میں دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہم کب تک اپنے ماضی کے گیت گاتے رہیں گے اور اپنی طفل باتوں کی لوریاں سنا کر لوگوں کو مسحور کرتے رہیں گے۔ جن کے پاس موجودہ میں کچھ نہیں ہوتا وہ اپنے آپ کو سر بلند رکھنے کے لیے اپنا رشتہ کبھی ماضی سے جوڑتے ہیں اور کبھی مستقبل سے مگر فری تھنکنگ، سیکولرازم، اور ہیومنزم کے اس دور میں خیالی باتوں کے گورکھ دھندوں سے کام نہیں چلے گا۔ یہ معلوما ت کے سیلاب کا دور ہے اور ہر قسم کا علم آپ کی انگلیوں کی پوروں پر منتقل ہو چکا ہے اور گوگل کی صورت میں ایک علمی دروازہ معرض وجود میں آچکا ہے، اسی دروازے کی بدولت حقائق کا معائنہ کر کے ہر قسم کے جھوٹ کو چند سیکنڈز میں الگ کیا جاسکتا ہے۔
حقائق کی بجائے اپنی خواہشوں پر یقین رکھنے والی ذہنی کیفیت وقتی اطمینان کا باعث تو ہوسکتی ہے مگر دیر پا یا مستقل طور پر کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی۔ یاد رکھیئے تنقید سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہوسکتا، انسان اور انسانی تصورات کبھی بھی اتنے مقدس نہیں ہو سکتے کہ ان پر کوئی سوال نہ اٹھایا جائے یا تنقید کے عمل سے نہ گزارا جائے۔ تنقید کرنے سے یا سوال اٹھانے سے چیزیں واضح ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور تفکر و تدبر کو مہمیز ملتی ہے۔
سوچ کا یہی تسلسل روایات و عقائد کی بلند و بالا دیواروں کو مسمار کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے ان ساری باتوں کا ماحاصل یہ ہے کہ آج کا دور ڈائیلاگ کا ہے اور مونو لاگ کا دور گزر چکا ہے۔ آج کے جدید اذہان اڑن کھٹولے اور الف لیلٰی قسم کی کہانیاں اور تصورات سے بہلنے والے نہیں ہیں۔ مائیکروسکوپ، ٹیلی سکوپ اور سائنسی لیبارٹریز کے اس دور میں تصوراتی چسکوں سے کام نہیں چلے گا ہر دور کا اپنا سچ ہوتا ہے اور کوئی بھی سچائی حتمی نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔
Man is wise only while in search of wisdom when he imagines he has attained it, he is a fool.


